ایپل فون کو ماسک پہنے ہوئے بھی ان لاک کیا جا سکے گا

آئی فون آپریٹنگ سسٹم کے نئے اپ ڈیٹ کے بعد اسے استعمال کرنے والے ماسک پہننے کے باوجود بھی اپنے فون کو ان لاک کرنے کے لیے فیس سکین کا استعمال کر سکیں گے۔

ابھی تک تو جب بھی ماسک پہنے ہوئے فون کھولنے کے لیے فیس آئی ڈی کو استعمال کرنے کی کوشش کریں تو ایک سکرین متحرک ہوتی ہے اور صارفین کو اپنا پاس کوڈ ٹائپ کرنے کے لیے کہتی ہے، جو کہ کئی ایک کے لیے الجھن پیدا کرتی ہے اور انھیں بری لگتی ہے۔

iOS 14.5 اپ گریڈ اس مسئلے کو حل کرے گا۔

لیکن پھر بھی صارفین کو اسے ان لاک کرنے کے لیے ایپل کی تازہ ترین سمارٹ گھڑیوں میں سے ایک کو پہننے کی ضرورت ہو گی۔ کیونکہ ان کے بغیر یہ ابھی ممکن نہیں ہے۔

واچ سیریز 3 یا بعد میں آنے والی کسی گھڑی کو پہننا لازم ہے، جسے صارف نے پہلے ہی ان لاک کیا ہوگا۔ یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ سکیورٹی ممکن بنائی جا سکے کیونکہ ماسک پہنے ہوئے چہرے کا سکین زیادہ تفصیل سے نہیں ہو گا۔

اضافی سائن اِن

سافٹ ویئر کا بیٹا ورژن ڈویلیپرز کو مہیا کیا جا چکا ہے اور امید ہے کہ اسے آہستہ آہستہ رول آؤٹ کر دیا جائے گا۔

لیکن اسے فون کی ڈیفالٹ سیٹنگز میں جا کر خود ڈاؤن لوڈ کرنا ہو گا اور ایسا خود بخود نہیں ہوگا۔

اور یہ صرف ہینڈ سیٹ کو ان لاک کرے گا، جبکہ ابھی ’ایپل پے‘ کو ایکٹیویٹ کرنے یا ایپ سٹور، آئی ٹیونز یا سفاری ویب براؤزر سے خریداری کرنے کے لیے یقیناً اضافی سائن ان کی ضرورت ہو گی۔

سنہ 2020 میں چینی محققین نے تجویز دی تھی کہ ماسک پہنے ہوئے چہرہ پہچاننے کے لیے فیس آئی ڈی اس طرح سیٹ کی جا سکتی ہے کہ ماسک کو آدھا تہہ کر کے اسے چہرے کے نچلے حصے پر رکھا جائے اور پھر ری سکین کیا جائے۔

iris scanner on phone

دریں اثنا، اینڈروئڈ ڈیوائسز نے چہرے کی شناخت ان لاک کرنے کے لیے ابھی تک کوئی سرکاری حل نہیں نکالا ہے۔

سنہ 2017 میں سام سنگ نے ایک آئرس (آنکھ کی پتلی) سکینر لانچ کیا تھا جو اس کی گیلیکسی S8 اور S9 سیریز میں نمایاں تھا۔

لیکن اس کے جاری کردہ پہلے ورژن کو جرمن ہیکرز نے ایک پرنٹر اور ایک کانٹیکٹ لینز کا استعمال کرتے ہوئے کامیابی سے ہیک کر لیا تھا۔

اس وقت سام سنگ نے کہا تھا کہ اس کو مؤثر بنانے کے لیے ’حالات کے ایک نایاب امتزاج‘ کی ضرورت ہو گی۔

لیکن اب اس نے اس فیچر کو ترک ہی کر دیا ہے۔

error: