ایک افسانہ ۔۔ عظمی

آفس میں کام کرنے سے فارغ ہونے کے بعد دونوں اپنی پسندیدہرومانوی ریستوراں میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ایاز نے عظمی کو دیکھتے ہی گہری سانس لی، اس کے ہونٹوں کو گھورتے ہوئے اپنا تھوک نگلا، عظمی کو گلے لگانے اور اسے اپنے دل کے قریب محسوس کرنے کی شدید خواہش محسوس کی۔ایاز نے عظمی سے کہا " عظمی!  میں تمہاری ہتھیلی کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ کیا تم مجھے اپنے ہاتھ دکھا سکو گی"؟ مگر ایاز نے عظمی کا جواب انتظار نہیں کیا اور عظمی کے نازک ہاتھ کو اپنی انگلیوں کے درمیان تھام لیا، جسے اس نے نہ پہلے کبھی چھوا تھا نہ کبھی اس سے ہاتھ ملایا تھا۔ عظمی نے اپنے چہرے کے تاثرات پر قابو پانے کی کوشش کی، اپنے جسم میں پھیلنے والی کپکپی کے خلاف جدوجہد کی اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے کھینچنے کی کوشش کر کے کہا" ایاز! پلیز میرا ہاتھ چھوڑو۔"  ایاز نے عظمی کی آنکھوں میں اپنی آنکھیں ڈال کر دیکھا ، اس کے شرمانے اور کمزور اعتراض کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نہایت دھیمی پیارے سے لہجے میں کہا" عظمی! میرے پاس بہت سی کہانیاں  ہیں جو میں تم کو سنانا چاہتا ہوں پھر عظمی کی ہتھیلی کو دیکھ کے کہا: اس خوبصورت نرم ہتھیلی پر ابھی اپنے دل کی دوات سے میں تمہارے لئے ایک نظم لکھنا چاہتا ہوں۔۔ نظم کا عنوان ہے" میری جان“ عظمی نے شرماتے ہوئے ایاز کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا اور کہا کہ" مجھے تم سے بات کرنا اچھا لگتا ہے حالانکہ میرے پاس کبھی کبھی کہنے کو زیادہ نہیں ہوتا ہے۔ تم سے بات کرنے سے میرے دل کی ہر پریشانی ٹھیک ہوجاتی ہے، مجھے تمہارے سوا کسی سے بات کرنے کی خوشی محسوس نہیں ہوتی۔ میں تم کو سننے اور تم سے بات کرنے کی عادی ہوگئی ہوں۔ اگر تم میرے دل پر اپنی گفتگو کا عکس دیکھ سکتے ہوتے تو تم ہر وقت مجھ سے بات کرتے رہتے۔"  ایاز خوش ہو کر بولا: "اور تم سے گفتگو کرنا ہزار بادلوں کو گلے لگانے جیسا ہے۔ تم سے بات کرنا دنیا کا  دوسراخوبصورت احساس ہے۔ پتہ ہے عظمی! پہلا کیا ہے؟"  عظمی نے بے ساختہ پوچھا: "پہلا کیا ہے؟۔"
ایاز نے عظمی کی بڑی اور خوبصورت آنکھوں میں جھانک کے کہا:  پہلا تمہاری آنکھوں میں جھانکنا ۔ “  عظمی نے شرما کر اپنا چہرہ جھکا لیا۔ لیکن ایاز نے آہستہ سے اپنا ہاتھ اس کے چہرے پر رکھ کے چہرے کو اٹھایا اور کہا "جان! میری طرف دیکھو۔۔۔جب تم چپ ہوجاتی ہو تو میں تمہاری آنکھوں میں وہ گفتگو  پڑھ سکتا ہوں جسے تم اپنی زبان سے بیان کرنے سے قاصر ہو! تمہاری تمام گفتگو خوبصورت ہے، چاہے وہ صرف سانس ہی کیوں نہ ہو۔ عظمی جان! تم اپنے دل میں معصومیت رکھتی ہو، میں صرف تم سے بات کر کے اپنے اندر امید اور زندگی کی محبت کا بیج بوتا ہوں۔ میں تم سے پیار کرتا ہوں اور تم کو کھونا نہیں چاہتا۔ ابھی جی چاہتا ہے کہ میں تیری آنکھوں کو ایک بار چوموں اورتمہارے  سینے پر سر رکھ کر سو جاؤں"۔ عظمی نے ایاز کی جذباتی باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا ۔ وہ شرم سے مسلسل سر جھکائے تھی، پھر اس نے محسوس کیا کہ ایاز اس کے بالوں کو سہلا رہا ہے۔ اس نے جلدی سے ایاز کا ہاتھ پکڑ کر اس کو جھٹکے ہوئے کہا"ایاز!  بند کرو یہ حرکتیں! تم کیا کر رہے ہو؟"
ایاز اسے دیکھ کر مسکرایا اور ہاتھ جھٹکنے کی پروا کئے بغیر اس نے عظمی کی کشیدہ پیشانی پر ہلکا سا بوسہ ثبت کر دیا۔
عظمی دھیمی آواز میں بولی: "ایاز۔۔۔"۔ ایاز اپنا نام سرگوشی کے انداز میں سن کر پاگل ہو گیا اور پھر اپنی انگلیوں کو عظمی کے نرم بالوں میں آزادی کے ساتھ پھیرنے لگا۔ عظمی ایاز کی بانہوں میں گرنے لگی اور مکمل طور پر پگھل گئی ، پھر ایاز نے اپنا چہرہ اس کے بالوں میں چھپا لیا۔ 
ایاز اپنے جذبات پر قابو  نہیں رکھ پا رہا تھا، ہانپتے ہوئے بولا: "عظمی! مجھے … مجھے ۔۔۔ تم سے بے حد پیار ہے جان ۔۔۔عظمی ۔۔۔عظمی" جب ایاز کی نیند ٹوٹی تو وہ عظمی عظمی ہی بڑ بڑا رہا تھا۔ اس کا پورا جسم پسینہ  پسینہ تھا۔ اس نے ارد گرد نگاہ ڈالی تو اس کی بیوی نظری آئی جو اس کی  بغل میں گہری نیند سوئی تھی۔آنکھیں کھلیں تو ایاز کی سمجھ میں آیا کہ وہ  صرف ایک خواب اور فقط ایک خواب تھا۔ ایاز نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور دوبارہ بستر پر لیٹ گیا۔ اس مسلسل خواب کے بارے میں سوچنے لگا جو ایک بھڑکتی ہوئی آگ کی طرح چاروں طرف سے اس کو بھسم کر رہی تھی اور اس کو  جلا رہی تھی۔ وہ سوچتا رہا کہ یہ خواب کیوں بار بار اسے دکھائی دیتا ہے؟ کیا اس لئے کہ اس کے دل میں عظمی کے لئے تڑپ تیز ہو گئی؟ وہ یہ بھی سوچنے لگا کہ شادی شدہ ہونے کے بعد بھی کیا وہ عظمی سے پوری زندگی اس قدر شدت سے محبت کرتا رہے گا؟ وہ جانتا تھا کہ اس کے پاس فرصت نہیں ہے، ضروریات زندگی پورا کرنے کے لئے اسے صرف کام پر دھیان دینا ہے۔ اس کے پاس عشق کرنے لئے وقت ہی کہاں ہے؟ پھر کیوں وہ عظمی  کی محبت میں گرفتار ہوتا جا رہا ہے؟ اصل میں عظمی اور ایاز گھروں کی تزئین کاری interior designing   کرنے والے ایک آفس میں کام کرتے تھے اور کام کاج کےدوران ہی دونوں کو ایک دوسرے سے پیار ہو گیا۔ خاص بات یہ ہے کہ عظمی نے بذات خود ایاز سے پہلے اظہار محبت کیا تھا اور پھر ایاز بھی اس کو اپنی روح کا ساتھی سمجھنے لگا ، یہاںتک کہ عظمی سے  ملاقات کے بعد اسے ہر چیز عظمی کی طرح لگنے لگی تھی۔ اسے اپنی زندگی میں اب تک عظمی کا جیسا کوئی پاک دل نہیں ملا تھا۔ عظمی کی شخصیت میں معصومیت  بھی تھی شرارت بھی ، بے ساختگی بھی تھی اور چنچل پن بھی ، وہ ضدی بھی تھی نرم دل بھی اورپرکشش ایسی کہ دیکھنے والوں کے ہوش گم ہو جائیں۔ 
بستر پر لیٹے لیٹےایاز کو وہ رات یاد آ گئی، جب عظمی نے اس کو کال کر کے روتے ہوئے کہا" ایاز! میری مدد کرو، اچانک مما بے ہوش ہو گئیں ۔۔ اتنی رات ہے اور میں گھر میں اکیلی ہوں ۔۔ میرے والد ایک کاروباری دورے پر ہیں.. مجھے معلوم نہیں کہ کیا کروں۔"
ایاز کو اچھی طرح سے یاد تھا کہ وہ ایک پل کی تاخیر کئے بغیر عظمی کے گھر پہنچ گیا تھا اور اس کی ماں کو  ہسپتال لے گیا تھا۔ دو دن تک وہ عظمی اور اس کی ماں کے ساتھ رہا۔ یہاں تک کہ وہ رات آئی جس کی ایاز کو توقع نہیں تھی۔ اس رات عظمی کے والد سفر سے واپس آئے تھے ، جیسے ہی وہ ہسپتال پہنچے اور ایاز کو اپنی بیٹی کے ساتھ انھوں نے دیکھا تو ان کو لگا کہ یہ نوجوان  ان کی بیٹی سے پیار کرتا ہے۔ عظمی کے باپ نے ایاز کو ایک کونے میں بلا کے اس کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے اس کی عدم موجودگی میں اور مشکل وقت کے دوران اس کی بیوی اور بیٹی کو سنبھالا۔ پھر ایاز سے پوچھا: "بیٹے! تم کیا کام کرتے ہو ؟"
ایاز نے جواب دیا" جی ،میں عظمی کے ساتھ ہی interior designing کے آفس میں کام کرتا ہوں۔"“اچھا! اور عظمی سے پیار کرتے ہو بھی، ہے نا۔" عظمی کے والد نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ پسینے سے شرابو ایاز نے جواب دیا: “جی سر اور اس سے شادی کرنے کا خواہش مند بھی ہوں"۔"اچھا! تو بتاؤ  تم کتنا کماتے ہو"؟ عظمی کے والد نے دریافت کیا“  ایاز نے ہلکے سے کہا"سر! تیس ہزار روپئے “
بس تیس ہزار؟اتنی کم تنخواہ؟ اس کے علاوہ بھی کیا تمہاری آمدنی کا کوئی ذریعہ ہے؟ عظمی کے والد نے پوچھا
جی نہیں سر! یہ میر ی کل آمدنی ہے، میں اسی  آمدنی سے اپنی خاندان کی کفالت کرتا ہوں"۔
“بیٹے! کیاتم کو لگتا ہے کہ کیا اتنی قلیل آمدنی میں میری بیٹی  کے ساتھ زندگی گزار سکو گے؟ عظمی ابھی تک اعلی معیار کی زندگی گزارتی رہی ہے اور تم اتنی کم آمدنی سے یقینی طو پراس کی ضروریات زندگی پوری نہیں کر سکو گے!!! تیس ہزار روپئے تو عظمی کا میک اپ اور ڈریس کا خرچہ ہے۔”ایاز نے جواب میں اپنا سر جھکا لیا، جواب میں اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا۔عظمی کا باپ  بولتا رہا "دیکھو بیٹے! اگر تم عظمی سے شادی کرو تو تم اس کے ساتھ ظلم کرو گے کیونکہ تم اسے خوش نہیں رکھ سکیں گے۔ اگر تم واقعی اس سے محبت کرتے ہو تو تم اسے کسی اور سے شادی کرنے دو جو اسے خوش رکھ سکے، اسے مناسب معیار زندگی فراہم کر سکے، اور میری نظر میں ایک ایسا لڑکا موجود ہے۔ وہ میرے ایک دوست کا بیٹا ہے جو ڈنمارک میں رہتا ہے۔ اس نے مجھ سے سفر میں ملاقات کی اور عظمی کا ہاتھ مانگا اور میں نے اپنی رضامندی بھی ظاہر کی"۔ ایاز نے آنسو بھری آنکھوں کو چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے عظمی کے باپ سے کہا "جی سر! آپ درست کہہ رہے ہیں"۔ پھر وہ چپ چاہپ اٹھا اور باہر نکلنے لگا ۔
عظمی نے اپنے والد سے گفتگو ختم کرنے کے بعد ایاز کو جاتے ہوئے دیکھا تو اس کے پیچھے دوڑی۔اس کے اداس چہرے اور آنسو بھری آنکھوں کو دیکھا تو اسے روک کے پوچھا" کیا ہوا؟  تم اس طرح جا کیوں رہے ہو؟ بابا نے تم سے کیا کہہ دیا"؟
ایاز اشکوں سے چھلکتی آنکھیں پوچھتے ہوئے بولا" عظمی! انہوں نے بتایا کہ تمہاری شادی طئے ہو گئی ہے، میں تمہاری خوشگوار اور مسرت بھری زندگی کی دعا کرتا ہوں۔ میں اس قابل نہیں کہ تمہیں خوش رکھ سکوں"۔
عظمی نے ایاز کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا اور آنسو  بھری آنکھوں اور رندھی ہوئی آواز میں بولی: "ایاز! ایسا مت کہنا! میں تمہارے بنا جی نہیں سکوں گی"۔ ایاز نے عظمی کی بات سن کر جیب سے رومال نکالا اور عظمی کو آنسو پوچھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا" اداس ہونے کی ضرورت نہیں وقت ہر رنجھ کو ہر دکھ کو مٹا دیتا ہے۔ خدا ہمارے اس دکھ کو بھی مٹا دے گا"۔ یہ کہہ کر اس نے عظمی کے ہاتھ سے اپنا رومال لیا اور آگے بڑھ گیا۔
 اس دن کے بعد سےایاز سسکتے سسکتے اس رات کے ہر لمحے کو یاد کرتا ہے، وہ رات جو اس کی زندگی کی بدترین رات تھی۔ اسے معلوم تھا کہ اس  رات عظمی بھی اس قدر روئی تھی کہ اس کی پوری طرح سرخ ہوگئی تھیں ۔ پانچ سال قبل اس رات کے بعد سے آج تک ایاز کو بھی ایک پل آرام نہیں ملا تھا مگر  اپنے درد کے بارے میں کبھی وہ کسی کو بتا نہیں سکا۔
نیند سے بیدار ہوتے ہی ایاز کام پر جانے کی تیاری کرنے کے لئے بستر سے اٹھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ خواب سارا دن اس کی آنکھوں کے سامنے گھومتا رہے گا پھر بھی کام پر جانا تو اس کی مجبوری تھی۔ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ عظمی کو کبھی بھول نہیں پائے گا، عظمی نے اسے اتنا پیار دیا تھا کہ بھولنے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ بھولنے کی کوشش کرنا بھی فضول تھا کیونکہ اس کے دل کی ہر دھڑکن سے عظمی عظمی کی آواز بلند ہوتی تھی ۔ کام کی مصروفیت کے دوران اور راتوں کے ہجوم میں بھی اس کی نظر کے سامنے عظمی کا چہرہ ابھرتا رہتا تھا۔ وہ رات کو بھی اس کے خوابوں کو سجاتی ، اس کی آواز کانوں میں رس گھولتی اور اس کی کھلکھلاتی ہنسی  ہوا کے جھونکوں کے ساتھ اس کی یادوں سے مسلسل ٹکراتی رہتی تھی ، ایاز جانتا تھا کہ وہ کچھ بھی کر لے عظمی کی یادیں اس کے دل سے کبھی محو نہیں ہو سکتیں۔
  بے خوابی اور تھکن سے چور ایاز نے آفس پہنچ کر سوچا کہ کیوں نہ ایک بار عظمی کی آواز سن لوں ۔ اسے احساس محرومی  اند ر ہی اندر کھائے جا رہا تھا اور ایک کمی کا کرب روح کو جھنجھوڑ رہا تھا۔اس کی خواہش تھی ایک بار عظمی کی آواز سن کر ذہن پر چھایا ہوا درد کا غبار چھاٹ دے اور دل کو کھا رہے درد سے کچھ پل کے لئے نجات پا لے۔اس کا دل کہتا تھا کہ عظمی کو گلے لگانے کی آرزو بھلے ہی پوری نہ ہو کم سے کم اس کی آواز سن کر دل کی اداس وادیوں میں سکون کے کچھ رنگ بھرے جائیں۔ اس نے جیب سے موبائل نکالا اور عظمی کا نمبر ڈائل کیا ۔ ادھر سے آواز آئی “ہیلو! کون"؟ 
" میں ایاز ہوں عظمی "۔ادھر سے آواز آئی "اوہ ایاز۔۔۔۔ اچھا"۔  ایاز نے خوش ہوکر پوچھا" کیسی ہو تم"۔  ادھر سے آواز آئی" میں اچھی ہوں ۔ بہت خوش ہوں، اور اپنے شوہر سے بہت پیار کرتی ہوں، پلیز مجھے دوبارہ کال مت کرنا۔ ورنہ میری زندگی میں تمہاری وجہ سے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں"۔ عظمی نے اتنا کہہ کر فون کاٹ دیا۔ عظمی کی بات سن کر ایاز کے سارے سپنے ایک پتھر کے پڑنے سے شیش محل کی طرح چھن سے ٹوٹ گئے۔ اس کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ عظمی نام کے جس خواب کو وہ اپنی پلکوں پر سجائے تھا اس کی کوئی تعبیر نہیں تھی لیکن اس کے فہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ خوابوں کا محل ایسے چکنا چور ہوجائے گا کہ عظمی اس کی آواز تک سننا پسند نہیں کرے گی۔ وہ دیر تک موبائل کو کانوں سے لگائے خالی آنکھوں سے آسمان کو گھورتا رہا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.