ایک تھے ’’باباجی‘‘

بابا جی میرے بہت پرانے دوست ہیں، یہی کوئی تین چار مہینے سے،ظاہر یہ مدت بہت کم ہے، مگر صورتِ حال یہ ہے کہ بابا جی سے میری دوستی اگر پچیس تیس سال کے عرصے پر بھی محیط ہوتی تو بھی انہی باتوں پر تکرار ہوتی، جن پر گزشتہ تین چار ماہ سے ہو رہی ہے۔ چند روز قبل وہ مجھے بتا رہے تھے کہ گزشتہ روز ایک عمارت کے تیسرے فلور پر انہوں نے ایک دوست سے ملنے جانا تھا، باقی لوگ لفٹ استعمال کر رہے تھے، مگر انہوں نے سیڑھیوں کے ذریعے تیسرے فلور پر جانے کو ترجیح دی، چنانچہ بیک وقت دو دو تین تین سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے وہ تیسرے فلور پر لفٹ سے پہلے پہنچ گئے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی روزانہ کی واک ایک گھنٹے پر مشتمل ہوتی تھی مگر اب وہ تین گھنٹے واک کرتے ہیں۔ بابا جی نے یہ بھی بتایا کہ ان کی پکڑی ہوئی ’’بِینی‘‘ کوئی نہیں چھڑا سکتا، ایک دفعہ ایک پہلوان نے کوشش کی تو اپنا بازو فریکچر کروا بیٹھا۔ اب وہ سمن آباد کے جُورے پہلوان سے پٹیاں کروا رہا ہے۔ باباجی بتا رہے تھے کہ انہوں نے چار شادیاں کی ہیں اور اس امر پر کفِ افسوس مل رہے تھے کہ اسلام میں چار شادیوں سے زیادہ کی اجازت کیوں نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر مہینے یورپ کے چکر لگاتے ہیں۔ میں نے کہا’’ آپ کو چکر نہیں آتے‘‘، انہوں نے سنجیدگی سے کہا ’’چکر؟ وہ کیا ہوتے ہیں‘‘ اور پھر بتایا کہ پچھلے ماہ وہ بلیک پول میں سب سے خطرناک جھولے پر بیٹھے۔ باقی لوگوں کی چیخیں نکل رہی تھیں، مگر وہ زور زور سے کہہ رہے تھے ’’پائی زور دی، پائی زور دی‘‘ (بھائی اور تیز چلائو) مزے کی بات یہ ہے کہ میری گزشتہ تین چار ماہ کی دوستی کے دوران وہ کشمیری بازار سے بھی باہر نہیں گئے اور ہاں باباجی اپنی عمر ایک سو بارہ سال بتاتے ہیں جبکہ ستر سے زیادہ کے نہیں ہیں۔ ایک دن کہہ رہے تھے کہ انہوں نے کھانے کی ایک شرط گزشتہ روز جیتی ہے مدمقابل نے ابھی صرف چار روٹیاں اور ایک مرغا ہی کھایا تھا جبکہ وہ پچاس روٹیاں اور چودہ مرغیاں ’’پھاڑ‘‘ چکے تھے، یہ کہتے ہوئے فاتحانہ انداز میں قہقہہ لگایا تو ان کی بتیسی باہر گر پڑی۔ ایک دفعہ مجھ سے مشورہ کر رہے تھے کہ ہر راہ چلتی لڑکی ان پر عاشق ہو جاتی ہے، ان چڑیلوں سے جان کیسے چھڑائی جائے؟ میں نے عرض کی کہ چڑیلیں تو چمٹ جایا کرتی ہیں چنانچہ اس حوالے سے کسی عامل کی خدمات حاصل کریں۔ ویسے میں بھی عامل رہا ہوں۔ اب بھی تھوڑی بہت پریکٹس کرتاہے۔ آپ ان چڑیلوں کو مجھ سے ملائیں، میں ان کا دم خم نکال دوں گا۔ بولے دفع کرو، جب میں لفٹ ہی نہیں کرائوں گا تو خود ہی جان چھوڑ دیں گی۔

بابا جی یہ بھی بتایا کرتے ہیں کہ انہوں نے بے شمار دنگل جیتے ہیں۔ ایک دفعہ انہوں نے رستم زماں گاما پہلوان کو چیلنج کیا اور اس کے ساتھ یہ بھی کہ اگر گاما پہلوان جیت گئے تو وہ انہیں دس کروڑ روپیہ انعام دیں گے۔ گاما پہلوان نے اس ضمن میں اپنے دوست پہلوانوں سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا یہ شخص بہت ہتھ چھٹ ہے۔ اس سے متھا نہ لگانا، ایویں ہڈیاں نہ تڑوا بیٹھنا، چنانچہ گاما پہلوان میدان میں اترا ہی نہیں۔ رستم زماں کا ٹائٹل جو خطرے میں پڑ گیا تھا۔ابھی دو دن پہلے لاٹھی ٹیکتے میرے پاس آئے تو اپنی شخصیت کا ایک اور رُخ بیان کیا۔ فرمانے لگے کہ وہ صرف سخت جان ہی نہیں ہیں بلکہ بہت بڑے شاعر بھی ہیں اور یہ کہ انہیں زبان و بیان پر اتنا عبور ہے کہ آج بھی بڑے بڑے شاعر ان سے مشورہ کرتے ہیں۔ میں نے پوچھا آج کل بڑے شاعر کہاں ہوتے ہیں؟ بولے وہ سب بڑے شاعر ہیں، جو اس مشاعرے میں شریک ہی نہیں ہوتے، جس کےبارے میں انہیں اطلاع ہو کہ وہاں میری صدارت ہے۔ میں تو کمزور غزل پڑھنے والے کو اسٹیج سے اتار دیا کرتا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مشاعرے میں حفیظ، جوش، فیض، ندیم اور اسی قماش کے کچھ دوسرے شعراء موجود تھے۔ یہ سب کلام سنانے سے پہلے مجھ سے اجازت طلب کرتے اور پھر ہر شعر پڑھنے کے بعد میری طرف داد طلب نظروں سے دیکھتے کہ جانتے تھے اگر اس بارگاہ سے داد مل گئی، تو وہ پاس ہو گئے۔ میں از راہِ بندہ پروری بس سر ہلا دیا کرتا تھا جس کے نتیجے میں ہزاروں سامعین اپنی جگہ سے اٹھ کر داد دینے لگتے تھے۔ میں نے پوچھا باباجی کبھی اقبال سے ملاقات ہوئی؟ فرمایا میں اس وقت ابھی جوانی میں قدم رکھ رہا تھا، مگر میری شہرت چار دانگ عالم میں پھیل چکی تھی، آپ کو پتہ ہے اقبال بہت قدر شناس تھے، چنانچہ میری شہرت سن کر ایک دفعہ خود ملنے چلے آئے، مجھے ان کی قدر شناسی کا یہ انداز بہت اچھا لگا، چنانچہ میں نے کھڑے ہو کر ان سے ہاتھ ملایا جبکہ میں کبھی کسی کے لئے کھڑا نہیں ہوا۔ انہوں نے شاعری کے حوالے سے مجھ سے کچھ مشورے کئے اور دعائیں لے کر رخصت ہوئے۔

زبان و بیان اور خصوصاً محاوروں پر تو باباجی کو قدرت حاصل ہے۔ ایک دن کہنے لگے میرا ارادہ اردو محاوروں کو دریا برد کرنے کا ہے، بہت بے معنی قسم کے ہیں۔ مثال کے طور پر بتایا کہ یہ ’’نیکی کر دریا میں ڈال‘‘ کیسا ناقابلِ عمل محاورہ ہے۔ انسان اگر کوئی نیکی کرے اور اسے دریا میں ڈالنے کے لئے قرب و جوار میں کوئی دریا ہی نہ ہو تو وہ نیکی کہاں لے جائے؟ اسی طرح کی ایک اور مثال انہوں نے دی بلکہ بے شمار مثالیں دیں اور میرے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا۔

باباجی کل صبح میرے پاس آئے تھے، اللہ جانے مجھے کیا سوجھی کہ میں شام کو ان کی طرف چلا گیا۔ مجھے دیکھ کر سخت حیران ہوئے، پوچھا ’’تم یہاں تک کیسے پہنچے؟ میں نے عرض کی ’’بس میں بیٹھ کر آیا ہوں‘‘۔ بولے ’’تم نے شاید ریڈیو یا ٹی وی سے کوئی خبر نہیں سنی؟‘‘ میں نے پوچھا ’’کون سی؟‘‘ بتایا کہ میں آج دوپہر کو انتقال کر گیا ہوں، حکومت نے پورے ملک میں سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ ٹی وی پر فوٹیج دکھائی جا رہی ہے کہ سڑکیں سنسان پڑی ہیں، مارکیٹیں بند پڑی ہیں اور ہر طرف سیاہ جھنڈے لہرا رہے ہیں!‘‘ یہ سن کر میں نے فاتحہ خوانی کے لئے ہاتھ اٹھائے اور ایک دفعہ الحمد اور تین دفعہ قل شریف پڑھ کر ’’مرحوم‘‘ سے اجازت لی اور واپس گھر کو روانہ ہو گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: