ایک بار پھر نفسیاتی مسائل

پاکستانی قوم کی ذہنی الجھنوں کے حوالے سے چند روز پہلے بھی اور اس سے بھی کئی بار پہلے کالم لکھ چکا ہوں مگر میرے نزدیک اس پر جتنا بھی لکھا جائے کم ہے۔ دراصل بہت سی بیماریاں ایسی ہیں جن کے بارے میں ہمیں یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہم ان کا شکار ہو چکے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق ہمارے ذہن سے ہے۔ آپ کو اپنے اردگرد ایسے بے شمار لوگ ملیں گے جو ذہنی مریض ہیں اور اس مرض کے زیر اثر وہ صرف اپنی زندگی تباہ نہیں کرتے بلکہ ان کے یہ جراثیم پورے معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ انہیں اگر کہا جائے کہ بھائی آپ اگر دوسری جسمانی بیماریوں کو نظرانداز نہیں کرتے اور ان کا علاج کراتے ہیں تو اپنی ذہنی بیماری سے کیوں غفلت برت رہے ہیں۔ آخر ذہن بھی تو ہمارے جسمانی نظام ہی کا حصہ ہے، مگر ایسا مریض آپ کے خلاف ہو جاتا ہے اور یوں اس کا مرض دن بدن پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ ان میں سے سب سے خطرناک مرض شیزو فرینیا ہے اس کے مریض کو ہر بات میں کوئی ’’وچلی گل‘‘ نظر آتی ہے جو اس پر طنز کی صورت میں ہوتی ہے۔ اس کی زد میں دوسرے طبقوں کے علاوہ بہت مالدار لوگ بھی آتے ہیں جنہیں ہر لمحہ یہ خوف دامن گیر رہتا ہے کہ اس کے رشتے دار اس کو قتل کرنے کی سازش کر رہے ہیں تاکہ وہ اس کے مال و دولت پر قبضہ کر سکیں۔ اب یہ ہماری قومی بیماری بھی بنتی جا رہی ہے۔

ایک ذہنی بیماری اور بھی ہے جسے نفسیات کی زبان میں ’’بائی پولر‘‘ کہا جاتا ہے اس کی زد میں آنے والے شخص کو اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ وہ مافوق الفطرت قوتوں کا مالک ہے اس جیسا اور کوئی نہیں، چنانچہ وہ مختلف دعوے کرتا نظر آتا ہے۔ ذہنی امراض کے ایک اسپتال میں ایک مریض نے دوسرے مریضوں کو باآواز بلند مخاطب کر کے کہا ’’آپ سب کو اطلاع دی جاتی ہے کہ مجھے اوتار بنا کر آپ کی طرف بھیجا گیا ہے‘‘ اس پر بائی پولر کا دوسرا مریض اپنی جگہ سے اٹھا اور اتنی ہی بلند آواز میں کہا ’’لوگو، اس کی باتوں میں نہ آنا، یہ جھوٹا ہے کیونکہ میں نے اسے اوتار بنا کر نہیں بھیجا‘‘۔ یہ محض لطیفہ نہیں ہے بلکہ اس طرح کے دعویدار پوری سنجیدگی سے یہی سمجھتے ہیں اور جو ان کے دعوے کو تسلیم نہ کرے، اسے دھمکیاں اور گالیاں دیتے ہیں۔ کئی ایک تو اپنا دعویٰ تسلیم کرانے کے لئے احتجاج بھی کر ڈالتے ہیں ہمارے ہاں یہ ذہنی بیماری مختلف سطحوں پر پائی جاتی ہے۔ بہت سے شاعروں کو یقین ہوتا ہے کہ اگر کوئی شاعر ہے تو صرف وہ ہے، باقی سب جھک مار رہے ہیں، لیکن جب ان کے اس دعوے کو کوئی ماننے پر تیار نہیں ہوتا تو پھر وہ تہمتیں لگاتے ہیں اور جتنی غلاظت ان کے اندر ہوتی ہے وہ اسے اپنے ہونٹوں یا قلم پر لے آتے ہیں۔ یہی معاملہ زندگی کے دوسرے شعبوں کا بھی ہے۔

مجھے اس حوالے سے جو بات بہت تشویشناک لگتی ہے وہ یہ کہ آج تک کسی حکومت نے اس اہم مسئلے پر توجہ نہیں دی جبکہ ذہنی بیماریاں ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔ ان بیماریوں میں صرف شیزو فرینیا یا بائی پولر ہی نہیں بلکہ اس کی بیسیوں اقسام ہیں جن میں سے کچھ تو جنیٹک ہیں اور کچھ حالات کے تحت جنم لیتی ہیں۔ انسان کی عمر کا خطرناک دور اس کی زندگی کے ابتدائی دن ہوتے ہیں، ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ انسان کی شخصیت سات سال کی عمر میں مکمل ہو جاتی ہے اور اس پر مثبت یا منفی اثرات کے متعدد محرکات ہیں جن میں گھریلو ماحول، قریبی دوست اور معاشرے کا مجموعی ماحول شامل ہیں۔ میں جن دنوں کالج میں پڑھاتا تھا، میں نے محسوس کیا کہ بلوغت کے مرحلے میں نئے نئے داخل ہونے والے بچے شدید نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں اور کوئی ان کی الجھن دور کرنے والا نہیں۔ ان نفسیاتی مسائل کا تعلق ان کی جسمانی تبدیلیوں اور گناہ و ثواب سے جڑا ہوا بھی تھا۔ اسی طرح ایک لیڈی ڈاکٹر نے بچیوں کے بارے میں لکھا کہ ان کے ذہن میں ایک تلاطم برپا ہوتا ہے اور انہیں اس سے بچ نکلنے کا راستہ دکھانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ چنانچہ میں اس موضوع پر ایک سے زیادہ کالموں میں حکومت کو یہ تجویز پیش کر چکا ہوں کہ وہ لڑکوں اور لڑکیوں کے کالجوں میں ان بچوں بچیوں کی کونسلنگ کے لئے ماہر نفسیات متعین کرے، ہم انہیں زبانیں اور دیگر علوم پڑھاتے ہیں مگر کیا یہ علوم ان کے یا معاشرے کے کام آ سکتے ہیں۔ اگر ان کا ذہن نفسیاتی دلدل میں پھنسا ہوا ہو اور وہ انہی ذہنی امراض کے ساتھ عملی دنیا میں داخل ہوں؟ ظاہر ہے ایسا کبھی نہیں ہو گا اور اگر ایسا نہیں ہو گا تو پھر سیالکوٹ میں بھرے مجمع میں ’’مشکوک‘‘ لوگوں کو ڈنڈے مار مار کر ہلاک کر دیا جائے گا یا کسی کو زندہ جلا کر اس کی لاش موٹر سائیکل کے ساتھ باندھ کر سڑکوں پر گھسیٹی جائے گی۔ ان سفاکانہ اور بہیمانہ مظالم کے مرتکب افراد آپ کو عام زندگی میں بالکل نارمل لگیں گے لیکن یہ نارمل لوگ نہیں ہیں اور ان مظالم کا تماشا دیکھنے والے بھی کسی ذہنی کجی کا شکار ہوتے ہیں۔

آپ شوکت صدیقی کا ناول ’’جانگلوس‘‘ پڑھیں، آپ کو اندازہ ہو گا کہ ہم کیسے خوفناک معاشرے میں زندہ ہیں لیکن ہم اس کے اثرات برداشت کرنے کے باوجود اس کا مداوا کرنے کے لئے کچھ نہیں کرتے۔ اس وقت ہمارے سیاسی منظر نامے میں بھی ایسے لوگ نظر آ رہے ہیں جو اسی مرض کا شکار ہیں، جس کا ذکر میں نے کالم کے آغاز میں کیا تھا، انہوں نے خود کو اس مقام پر فائز کر دیا ہے جس پر انسان خودبخود فائز نہیں ہوتا بلکہ لوگ انہیں وہ مقام عطا کرتے ہیں، اپنی منشاکے مطابق رولز آف گیم طے کرانے کے باوجود وہ سوچ ہی نہیں سکتے کہ انہیں شکست ہو سکتی ہے بلکہ وہ پریشانی کے عالم میں یہ تک کہتے ہیں کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ انہیں کم ووٹ ملیں اور ان کا امیدوار زیادہ ووٹ لے جائے اور پھر وہ دھمکیاں دیتے ہیںاور جمہوریت کو کمزور کرنے لگ جاتے ہیں۔ کسی عام فرد کے ذہنی بیماری کا شکار ہونے اور کسی ریاست کے اس کی زد میں آنے کے اثرات بہت مختلف ہیں۔ کاش ہم لوگ اپنے بچوں، بچیوں کے طرز عمل پر ان کے بچپن ہی سے نظر رکھیں اور اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں ان کی کونسلنگ کا اہتمام بھی کریں۔

error: