ایپوفس: تین فٹبال میدانوں جتنے بڑے سیارچے سے زمین کو ’سو سال تک خطرہ نہیں‘

امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے تصدیق کی ہے کہ کم از کم اگلے 100 سالوں تک ’ایپوفس‘ نامی سیارچے کے زمین سے ٹکرانے کا کوئی امکان نہیں ہے، لہٰذا زمین پر رہنے والے اب سکون کا سانس لے سکتے ہیں۔

سنہ 2004 میں اس سیارچے کی دریافت کے بعد سے ناسا نے ایپوفس کو زمین کے لیے سب سے خطرناک سیارچہ قرار دیا تھا۔

سنہ 2029 اور 2036 میں اس سیارچے کے زمین سے ٹکرانے کی پیش گوئی کی گئی تھی لیکن بعد میں اسے رد کر دیا گیا۔ تاہم سنہ 2068 تک تھوڑا سا خطرہ باقی رہنے کا امکان تھا۔

لیکن اب نئے تجزیے کی بنیاد پر ناسا نے اس خطرے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔

ناسا کے لیے زمین کے قریبی اجسام کا مطالعہ کرنے والے ایک سائنس دان ڈیوڈ فرنوکیا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’سنہ 2068 میں خطرے کا کوئی امکان نہیں ہے اور ہمارے حساب سے کم سے کم اگلے 100 سالوں تک زمین کو اس سیارچے سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘

افراتفری پھیلانے اور تاریکی کے قدیم مصری دیوتا کے نام سے منسوب، ایپوفس 340 میٹر (1100 فٹ) چوڑا ہے۔ یہ برطانیہ کے تین فٹ بال گراؤنڈز جتنی لمبائی کے برابر ہے۔

حال ہی میں پانچ مارچ کو یہ سیارچہ زمین کے کچھ فاصلے پر سے گزرا تھا۔ یہ ہمارے سیارے سے ایک کروڑ 70 لاکھ کلومیٹر (لگ بھگ ایک کروڑ میل) کے فاصلے پر تھا۔

Sample grab

ماہرین فلکیات سورج کے آس پاس موجود سیارچوں کے مدار کے بارے میں تخمینے کو بہتر بنانے کے لیے ریڈار سے لگائے گئے اندازے کو استعمال کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، جس کی مدد سے انھیں معلوم ہوا کہ سنہ 2068 تک اس سیارچے سے زمین کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

فرنوکیا کا کہنا ہے ’کالج سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد جب سے میں نے سیارچوں پر کام کرنا شروع کیا، اس وقت سے ایپوفس کو خطرناک سیارچوں کی سب سے بہترین مثال کہا جاتا تھا۔ اسے خطرے کی فہرست سے ہٹتتے دیکھنا اطمینان کا ایک خاص احساس دلاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ناسا والے ’سنہ 2029 میں اس کے زمین کے قریب آنے والے وقت کے منتظر ہیں تاکہ اس موقع پر مزید سائنسی حقائق سے پردہ اٹھایا جا سکے۔‘

خطرناک حد تک قریب

فرنوکیا نے جس موقع کا حوالہ دیا ہے وہ 13 اپریل 2029 کو وقوع پذیر ہو گا۔ اس تاریخ کو یہ سیارچہ زمین کی سطح سے 32 ہزار کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا جو زمین اور چاند کے درمیانی فاصلے کا تقریبا دسواں حصہ ہے۔

سنہ 2029 میں اس موقع پر ایپوفس کو مشرقی نصف کرہ زمین سے دیکھا جا سکے گا جس میں ایشیا، افریقہ اور یورپ کے کچھ علاقے شامل ہیں۔

A pixelated images of asteroid Apophis

ناسا کے 5 مارچ والے مشاہدے کے برعکس اس موقع پر کسی قسم کی دوربین کی ضرورت نہیں ہو گی۔ ناسا کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود سیارچے کی ریڈار سے لی گئی تصاویر کی قابل ذکر ریزولوشن تھی۔

ناسا کی سائنس دان مرینہ بروزووک کا کہنا تھا کہ ’اگر ہمارے پاس اس ریڈار کی طرح کی دوربین موجود ہو تو ہم لاس اینجلس میں بیٹھ کر نیویارک کے ایک ریستوران میں رات کے کھانے کا مینیو پڑھ پائیں گے۔‘

ممکنہ طور پر تین خطرناک سیارچے

ناسا ان سیارچوں پر نظر رکھتا ہے جو کسی وقت زمین کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، اور انھیں ممکنہ طور پر خطرناک سیارچوں (پی ایچ اے) کے نام سے منسوب کرتا ہے۔

ان سب کے کوڈ نیم سٹار وار فلم سیریز کے روبوٹس کے ناموں پر رکھے گئے ہیں اور یہ تین ہیں۔

1950 DA

  • یہ سیارچہ غائب ہونے سے قبل 23 فروری 1950 کو دریافت ہوا تھا
  • آخر کار نصف صدی کے بعد اسے دوبارہ دریافت کیا گیا جس سے سائنسدانوں کو 1.3 کلومیٹر کے اس سیارچے کے بارے میں نئے تخمینے لگانے کا موقع ملا
  • اندازوں کے مطابق 16 مارچ 2880 کو ممکنہ طور پر اس کے زمین کے قریب سے گزرنے کا امکان ہے
  • لیکن براہ راست ٹکراؤ کے امکانات کم ہیں۔ ناسا کا کہنا ہے کہ اس کے زمین سے ٹکرانے کا 0.012 فیصد امکان موجود ہے

2010 RF12

  • 2010 میں دریافت ہونے والا آر ایف 12 زمین پر ٹکرانے کے امکان کے لحاظ سے ناسا کی واچ لسٹ میں سرفہرست ہے
  • اس سیارچے کے زمین سے ٹکراؤ کا چار اعشاریہ سات فیصد امکان ہے، اور اس کے قطر کا تخمینہ سات میٹر لگایا گیا ہے
  • ناسا کی پیش گوئی کے مطابق یہ موقع پانچ ستمبر 2095 کو وقوع پذیر ہو سکتا ہے
  • اگرچہ یہ زیادہ خوفناک لگتا ہے تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کیونکہ یہ سیارچہ نسبتاً چھوٹا ہے اس لیے یہ زمین کے لیے کوئی بڑا خطرہ نہیں بنے گا

2012 HG2

  • ناسا نے پیش گوئی کی ہے کہ اس سیارچے کا زمین سے پہلا ممکنہ ٹکراؤ 12 فروری 2052 کو ہونے کا امکان ہے
  • ناسا کی واچ لسٹ کے مطابق تقریباً 14 میٹر قطر کی پیمائش والے اس سیارچے HG2 کے زمین پر سب سے زیادہ اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے
  • لیکن چونکہ یہ سیارچہ نسبتاً چھوٹا ہے لہٰذا شاید یہ زمین کی فضا میں داخل ہونے پر جل جائے گا
error: