ایک تھاگورباچوف

سابق سوویت یونین کے آخری سربراہ میخائل گورباچوف کاطویل علالت کے بعدانتقال ہوگیا۔نئی نسل کی اکثریت کو توشایداندازہ بھی نہیں ہوگاکہ منہدم ہونے والی سوویت ریاست کیسی قہرمان اورپرشکوہ ہوتی تھی۔گورباچوف نے 91برس کی عمرپائی اوروہ ایک پورے عہدکااستعارہ تھے،جس کا خاتمہ امکانی طورپران کی موت کے ساتھ ہی ہوگیا،وہ گزشتہ پوری ایک صدی کی سیاسی تاریخ کے اہم کرداراورعینی شاہد تھے۔بیسویں صدی کومورخین کی اکثریت دوعالمی جنگوں اورکمیونزم کے عروج وزوال کی کہانی سے تعبیرکرتے ہیں اوران سے ہی منسلک سردجنگ،جوکہ امریکہ اورروس کے درمیان کم وبیش تمام صدی جاری رہی۔گرچہ سوویت یونین 21ریاستوں کااتحادتھامگرروس چونکہ رقبے و آبادی کے اعتبارسے ان میں سب سے بڑاتھااس لئے اکثرلوگ اسی کے نام سے ہی اس اتحادی ریاست کوپکارتے تھے۔سوویت ریاست میں فقط ایک ہی پارٹی ہواکرتی تھی اوروہ کیمونسٹ پارٹی تھی،جیساکہ چین میں ہے۔اس پارٹی کاجنرل سیکرٹری عموماًملک کاصدرہوتاتھا۔گورباچوف پہلے کیمو نسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری بنے اور1985میں انہوں نے عنان اقتدارسنبھال لی۔ان کے اقتدارکے خاتمے کے ساتھ ہی سوویت یونین کابھی خاتمہ ہوگیااوراس کے حصے بخرے ہوگئے۔ان کے حامی انہیں شخصی آزادی اورکھلے پن کے حامی کے طور پریادکرتے ہیں مگرروس کے اندران لوگوں کی تعدادبہت ہی قلیل ہے۔روسی عوام کی اکثریت ان سے نفرت کرتی ہے اورانہیں تاریخی زوال وذلت کاذمہ دارسمجھتی ہے۔
روس کے موجودہ صدر ولادی میرپوتین نے میخائل گورباچوف کی آخری رسومات میں شرکت سے احترازبرتاہے۔جنازے میں عدم شرکت کی وجہ پہلے سے طے شدہ سرکاری مصروفیات بیان کی گئی ہیں،مگراصل وجہ شایدلوگوں کی گورباچوف سے نفرت اور انہیں زوال کی علامت سمجھناہے۔ایسے عالم میں جب روسی فوجیں یوکرائن میں محاذجنگ پرمصروف ہیں،گورباچوف ایک کمزوری کااستعارہ ہونے کے سبب سرکاری جنازے سے محروم رہے اورانہیں کسی سرکاری اعزازکاحق داربھی نہیں سمجھاگیا۔سچ تویہ ہے کہ صدرپوتین گورباچوف کو شدیدناپسندکرتے ہیں اورعموماًیہ بات چھپاتے بھی نہیں ہیں۔نوے کی دہائی میں روس میں برپاکسادبازاری اورطواف الملوکی کاسبب وہ گورباچوف کوجانتے ہیں۔ورنہ صدریلسن کاجنازہ توسرکاری سطح پرمنعقدکروایاگیاتھااورولادی میرپیوتن نے اس میں خودبھی شرکت کی تھی۔سوویت یونین کے متعلق پوتین کا کہناہے کہ جوآدمی سوویت عہدکویادنہیں کرتااس کے سینے میں دل نہیں ہے اورجوانسان اس عہدکوواپس لانا چاہتاہے اس میں دماغ نہیں ہے۔
گورباچوف کی زندگی کا جائزہ لیاجائے توبعض اوقات محسوس ہوتاہے کہ وہ سادہ دل اورکمزوراعصاب کے آدمی تھے،گرچہ اس کے ساتھ ساتھ عالمی امن کے بھی حامی تھے،مگرامن کی خواہش کو بھی اس دنیامیں کمزوری سے ہی تعبیرکیاجاتاہے۔سیاستدان ہونے کے باوجود وہ مغربی سفارتکاروں پراعتمادکرتے تھے، جوکہ آخری تجزیے میں ان کی غلطی ہی شمارہوگی۔انہوں نے امریکی اورمغربی یورپ کے ساتھ سردجنگ کاخاتمہ کیامگراس کے ساتھ ہی دنیاکی سب سے بڑی ریاست کے بھی حصے بخرے کردیے۔اکتوبر1917میں بائیں بازوکے نظریات رکھنے والے انقلابی کارکنوں کی سرخ سپاہ کی زارروس کی وفادارسفیدفوج پرفتح پانے کے نتیجے میں جونئی اشتراکی ریاست تشکیل پائی تھی،جس کانام یونین آف دی سوویت سوشلسٹ ریپبلک رکھاگیا،جس کا نصب العین محنت کشوں،کسانوں،مزدوروں اورپرولتاریہ کے حقوق کی نگہداشت تھا،جس کے پہلے سربراہ ولادی میرلینن اورپہلے آرمی چیف لیون ٹراٹسکی تھے،جوکہ گوریلاجنگ کاخود ایک اساطیری کردارہیں۔جس کے ہراول دستے میں جوزف اسٹالن تھے جنہوں نے لینن کے بعداقتدارسنبھالاتوایک مکمل زرعی معاشرے کو صنعتی معاشرے میں تبدیل کردیا،ایڈولف ہٹلراوران کے نازی نظریات کومیدان جنگ میں شکست فاش دے کردوسری جنگ عظیم کے فاتح کہلائے،جس ریاست نے پہلی مرتبہ بنی نوع انسان کوخلاؤں کی وسعتوں سے روشناس کروایا،جب سوویت خلانوردیوری گاگرین پہلے انسان قرارپائے جو”سپوتنک“نامی خلائی شٹل پربیٹھ کرزمین کے مدارسے باہرنکل گئے اورآج کے مواصلاتی انقلاب کی بنیادرکھی۔دنیامیں یہ ملک امریکہ کے ہم پلہ سپرپاورکہلاتاتھا،مگرجب گورباچوف اپنے ساتھیوں کی مددسے اقتدارمیں آئے توتعمیرنوکا نعرہ لگایا،کیمونسٹ پارٹی کا یہ دھڑا اصلاح پسند اورزیادہ شخصی آزادی کاحامی تصورکیاجاتا تھا۔معاشی جمودکوتوڑنے کے لئے یہ لوگ کھلی معیشت کی بات کرتے تھے۔جوکہ سرمایہ دارانہ نظام میں منڈی کے تصورسے گرچہ مختلف خیال تھامگر پھر بھی کانوں کوبھلی لگتی بات تھی۔”پری استروئیکا“کانعرہ لگاکرجب گورباچوف کرسیئ صدارت پربراجمان ہوئے توہرآنے والے دن کے ساتھ روس کی معیشت بیٹھتی ہی چلی گئی۔یہ تعمیرنوکاعہدآج بھی اسی نام سے یادکیاجاتاہے۔جس میں تمام سوویت یونین میں شامل ریاستوں کوزیادہ سے زیادہ داخلی خودمختاری دیناشامل تھا،مگرخراب معیشت،بدانتظامی اورنااہلی نے اس ریاست کاہی خاتمہ کردیا۔مقام عبرت ہی کہوں گاکہ کہاں دنیاکی سپرپاورکامطلق العنان سربراہ اورکہاں پیزاہٹ اورلوئی ووٹون کی مشہوریوں کے لئے اشتہارمیں ماڈلنگ کرتاپھرتاایک آدمی میخائل گورباچوف۔بے شک سدابادشاہی نیلی چھتری والے میرے رب کی ہے۔
اسی کی دہائی کے چندفوجی افسرجنہیں محترمہ بے نظیربھٹوجہادی جرنیل کہاکرتی تھیں،وہ سوویت یونین کے خاتمے کاکریڈٹ لیتے رہے ہیں۔جبکہ حقائق اس کے برعکس نظرآتے ہیں جب آپ تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں۔تعمیرنوجسے”پری استروئیکا“کہاجاتاہے۔روس کی کیمونسٹ پارٹی کاخالصتاًاندرونی فیصلہ تھا۔سوویت ریاستوں پرآزادی یوں کہہ لیں کہ مسلط کی گئی تھی۔ان ممالک کوآزادی سے دوچارہوناپڑاتھاجبکہ عوامی سطح پرکوئی بھی علیحدگی کی تحریک موجود نہ تھی۔یہ الگ حقیقت اپنی جگہ موجودہے کہ سوویت یونین کے خاتمے کانقصان پاکستان جیسے تیسری دنیاکے ممالک کوسب سے زیادہ ہوا۔وہ یوں کہ دنیا میں طاقت کا توازن ختم ہوگیا۔عالمی منظرنامے میں امریکہ کا کردار پولیس مین،تھانیدارکابن گیا۔اب توچین عالمی سطح پرایک معاشی وعسکری طاقت بن کرابھراہے اورروس نے بھی انگڑائی سی لی ہے،ورنہ توسوویت یونین کے خاتمے کے بعددودہائیاں امریکہ بہادردنیاکی واحدسپرپاوربن کرراج کرتارہا۔جہاں جی چاہتا،جب جب چاہتاحملہ آورہوجاتا،جس ملک کاچاہتاناطقہ بندکردیتا۔کوئی دوسراملک اس کے خلاف کھڑاہوناتودورکی بات ہے،آوازاٹھانے والا بھی نظرنہیں آتاتھا۔سردجنگ کے زمانے میں پاکستان جیسے ممالک کی یوں قدردانی کی جاتی کہ کہیں مخالف کیمپ میں نہ چلے جائیں،مگرسوویت یونین کے خاتمے کے بعددنیا”یونی پولر“ہوگئی اور ایک ہی قطب نمارہ گیاتھاجوکہ امریکہ تھا۔تاریخ میں گورباچوف کو ایک نااہل حکمران کے طورپریادرکھاجائے گا،جواس عہدے کے قابل نہیں تھاجس پراسے فائزکیاگیا۔قوموں کی زندگی میں ایسے حادثات ہوجاتے ہیں جب ایسے کم نظراورنالائق لوگ تخت نشین ہوجاتے ہیں،جن کاخمیازہ ریاستوں کواپنے وجودکی قیمت سے اداکرناپڑتاہے۔فرض کریں اگرموجودہ روسی صدر ولادی میرپوتین یااس جیسالیڈراس وقت گورباچوف کی جگہ سوویت یونین کا صدر ہوتاتوآج ہم ایک مختلف دنیا میں زندگی بسرکررہے ہوتے۔مغربی میڈیاکایہ کہناہے کہ گورباچوف نے سنسرشپ کاخاتمہ کیااورسوویت یونین کے گردتنے ہوئے آہنی پردے کوگرایا،یہ بات بڑی حدتک سچ ہے مگرمذکورہ آہنی پردے کوگراتے ہوئے اس کے ساتھ ساتھ سوویت یونین بھی شایداسی نے گرایاہے۔یہ 1991کی کرسمس کادن تھاجب سوویت یونین اورگورباچوف کے اقتدارکاخاتمہ ہوگیا۔جس طرح شہیدمرکربھی زندہ ہوتے ہیں اسی طرح بعض سیاسی رہنماجیتے جی ہی مرجاتے ہیں۔گورباچوف بھی ایسے ہی لیڈرتھے جن کے تاریخی کردارکاانتقال توان سے انتقال اقتدارکے ساتھ ہی ہوگیاتھا،ان کی طبعی موت اس ہفتے ہوئی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.