ایک انتشار پسند کی ہار

زندگی میں کچھ لوگوں سے واسطہ ایسا پڑتا ہے کہ ذہن اس بات سے الجھ کر رہ جاتا ہے کہ دنیا کیسے کیسے لوگوں سے بھری پڑی ہے۔یہ لوگ کبھی محلّے، تو کبھی بازار، تو کبھی رشتہ دار تو کبھی خاندان میں پائے جاتے ہیں۔ایسے لوگوں سے سابقہ ہمارا اور آپ کا کبھی نہ کبھی ہو ہی جاتا ہے۔

ایسا ہی ایک شخص ’ڈونلڈ ٹرمپ‘ نام کا امریکہ میں منظر عام پر آیا۔ پہلے تو یہ اطلاع ملی کہ جناب صاحبِ دولت ہیں، پھر سیاست میں بھی دلچسپی لے رہے ہیں اور آخر کار جس کا ڈر تھا وہی بات ہوگئی۔ یعنی حضرت اپنی اوٹ پٹانگ باتوں اور زہر افشاں تقاریر سے امریکی عوام کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو گئے اور 2016میں امریکہ کے صدر منتخب ہو گئے۔ یعنی یوں کہئے امریکی الیکشن سسٹم کے تحت برتری نہ ملنے پر دونلڈ ٹرمپ کو ’کالج‘ ووٹنگ کے تحت امریکہ کا صدر مقرر کر دیا گیا۔ بس کیا تھا جناب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے جارحانہ انداز میں پوری دنیا کو ایک ایسا خوفناک پیغام دیا کہ ہمارے ہوش اُڑ گئے۔ مثلاً اسرائیلی زمین ہڑپنے کی حمایت، ایران پر معاشی پابندی، ایران کے نیوکلئیر معاہدہ کو رد کر دینا، پیرس کے عالمی ماحولیاتی کو نظر انداز کرنا، میکسیکو سرحد پر اونچی دیواروں کی تعمیر، مسلمان پناہ گزینوں کوامریکہ آنے پر پابندی، چین سے تجارت پر ٹیریف لگانا۔اور نہ جانے ایسے کتنے معاملات جس کا ڈونلڈ ٹرمپ نے اس طرح مذاق بنایا کہ پوری دنیا میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی۔

2016 میں ڈونالڈ ٹرمپ نے جب اپنی امیدواری کا پرچہ ریپبلیکن پارٹی میں جمع کیا تھا اور امیدواری میں بحث لے رہے تھے تو زیادہ تر لوگوں کو اس بات کی امید نہیں تھی کہ وہ ایک دن امریکی صدر بن جائیں گے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ ڈونالڈٹرمپ ایسے واحد امیدوار تھے جو کبھی سینیٹر نہیں چنے گئے تھے اور نہ ہی کسی امریکی اسٹیٹ کے گورنر منتخب ہوئے تھے۔جس کی وجہ سے سیاسی ماہرین سے لے کر ریپبلیکن ممبروں میں ڈونالڈ ٹرمپ کے تئیں کوئی اہمیت اور امید نہیں تھی اور قیاس تھا کہ جوں جوں وقت گزرے گا ڈونالڈ ٹرمپ ریپبلیکن پارٹی کی امیدواری سے باہر ہوجائیں گے۔ لیکن ڈونالڈ ٹرمپ نے ان تمام باتوں کو غلط ثابت کردیا اور اپنی جارحانہ اور شدت پسندی سے نہ ہی تو اپنے ممبروں کا دل جیت لیا بلکہ امریکہ کا الیکشن جیت کرامریکہ اور دنیا والوں کو حیران کر دیا۔

لیکن 2020ٹرمپ میاں کے لیے کچھ اچھا ثابت نہیں ہوا۔ یوں تو حسبِ معمول انہوں نے ایک بار پھر اپنی زہر افشاں تقاریر اور اوٹ پٹانگ باتوں سے کچھ حد تک امریکی عوام کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ تاہم جمہوریت کا نظام بھی کمال کی چیز ہے۔ تبھی تو امریکہ اور مغربی ممالک جمہوریت کا راگ الاپتے رہتے ہیں۔ کیونکہ جب ڈونلڈ ٹرمپ جیسے لوگوں کی ہار ہوتی ہے تو اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سچ جمہوری نظام زندہ باد۔جو اگر ٹرمپ جیسے بے حس شخص کو امریکی صدر بنا سکتا ہے تو یہی جمہوری نظام ڈونلڈ ٹرمپ جیسے ہٹ دھرم اور ضدی شخص کو امریکی صدر کے عہدے سے اتار بھی سکتا ہے۔اور ایسا ہی ہوا بھی، جب اپنی طاقت کے نشے میں مغرور امریکی صدر اس بات سے خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ ڈیموکریٹ پارٹی کے ضعیف صدارتی امیدوار جو بائڈن انہیں کیا ہرا پائیں گیں۔کیونکہ انہیں اس بات کی امید تھی کہ امریکی عوام اس بار بھی ان کے جھانسے میں آجائیں گے۔

تاہم ہفتہ 7 نومبر کو جس وقت جو بائڈن کی جیت کا اعلان ہوا اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ اپنی طاقت اور دولت کے نشے میں چور گولف کھیل رہے تھے۔ اب آپ اس بات سے اندازہ لگا لیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی ہار کا پورا یقین تھا یا وہ اپنی جیت سے کافی پر امید تھے۔ویسے بھی ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن کے فوراً بعد اوٹ پٹانگ بیانات دینے لگے تھے۔ کبھی کہتے جتنے ووٹ انہیں ملے وہ قانوی ہیں اور جتنے جو بائڈن کو ملے وہ غیر قانونی ہیں۔ کبھی ووٹوں کی گنتی رکوانے کی دھمکی تو کبھی کہتے کہ وہ نتائج کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔ گویا ایسا معلوم ہوتا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنا دماغی توازن کھو چکے ہیں۔

3نومبر 2020ایک ایسا تاریخی دن تھا جس پر پوری دنیا کی نظر ٹکی ہوئی تھی۔ دراصل یہ دن اس لیے بھی اتنا اہم تھا کہ کیونکہ اسی دن امریکی عوام صدارتی انتخاب کے لیے ووٹ ڈالنے والے تھے۔ ایک تو دنیا کورونا وائرس نے حیران و پریشان کیا اور دوسرا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت اور ہار امریکی عوام کے ساتھ پوری دنیا کے لیے ایک درد سر بنا ہوا تھا۔اس بار امریکی انتخاب کے نتائج آنے میں تھورا وقت زیادہ لگا جس کی ایک اہم وجہ ووٹوں کی گنتی میں کافی وقت لگا۔اس امریکی الیکشن میں کافی تعداد میں لوگوں نے ووٹ دیا اورکورونا وائرس کی وجہ سے کافی لوگوں نے پوسٹل ووٹ کا بھی استعمال کیا۔

3نومبر کے الیکشن کے بعد میری نظر امریکی الیکشن کے نتائج پر مسلسل لگی ہوئی تھی۔ لندن میں رہنے کے باوجود امریکہ کا الیکشن میرے لیے دلیچسپی کا باعث تھا۔ لیکن سب سے اہم اور دلچسپ بات جو میرے لیے تھی،وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہار تھی۔سچ پوچھیے 2016سے اب تک میں نے ایک ایک دن کا انتظار کیا تھا کہ کس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کی چھٹی ہو تاکہ دنیا کو ایک سر پھرے شخص سے چھٹکارا ملے۔سنیچر 7نومبر کی صبح میں لندن سے برمنگھم جارہا تھا۔ راستے بھر ذہن امریکہ کے فیصلہ کن نتائج پر اٹکا ہوا تھا۔خیر برمنگھم سے لندن لوٹتے ہوئے شام ہو گئی تھی،جوں ہی ٹیلی ویژن آ ن کیاسی این این پرڈونلڈ ٹرمپ کی ہار کا اعلان دیکھ کر منہ سے بے ساختہ نکلا’شکر خدا تیرا‘۔

2020کے امریکی صدارتی انتخاب میں کئی باتیں تاریخی ہوئیں۔ جیسے ڈیموکریٹ پارٹی کے 77 سالہ ا میدوار جو بائڈن کی جیت سے وہ امریکہ کے اب تک کے سب سے معمر صدر بنے گے۔اس کے علاوہ نائب صدر کے طور پر جیتنے والی 55 سالہ کمالا ہارس (جن کی والدہ ہندوستانی اور والد جمائیکا سے تھے)، پہلی خاتون نائب صدر ہوں گی۔اس بار77فی صدسے زیادہ لوگوں نے ووٹ دیے جو کہ ایک ریکارڈ مانا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیموکریٹ امیدوار جو بائڈن سب سے زیادہ ووٹ پانے والے سب سے پہلے صدارتی امیدوار بن گئے ہیں۔ تو وہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی 2016کے امریکی الیکشن کے مقابلے میں اس بار زیادہ ووٹ حاصل کئے۔

جوبائڈن کے امریکی صدر بننے سے کئی باتوں کی پیش رفت ہوگی۔ جیسے پیرس ماحولیاتی معاہدے میں امریکہ دوبارہ شامل ہو گا۔
امریکہ ڈبلو ایچ او کے ساتھ شامل ہو کر عالمی سطح پرکورونا وائرس کی راہنمائی کر سکتا ہے۔نیٹو اتحادیوں پر دفاع کے لیے دو فی صد خرچ کرنے پر زور دیا جائے گا۔ مہاجرین کی امریکہ میں پناہ گزیں پر بھی غور و خوص ہوگا۔ مشرق وسطی میں اسرائیل کی بھر پور حمایت پر غور کیا جائے گا۔ ایران اور سعودی عرب سمیت کئی عرب ممالک کے ساتھ دوساتنہ تعلقات اور بہتر بنائے جائیں گے۔ اگر تہران نے نیو کلئیر معاہدہ پر رضامندی ظاہر کی تو ایران کی اقتصادی ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی۔اس کے علاوہ سب سے اہم بات جو بائڈن نے اپنے تقریر میں کہی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر وہ صدر منتخب ہوئے تو یمن میں سعودی عرب کی زیر قیادت جنگ کے لیے امریکی حمایت ختم کر دی جائے گی۔

ا نّ اللہ مَعَ الصّابِرِ ینَ(بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے)۔ کہتے صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ امریکی الیکشن میں کون جیتا اور کون ہارا یہ میرے لیے اتنا اہم نہیں ہے۔ لیکن میرے لیے ایک انتشار پسند (انارکی)کی ہار بہت اہم ہے جو ذلیل و خوار ہو کر منہ چھپائے گولف کھیل رہا ہے۔نئے امریکی صدر سے لوگوں کوجوامید یں وابستہ ہیں یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ فی الحال ایک مغرور اور انتشار پسند کی ہار کا جشن منائیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *