ایک اور یورپی ملک میں ایسٹرازینیکا ویکسین کا استعمال عارضی طور پر روک دیا گیا

یورپی ملک آئرلینڈ نے خون گاڑھا ہونے یا بلڈ کلاٹس کے خدشے پر آکسفورڈ/ایسٹرازینیکا ویکسین کا استعمال عارضی طور پر روک دیا ہے۔

یہ اقدام ناروے میں ویکسین کے استعمال کرنے والے افراد میں بلڈ کلاٹس کی رپورٹس پر کیا گیا۔

آئرلینڈ کے ڈپٹی چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر رونان گلین نے بتایا کہ آئرلینڈ کی ویکسینز ایڈوائزری باڈی نے عارضی طور پر اس ویکسین کے استعمال کو فوری طور پر روکنے کا مشورہ دیا تھا۔‎

انہوں نے زور دیا کہ اب تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ بلڈکلاٹس کی وجہ ویکسین کا استعمال ہے اور یہ فیصلہ احتیاطاً کیا گیا۔

ڈاکٹر رونان گلین نے اپنے بیان میں کہا کہ ابھی تک یہ تعین نہیں ہوسکا کہ ایسٹرازینیکا ویکسین اور ان کیسز میں کوئی تعلق ہے یا نہیں، تاہم احتیاطی طور پر اس کا استعمال روک دیا گیا ہے اور مزید تفصیلات جاننے کے لیے کام کیا جارہا ہے۔

آئرلینڈ سے قبل آسٹریا، ڈنمارک، ناروے اور آئس لینڈ کی جانب سے اس ویکسین کا استعمال عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔

ایسٹرازینیکا ویکسین استعمال کرنے والے افراد میں بلڈ کلاٹس کی اولین رپورٹس آسٹریا میں سامنے آئی تھیں، جس سے تشویش کی لہر پیدا ہوئی اور کچھ یورپی ممالک نے اس کا استعمال تحقیقات کے اختتام تک روک دیا گیا۔

شمالی اٹلی کے خطے Piedmont میں بھی ویکسین کا استعمال احتیاطی تدبیر کے طور پر 14 مارچ کو روک دیا گیا تھا اور وہاں اس کی خوراک لینے والے ایک ٹیچر کی موت کی وجہ کی تحقیقات کرانے کا اعلان کیا گیا۔

آئرلینڈ نے 13 مارچ کو ناروے میں ایک موت اور 3 افراد کے ہسپتال پہنچنے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ویکسینیشن روکنے کا اعلان کیا۔

ناروے نے اس حوالے سے بتایا تھا کہ ایسا 50 سال سے کم عمر افراد میں ہوا اور ان کیسز میں دماغ میں بلڈ کلاٹنگ ہوئی، جس کے نتیجے میں ایک فرد ہلاک ہوگیا۔

ناروے کی میڈیسینز ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا کہ 50 سال سے کم عمر 4 افراد کو یہ ویکسین استعمال کرائی گئی اور ان میں بلڈ پلیٹلیٹس کی تعداد کم ہوگئی۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ ویکسین استعمال کرنے والے 50 سال سے کم عمر افراد کی طبیعت اگر ویکسینیشن کے 3 دن بعد خراب ہو اور جلد پر بڑے یا چھوٹے نیلے نشان نظر آئیں تو ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں یا طبی امداد کے لیے رجوع کریں۔

بیان کے مطابق اس طرح کے اقعات دیگر یورپی ممالک میں بھی رپورٹ ہوئے ہیں اور یورپین میڈیسینز ایجنسی غور کررہی ہے کہ شاید اس کا تعلق کورونا وائرسز ویکسینز سے ہو، تاہم اب تک کوئی نتیجہ سامنے نہیں آسکا ہے۔

آئرلینڈ کی ایڈوائزری کمیٹی کی سربراہ پروفیسر کترینہ بٹلر نے کہا کہ اس طرح کے دیگر کیسز یورپ کے دیگر حصوں میں بھی رپورٹ ہوئے اور یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کا ویکسین سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ابھی یہ معلوم نہیں کہ بلڈ کلاٹس کے مزید واقعات سامنے آسکتے ہیں یا نہیں، مگر بظاہر یہ کم عمر افراد میں ہورہا ہے، جن میں ایسا ہونے کی توقع نہیں ہووتی اور اس کا جواب جاننے کے لیے یہ ویکسینیشن کو روکا گیا۔

دوسری جانب برطانیہ کے ریگولیٹری ادارے نے کہا ہے کہ لاکھوں افراد کو یہ ویکسین استعمال کرائی اور ان میں کوئی بڑا مضر اثر رپورٹ نہیں ہوا۔

ایسٹرازینیکا کے ایک ترجمان نے کہا کہ کلینیکل ٹرائلز اور محفوظ ہونے کے ڈیٹا میں اس طرح کے اثر کا کوئی عندیہ سامنے نہیں آیا تھا۔

ڈنمارک کی جانب سے ویکسین کا استعمال روکنے پر کمپنی کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ ویکسین کے مضر اثرات کی تحقیقات کی جارہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ مریضوں کا تحفظ کمپنی کی اولین ترجیح ہے، ریگولیٹرز کی جانب سے کسی بھی نئی دوا بشمول ایسٹرازینیکا ویکسین کی منظوری واضح افادیت اور تحفظ کو دیکھ کر دی جاتی ہے۔

بیان کے مطابق ویکسین کے محفوظ ہونا کا تعین کرنے کے لیے کلینکل ٹرائل کے تیسرے مرحلے میں تفصیلی تحقیقات کی گئی اور ڈیٹا سے تصدیق ہوتی ہے کہ ویکسین محفوظ ہے۔

error: