ایک اینگلو پاکستانی خاندان

اس دوران اے آر چوہدری کی وفات حسرتِ آیات کی خبر ان کے دوستوں کے علاوہ ان کے غریب غربا قسم کے رشتے داروں کو بھی مل گئی تھی چنانچہ ماسی رحمتے اس کا خوانچہ فروش شوہر بھولا سیٹی، پھوپھی زینب، اس کا شوہر فیقا ترکھان اور اسی طرح کے دوسرے عزیز و اقارب میت کے پاس کھڑے تھے۔ 

اے آر چوہدری نے انہی لوگوں سے لاتعلقی ظاہر کرنے کے لئے اپر کلاس کا لائف اسٹائل اپنایا تھا مگر یہ لوگ مرحوم کا بھرم ختم کرنے پر تلے ہوئے تھے اور خالص عوامی انداز میں بین کر رہے تھے، مرحوم کے دوست باہر لان میں بیٹھے ملکی حالات پر اسی انداز میں تبصرہ کر رہے تھے جیسے لاتعلق لوگ کرتے ہیں۔ 

جونی بہت پریشان لگ رہا تھا، اس کا سارا بچپن اور جوانی گوروں کے درمیان گزری تھی، وہ کبھی کسی پاکستانی سے نہیں ملا تھا اور نہ کبھی پاکستان آیا تھا چنانچہ وہ بین ڈالتی عجیب و غریب مخلوق کو دیکھ کر سخت نروس ہو رہا تھا۔ اس نے مجھ سے پوچھا ’’انکل یہ کون لوگ ہیں؟‘‘ میں نے کہا ’’جونی، یہ تمہارے چاچے، تائے، پھوپھیاں اور ماسیاں ہیں‘‘۔ 

اسے یہ بات بالکل سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ لوگ میت کے پاس کھڑے ہو کر گانے بھی گا رہے ہیں اور رو بھی رہے ہیں، میں نے اسے سمجھایا کہ یہ گانے نہیں گا رہے بلکہ ترنم میں بین ڈال رہے ہیں۔

وہ ابھی تک کمرے میں دھری اپنے پاپا کی میت کے پاس نہیں گیا تھا، میں اس کا ہاتھ پکڑ کر وہاں لے گیا، اس نے میت کے احترام میں کھڑے کھڑے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی اور پھر باہر آ گیا۔

 باہر آکر اس نے پوچھا، پاپا کو دفنانا ہے یا جلانا ہے؟ میں نے کہا، تمہارے پاپا مسلمان تھے اور مسلمانوں کو دفنایا جاتا ہے۔ اس نے ’’اوکے‘‘ کہہ کر پھر پوچھا ’’آپ نے آخری رسومات کیلئے کسی کمپنی کو آرڈر کرایا ہے؟‘‘ میں نے اسے بتایا کہ یہاں فی الحال اس کا رواج نہیں ہے، یہ سب کام مرحوم کے عزیز و اقارب خود کرتے ہیں، یہ سن کر وہ بہت حیران ہوا۔ 

میں نے قریبی مسجد کے مولوی صاحب کو فون کیا کہ وہ کسی غسال کو بھیج دیں، نیز ان سے چارپائی اور دوسرے ’’لوازمات‘‘ بھیجنے کی درخواست بھی کی۔

میں بازار سے کفن خریدنے کیلئے باہر جانے لگا تو جونی بھی میرے ہمراہ ہو لیا، اسے سلے سلائے کفن کے کپڑے کی کوالٹی پسند نہ آئی چنانچہ اس نے ایک مہنگے اسٹور سے Egyptianکاٹن خریدی۔

 اے آر چوہدری کو غسل دینے کا موقع آیا تو غسال کا ہاتھ بٹانے کیلئے فیقا ترکھان اور بھولا سیٹی آگے بڑھے، انہوں نے جونی کو بھی اپنے ساتھ شریک ہونے کیلئے کہا مگر جونی نے بیزاری سے کہا ’’یہ اَن ہائی جینک کام ہے۔ آئی ایم سوری۔

 قبر کا سائز چیک کرنے کیلئے جب بھولا سیٹی خود قبر میں لیٹ گیا تو جونی کی آنکھیں خوف سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اسی طرح قبرستان سے واپسی پر جب اس نے گھر کے باہر دیگیں کھڑکتی دیکھیں تو وہ ایک بار پھر پریشان ہوا اور پوچھا ’’یہ دیگیں کس کیلئے پک رہی ہیں؟‘‘

 میں نے کہا ’’ان غمخواروں کیلئے جنہوں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا‘‘ جونی نے پوچھا ’’یہ اپنے گھر جاکر کیوں نہیں کھاتے‘‘ میں نے کہا ’’یہ بھی انہی کا گھر ہے، اب یہ دسواں ہونے تک یہیں رہیں گے اور روزانہ دیگیں پکیں گی‘‘۔ 

قصہ مختصر یہ کہ قبرستان سے واپس آتے ہی جونی نے اپنے بھائی، بہن اور مام سے امریکہ اور سوئٹزر لینڈ میں اے آر چوہدری کی پراپرٹی کے بارے میں بات کی اور پھر وکیل کو بلوا کر کاغذات تیار کرائے، وہ تو اسی روز واپس اپنے ’’وطن‘‘ جانا چاہتا تھا مگر میرے اصرار پر وہ قلوں تک رک گیا۔ 

اگلے روز ہوائی جہاز میں سوار ہونے سے پہلے اس نے ایک ٹھنڈی سانس بھری، میرے کاندھوں پر ہاتھ رکھا اور کہا "I Love My Papa" آپ ان کے دوست ہیں، مجھے امید ہے کہ آپ ہر کرسمس پر ان کی قبر پر پھولوں کی چادر ضرور چڑھائیں گے‘‘۔ اس پر میں نے اسے کرسمس اور عید کا فرق بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔(ختم شد)

کالم کے آخر میں ایک بار پھر ڈاکٹر عمران ظفر کی چند مزید پیروڈیز:

حفیظ ہوشیار پوری

مریضانِ کورونا کم نہ ہوں گے

اگر محدود گھر تک ہم نہ ہوں گے

پریشاں ہوں کہ یہ اہلِ سیاست

اس آفت میں بھی کیا باہم نہ ہوں گے؟

عجب یہ عالمی رنجِ وبا ہے

’’یہ غم ہو گا تو کتنے غم نہ ہوں گے‘‘

قرنطینہ میں انٹرنیٹ نہیں ہے

’’وہ میرے حال سے محرم نہ ہوں گے‘‘

اگر مجھ کو کورونا ہو گیا تو!

تری ’’قربت‘‘ کے صدمے کم نہ ہوں گے

اکبر الہ آبادی

ہنگامہ ہے کیوں برپا امداد جو مانگی ہے

’’ڈاکا تو نہیں ڈالا، چوری تو نہیں کی ہے‘‘

دنیا میں کورونا کے بارے میں گماں لاکھوں

کچھ فطری سمجھتے ہیں کچھ کہتے ہیں فرضی ہے

دشمن ہے جہاں بھر کی کچھ اس کا نہیں مذہب

سب تک ہے وبا پہنچی، اٹلی ہے کہ دہلی ہے

اس موذی مرض کا حل بس گائے کا گوبر ہے

بھارت کے حکیموں نے تحقیق بتا دی ہے

اس قے کا نہیں مطلب، ہو مجھ کو کورونا بھی

ہلکی سی حرارت ہے، تھوڑی سی جو کھانسی ہے

لعنت ہو کورونا پہ، اے ساقیٔ مستانہ

ہر غم کو غلط کرتی، انگور کی بیٹی ہے

آیا ہے کورونا بھی اب مسجد و مے خانہ

رندوں سے نمٹ لے تو مُلا کی بھی باری ہے

سب رشک کریں مجھ پر، اب شہر مقفل ہیں

قسمت تو ذرا دیکھیں، میکے مری بیوی ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: