ایک سیارے سے آیا غیر معمولی سگنل جو ’خلائی مخلوق کی موجودگی کا پتا دے سکتا ہے‘

گو پراکسیما سینٹوری نظام شمسی میں موجود سیاروں میں سے نہیں ہے لیکن گذشتہ برس یہاں سے زمین تک پہنچنے والی لہروں کے ایک عجیب و غریب اخراج نے سائنسدانوں کو ان کی ’خلائی مخلوق‘ کی نشاندہی کے ثبوت کے طور پر جانچ پڑتال کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس حوالے سے شواہد ملے ہیں کہ یہ لہریں سیارہ پراکسیما سینٹوری بی سے آئی ہیں جسے ’سپر ارتھ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس سیارے کی سطح پتھریلی ہے اور یہ خیال بھی ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ یہاں پانی کی مائع کی شکل میں ہونے کے امکانات ہیں اور یہ زمین سے تقریباً چار اعشاریہ دو نوری سال کے فاصلے پر ہے۔

کچھ شواہد کے مطابق تو یہاں پر فضا کی موجودگی کے امکانات بھی ہیں۔ یہ ایلفا سینٹوری نامی سیاروں کے نظام کا حصہ ہے اور یہ نظام سورج کے قریب ترین ہے۔

ان لہروں کے بارے میں سائنسدانوں کو اس وقت معلوم ہوا جب سنہ 2019 میں آسٹریلیا میں واقع ایک بڑے ریڈیو دوربین نے ان غیرمعمولی لہروں کی نشاندہی کی تھی جس کے بعد سے مختلف ٹیمیں ان کی جانچ پڑتال میں مصروف تھیں۔

اور اس حوالے سے جن مفروضوں کے بارے میں بات کی جا رہی ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان لہروں کا اخراج دراصل ’غیرارضی‘ زندگی کا پتا دیتا ہے۔

بی بی سی منڈو سے بات کرتے ہوئے میڈرڈ کی کومپیوٹینس یونیورسٹی سے فزیکل سائنسز میں پی ایچ ڈی کرنے والے مار گومیز کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا سگنل تھا جو ایک ہی مرتبہ منظر عام پر آیا اور اس نے بار بار خود کو دہرایا نہیں لیکن اس کی فریکوینسی خلا میں موجود سیٹیلائٹس یا خلاگاڑیوں سے یکسر مختلف تھی۔

ماہرین کے مطابق اس حوالے سے شواہد ملے ہیں کہ یہ لہریں سیارہ پراکسیما سینٹوری بی سے آئی ہیں جسے ’سپر ارتھ‘ بھی کہا جاتا ہے
،تصویر کا کیپشنماہرین کے مطابق اس حوالے سے شواہد ملے ہیں کہ یہ لہریں سیارہ پراکسیما سینٹوری بی سے آئی ہیں جسے ’سپر ارتھ‘ بھی کہا جاتا ہے

سگنل کی نشاندہی کیسے ہوئی؟

پارکس آبزرویٹری نیو ساؤتھ ویلز، آسٹریلیا میں واقع ہے۔ تقریباً 50 برسوں سے یہاں نصب ایک ریڈیو دوربین کے نام پر اسے ’دا پلیٹ‘ بھی کہا جاتا ہے اور یہی وہ دوربین ہے جس نے اس عجیب و غریب سگنل کی نشاندہی کی۔

اس دوربین کا استعمال کئی خلائی مشنوں میں بھی کیا جا چکا ہے اور یہ ناسا سمیت مختلف خلائی اداروں کے ساتھ معلومات شیئر بھی کرتا ہے۔

گومیز بتاتے ہیں کہ ’ہم ایک انتہائی اہم دوربین کے بارے میں بات کر رہے ہیں، یاد رہے کہ اس کا استعمال اپولو 12 مشن کی چاند پر لینڈنگ کی تصاویر وصول کرنے کے لیے بھی کیا گیا تھا۔

محقق کا مزید کہنا ہے کہ یہ رسد گاہ کے ذریعےغیر ارضی مخلوق کے حوالے سے تحقیق میں حصہ لیتی ہے جس میں سیٹی نامی پراجیکٹس شامل ہیں۔

تاہم لہروں کے اس عجیب اخراج کے باعث سائنسدانوں کی توجہ اس جانب مبذول ہو گئی ہے۔

گومیز مزید بتاتے ہیں کہ چونکہ خلا میں صوتی لہریں یعنی ساؤنڈ ویوز سفر نہیں کر سکتیں اسی لیے یوں کہہ لیں کہ ہمارے لیے خلا میں بات چیت کرنے کا واحد راستہ ہے ریڈیو ویوز ہیں۔ ہم انھیں بیرونی خلا میں خارج کر سکتے ہیں اور شاید کسی دوسرے سیارے یا ستارے کے نظام سے زندگی کی ایک قسم ایسی ہے جو بات چیت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

بریک تھرو لسن پراجیکٹ، جو کائنات میں غیر ارضی زندگی کی نشاندہی کی تلاش میں مشاہدے اور تجزیے کے لیے وقف کیا گیا ہے کو اس بارے میں آگاہ کیا جا چکا ہے۔

سنہ 2015 میں شروع ہونے والے اس منصوبے کو آغاز میں 10 کروڑ ڈالر کی امداد دی گئی تھی اور اس کی حمایت معروف سائنسدان سٹیفن ہاکنگ نے بھی کی تھی۔

برطانوی اخبار دی گارڈیئن کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق بریک تھرو لسن پراجیکٹ آئندہ مہینوں میں اس سگنل سے متعلق تحقیق ایک رپورٹ کی شکل میں شائع کرے گا۔

گومیز کے مطابق اس وقت سائنسی برادری میں پراکسیما سینٹورا بی سے آنے والی لہروں کے حوالے سے معلومات کو مخفی رکھا جا رہا ہے۔

ناسا نے پراکسیما سینٹوری بی کو زمین سے ایک اعشاریہ 27 گنا بڑا ایگزو پلینیٹ کا درجہ دے رکھا ہے اور اسے سال 2016 میں دریافت کیا گیا تھا۔

یہ ریڈیو دوربین دا پلیٹ جنوبی آسٹریلیا میں موجود ہے
،تصویر کا کیپشنیہ ریڈیو دوربین دا پلیٹ جنوبی آسٹریلیا میں موجود ہے

غیر ارضی زندگی کی تلاش

زیادہ سے زیادہ سائنس دان بحث کر رہے ہیں کہ غیر ارضی زندگی کی تلاش کو زیادہ سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔

بی بی سی کے سائنس کے نمائندے پلب گھوش نے فروری میں خبر دی تھی کہ سیئیٹل میں امریکی ایسوسی ایشن

برائے سائنسی ترقی کے اجلاس میں بھی غیر ارضی زندگی کی تلاش کو سنجیدگی سے لینے کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں۔

امریکی نیشنل ریڈیو آسٹرونومی آبزرویٹری کے ڈائریکٹر انتھونی بیسلے نے کہا ہے کہ تحقیق کے اس شعبے کے لیے واشنگٹن کا مزید تعاون حاصل ہونا ضروری ہے کیونکہ ان تجاویز کو کئی دہائیوں سے سرکاری منصوبوں کی مالی اعانت کرنے والے مسترد کرتے آئے ہیں۔

ناسا کے بھی اس سلسلے میں اپنے منصوبے ہیں اور اب وہ فلکیاتی مشاہدے سے ایک قدم آگے بڑھ چکا ہے۔

اس سال جولائی میں اس نے مریخ پر زندگی کا پتا دینے والی اشیا کی تلاش کے لیے پریزروینس روور روبوٹ مشن کا آغاز کیا تھا۔

سنہ 1970 کی دہائی میں وائکنگ مشن کے بعد زندگی کے حیاتیاتی نشانوں کی براہ راست تلاش کرنے والا یہ ناسا کا پہلا مشن ہے۔

یہ وہ پہلا موقع تھا جب زمین سے خلا میں ایک سگنل بھیجا گیا تھا تاکہ خلائی مخلوق سے رابطہ کیا جا سکے۔

گومیز نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سارے منصوبے بامقصد ہیں کیونکہ اگر ان کے نتیجے میں دوسرے سیاروں پر بیکٹیریا یا جرثوموں تک کی تلاش کر لی جائے تو یہ بھی تاریخ کی سب سے اہم سائنسی خبر ہو سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ انتہائی دلچسپ تحقیق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم زندگی کی کسی بھی شکل کی نشاندہی کر لیں تو اس کی تلاش ہمیں انسانی زندگی کے آغاز کے بارے میں جاننے میں مدد کر سکتی ہے کہ زندگی کس طرح قائم رہ سکتی ہے۔ یہ بنیادی طور پر ہمارے وجود کا آخری سوال ہے۔

error: