ایک غزل ۔۔ دریائے نیل کے نام

دیکھتے ہیں مصر والے جب کنارا نیل کا
یاد آجاتا ہے ان کو سارا قصہ نیل کا

چیر کر سینہ ہوئے جو پار موسی نیل کا
کر گیا فرعون کو غرقاب دھارا نیل کا
ِ
مصر آؤ دوستو تم کو اگر فرصت ملے
کم سے کم اک بار تو دیکھو نظارہ نیل کا

عمر بھر وہ بھول پاتا ہی نہیں ہے ذائقہ
جو کوئی پیتا ہے میٹھا پانی دریا نیل کا

غور سے دیکھیں تو یہ لگتا ہے اکثر دوستو
آسماں پر پڑ رہا ہے نیلا سایہ نیل کا

عشق، تنہائی ، خوشی اور غم کے ان لمحات میں
قاہرہ والوں کو ملتا ہے سہارا نیل کا

اس کی موجیں خون بن کر دوڑتی ہیں جسم میں
ان رگوں میں موجزن ہے قطرہ قطرہ نیل کا

بیٹی ہے تو اے ولا اس غیر فانی نیل کی
تیرا ہر اک شعر ہے گویا کہ نغمہ نیل کا

ایک غزل ۔۔ دریائے نیل کے نام” پر ایک تبصرہ

  • October 3, 2021 at 1:05 am
    Permalink

    بہت عمدہ کاوش ہے۔ تلوک چند محروم اور علامہ اقبال کے دریاٶں پہاڑوں کےبارے میں شاعری نظر نہیں آتی۔ چوتھے شعر ے دوسرے مصرعے میں شاید پانی، میٹھا سے پہلے ہوگا۔ خوش قسمتی سے میں نے نیل کا پانی پیا ہے۔

تبصرہ کرنے کی سہولت موجود نہیں۔