ایک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

مرزا غالب کے شعر کے مصرعے کو اگر کچھ پل کے لیے سچ مان لیں تو ان شاء اللہ دل تو یہی کہہ رہا کہ 2022 ایک اچھا سال گزرے گا۔ اورہم تو اسی امید پر ہی جی رہے ہیں۔

جبکہ دیکھا جائے تو ہم خودہی احمق بھی بنے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پرہم اس روح پر بھروسہ کیے جیتے ہیں جو کبھی بھی جسم سے نکل کر فنا ہو سکتی ہے۔ تاہم، ہم انسان تمام تر دشواریوں اور مایوسیوں کے باوجود،پھر بھی ہم کسی بھروسے اور امید کے ساتھ جیتے رہتے ہیں اور خواب بُنتے رہتے ہیں۔اور اسی امید پر شایدغالب نے کہا کہ ’ایک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے‘۔31/ دسمبر 2021کو پوری دنیا نئے سال کی آمد کی تیاری پورے جوش و خروش سے کرتی ہے۔ان دنوں لندن سردی میں لپٹا ہوا ہے اور لوگ اومی کرون کی خوف سے پریشان اور حکومت اور سائنسداں کے مشورے پر خود ہی لاک ڈاؤن کر لیا ہے۔ پچھلے سال کی طرح اس سال بھی کورونا کی نئی قسم اومی کرون نے نئے سال کی پارٹی اور جوش پر پانی پھیر دیا ہے۔لندن کے معروف’لندن آئی‘ کے قریب نئے سال منانے والوں کو ایک بار پھر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب لندن کے مئیر صادق خان نے کہا کہ لندن کے ٹفا لگار اسکوائر میں سال نو کی تقریبات کو ’عوامی تحفظ کے مفاد میں‘ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ برطانیہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نیا ویر یئنٹ ڈیلٹا ویرئینٹ سے چار گنا زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے اور کرسمس سے انفیکشن کی ایک بڑی لہر پیدا کر کے اسے پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔ڈبلو ایچ او کے سربراہ ڈاکٹر روس اذانوم گیبرئیس نے کہا ہے کہ ’منسوخ تقریبات، زندگی کی منسوخی سے بہتر ہے‘۔ انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ ’کبھی کبھی ہمیں زندگی میں مشکل فیصلے‘ کرنے پڑتے ہیں۔

میں بھی بحالتِ مجبوری دفترنہ جا کر اپنا کام گھر سے کرنے پر مجبور ہوگیا ہوں۔ایک طرف کورونا کی نئی قسم اومی کرون کا خوف تو دوسری طرف زندگی کو معمول پر جینے کی جدو جہد نے ہمیں عجیب الجھن میں ڈال رکھا ہے۔ سوشل میڈیا پر نئے سال کی آمد اور ڈھیر ساری نیک تمناؤں کا سلسلہ قبلِ از وقت شروع ہوگیاہے۔تاہم آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے دوست نیا سال منانے کا جشن اپنے مقامی وقت کے مطابق شروع کر چکے ہیں اور دنیا بھر کی نظر سڈنی اور ہانگ کانگ کی آتش بازی پر ٹکی ہوئی ہے۔میرے ہسپتال کے زیادہ تر اسٹاف یا تو اومی کرون سے شکار گھر پر الگ تھلگ ہوکر قید ہوگئے ہیں اور چند چھٹیوں کا مزہ لے رہے ہیں۔جس کی وجہ سے دفتر میں زیادہ تر لوگوں کی کرسیاں خالی دِکھ رہی ہیں۔ یوں بھی کرسمس اور نئے سال کے درمیان لندن کے لوگ اپنے قریبی رشتہ دار کے پاس چھٹیاں گزارنے چلے جاتے ہیں یا وہ بیرونِ ممالک جا کر چھٹیاں گزارتے ہیں۔

شام کو اپنے کرم فرما غلام صاحب کی دعوت پر (Motspur Park)موٹسپر پارک چلا گیا۔ غلام صاحب کا تعلق ہندوستان کے گجرات سے ہے لیکن پچھلے کئی دہائیوں سے وہ لندن میں مقیم ہیں۔ان کی محبتوں کی وجہ سے ہم ان کے اصرار پر لبنانی ریسٹورنٹ’ایکلی‘میں 2021 کا آخری ڈنر کرنے ان کے ہمراہ چلا گیا۔ ریسٹورنٹ خالی تھا جس کی ایک وجہ اومی کرون کا خوف تھا۔سچ پوچھیے تو 2021 بھی کئی معنوں میں ایک مایوس کن،پریشان کن اور الجھن والاسال گزرا ہے۔دنیا کے کئی ممالک میں حالات بد سے بد تر ہوئے ہیں تو وہیں کچھ حکمرانوں نے امن پسند لوگوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔امریکہ، چین اور روس کے مابین تناؤ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ امریکہ کا جارحانہ رویہ کچھ کم تو ہوا ہے لیکن اس کی غلط پالیسی اور چند ممالک کے خلاف متعصب رویے نے دنیا بھر میں ایک عجیب و غریب ماحول بنا رکھاہے۔امریکی صدر جو بائیدن جب سے صدر بنے ہیں انہوں نے کوئی خاطر خواہ کارنامہ انجام نہیں دیا ہے۔ تاہم وعدے کے مطابق افغانستان سے امریکی فوج کے ہٹائے جانے پر برطانیہ نے جو بائیڈن پر براہ راست تنقید کردی اور کہا کہ امریکہ ایک بہت بڑی بھول کر رہا ہے۔یوں بھی برطانیہ تاریخی نکتہ نگاہ اور آج بھی کسی ملک پر قبضہ جمائے رکھنے کے لیے ایک بدنام ملک ماناجاتا ہے۔امریکی صدر جو بائڈن ڈھلتی عمر اور تھکاوٹ سے کبھی کبھار ہی بولتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ جو بائڈن نے جہاں سابق امریکی صدر ٹرمپ کی ساری متنازعہ پالیسی کو مسترد کردیا تو وہیں ایران پر لگی اقتصادی پالیسی پر پلّو جھاڑ کر خاموشی اختیار کر لی ہے۔جو کہ ایک نہایت شرمندگی کی بات ہے۔اس کے علاوہ روس کی یوکرین پر دباؤ سے امریکہ سمیت مغربی طاقتیں جنگ کے لیے آمنے سامنے آ گئی ہیں۔

2021 برطانیہ کے لئے ایک اعصابی اور سیاسی اتھل پتھل کا سال رہا ہے۔ وزیر اعظم بورس جونسن جہاں اپنے ملک اور یورپ میں مسلسل تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں تو وہیں ان کے لیڈر شپ پر اب سوال اٹھ رہے ہیں۔پناہ گزین کے بوٹ کا مسلسل فرانس سے آنے اور فشنگ کے متنازعہ معمالے کو لے کر کئی بار برطانیہ اور فرانس میں نوک جھونک ہو چکی ہیں۔اس کے علاوہ کورونا وبا سے نمٹنے اور ویکسن لگانے کے علاوہ وزیر اعظم کی اپنی رہائش گاہ پر چوری چھپے پارٹی کے انعقاد سے بھی لوگوں میں کافی غم و غصہ پایا جارہا ہے۔ برطانیہ کی خوشحالی اور معیشت سے اب بھی لوگ پر امیدنہیں ہیں۔جو کہ ایک پریشانی والی بات ہے۔ اس کے علاوہ کورونا کی نئی قسموں کے بار بار آنے سے حکومت اور سائنسدانوں کا جینا حرام ہوگیا ہے۔

ہندوستان دنیا کا ایک عظیم ملک ہے اور اس کی سیاسی اور سماجی زندگی پر دنیا بھر کی نظر لگی رہتی ہے۔ 2021ہندوستان کا ایک ملا جلا سال رہا ہے کیونکہ پورے سال ملک میں سیاسی اتھل پتھل، بنگال میں بی جے پی کی ہار،کسانوں کی جیت، اور مذہبی بھید بھاؤ کھلے عام طور پر دیکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ملک کی معیشت کبھی خوشی تو کبھی غم جیسا منظر پیش کر رہی۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسی پالیسی سے اب بھی عام آدمی کا جینا حرام ہے۔ ممتا بنرجی اپوزیشن کی اہم لیڈر بن کر ملک کی وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھ رہی ہیں جو کہ ایک خواب ہی لگ رہاہے۔وہیں ہندوستانی وزیر اعظم اب بھی عام آدمی کی پرواہ کئے بغیر اپنی بھاشن سے لوگوں کو بیوقوف بنائے جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم مودی کی پارٹی کو سات صوبوں میں الیکشن لڑنا ہے اور قیاس کیا جارہاہے کہ ہندوستان کا سب سے بڑا صوبہ یوپی میں انہیں ہار کا سامنا ہوسکتا ہے۔ جس سے اس بات کا بھی اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم کی الٹی گنتی شروع ہوسکتی ہے۔تاہم مودی اور ان کے بھکت مذہبی پتہ کھیلنا خوب جانتے ہیں جس سے ممکن ہو کہ وہ ایک بار پھر لوگوں کے مذہبی جذبات سے کھیل کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائیں۔

2022سے میری طرح ہر کوئی ایک امید لگائے بیٹھا ہے لیکن وہیں زیادہ تر لوگ اس بات سے بھی مایوس اور پریشان ہیں کہ کیا 2022میں بھی دنیا پھر کورونا کی نئی قسم سے دوچار ہو گی؟ یا کیا دنیاکی معاشی حالات مزید ناقص ہوں گے؟ یا دنیا چین یا روس کے ساتھ جنگ کی لپیٹ میں آ کر تباہ و برباد ہوجائے گی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جس طرح چین اور روس دنیا کی معیشت اور طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں اس سے مجھے اس بات کو کہنے میں کوئی جھجھک نہیں ہے کہ ان دو ممالک کی برتری سے امریکہ اور مغربی طاقتوں کے جارحانہ رویے میں کمی آنے لگی ہے۔تاہم میں اوروں کی طرح 2022سے کافی پر امید توہوں لیکن مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ 2022 بھی ایک ملا جلا سال ہوسکتا ہے۔ میں اس بات سے بھی پریشان اور الجھن میں ہوں کہ پچھلے سال کی طرح اس سال بھی کہیں ہمیں ایک بار پھر کورونا کی کسی نئی قسم کا سامنا نہ کرنا پڑے۔کیونکہ سائنسداں پھر دعویٰ کر بیٹھے ہیں کہ کورونا کی چوتھی لہر سے ہم انکار نہیں کر سکتے ہیں۔ جس کی وجہ سے دنیا کے زیادہ تر ممالک میں بے روزگاری کافی بڑھ گئی ہے اور سماجی مسائل کافی پیچیدہ ہو گئے ہیں۔

خیرسال تو آتے اورجاتے ہیں۔لیکن ہر بار کی طرح نیا سال آنے کی خوشی میں ہم سب اپنے اپنے طور پر ایک امید اور خواہش کی بنا پر نئے نئے ارادوں کے ساتھ اپنے خیال و جذبات کا اظہار اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے کرتے ہیں۔آئیے ہم کچھ لمحوں کے لئے پرانے سال میں بیتی ہوئی باتوں کو بھول کر ایک نئے عزم اور جذبے کے ساتھ جینے کا حوصلہ لئے اپنی راہ پر گامزن ہو جاتے ہیں۔ ہم زندگی کی اُن تمام خوشیوں کو حاصل کرنا چاہتے ہیں جو اللہ نے ہمیں فراہم کی ہیں۔تاہم نئے سال کا جشن مناتے ہوئے ہمیں اپنے اردگرد ان لوگوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے جو بیمار، لاچار، مفلس، پریشانِ حال اور نہ جانے کن کن مصیبتوں میں مبتلا ہیں اور جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ہمیں اِن لوگوں کا خیال رکھتے ہوئے انہیں بھی اپنی خوشی میں شامل کرناچاہیے۔ میں اللہ سے یہی دعا کروں گا کہ 2022میں دنیا بھر سے کورونا کا خاتمہ ہو اور امن قائم ہو اور تمام ممالک میں جہاں لوگ بے حال اور پریشان ہیں ان پر اللہ کا رحم وکرم نازل ہو۔

error: