ایک فحش تصویر نے کیسے برطانیہ کی سب سے بڑی چوری میں ملوث افراد کا سراغ لگانے میں مدد کی

جنوری 2020 کی ایک دوپہر شدید بارش میں تفتیش کار تھامس گریمشا جنوب مشرقی لندن کی ایک عام سی سڑک پر بنے ایک سستے ہوٹل میں یہ سوچ کر گئے کہ شاید کسی بڑے مقدمے کو حل کرنے میں انھیں مدد مل سکے۔

گریمشا نے استقبالیہ سے ان مہمانوں کے بارے میں پوچھا جو دسمبر کے وسط میں وہاں ٹھہرے تھے۔

انھوں نے گریمشا کو ایک ایسے گروپ کے بارے میں بتایا جو انھیں بہت اچھی طرح سے یاد تھا۔

ان میں سے ایک نے ان کی ایک ساتھی کو فون پر نامناسب پیغامات بھیجے تھے، جس میں ان کے عضوِ تناسل کی تصویر بھی شامل تھی۔ اس نے اس کا نمبر ‘عجیب آدمی‘ کے طور پر اپنے فون میں محفوظ کیا۔

یہ وہ اہم سراغ تھا جس کی گریمشا کو تلاش تھی۔

اس فون نمبر کا سراغ لگانے سے پولیس کو برطانیہ کی تاریخ کی سب سے بڑی گھریلو چوری میں پہلے مشتبہ شخص کی شناخت میں مدد ملی۔

کرسمس سنہ 2019 سے دو ہفتے قبل تمارا ایکلسٹون، ان کے شوہر جے رٹلینڈ اور ان کی بیٹی صوفیہ نے لیپ لینڈ کا سفر کیا۔

فارمولا ون کے سابق چیئرمین برنی ایکلسٹون کی بیٹی نے انسٹاگرام پر روانگی سے قبل ایک تصویر پوسٹ کی۔

اس رات ان کے لندن والے گھر میں ایک سکیورٹی گارڈ نے رات 11 بجے کے فوراً بعد تین چوروں کو بنا ماسک کے دیکھا۔ وہ ایکلسٹون کے ڈریسنگ روم کے اندر تھے جسے والٹ کہا جاتا ہے اور اس کا چھ انچ کا مضبوط سٹیل کا دروازہ کھلا تھا۔

وہ ایک چھوٹی سی کھڑکی سے ڈھائی کروڑ پاؤنڈ سے زیادہ نقدی اور زیورات بشمول ہیرے اور گھڑیاں لے کر فرار ہو گئے۔

اس تفتیش کو ’آپریشن اوکلینڈ‘ نام دیا گیا تھا لیکن صرف ایک کمرے میں دو ڈسپوزیبل فون اور ایک سکریو ڈرائیور ملا۔

ایک ٹیکسی سے دوسری ٹیکسی تک

سکیورٹی کیمروں میں دیکھا گیا کہ سیاہ ٹیکسی میں تین افراد سوار تھے۔

تفتیش کاروں نے ان تمام کالی ٹیکسیوں کا سراغ لگایا جو اس رات اس علاقے میں چل رہی تھیں۔ انھوں نے 1006 ٹیکسیوں کی شناخت کی۔ انھوں نے ٹیکسی ڈرائیوروں سے پوچھا کہ کیا انھیں مشرقی یورپ کے تین آدمیوں کو پِک کرنا یاد ہے؟

ایک ٹیکسی ڈرائیور ٹیری نے انھیں بتایا کہ وہ انھیں ہلٹن ہوٹل کے عقب میں لے گئے تھے۔

ایک اور سکیورٹی کیمرے کی فوٹیج میں تین آدمی دیکھے گئے جو بیگ اٹھائے ہوئے تھے، بعد میں پتا چلا کہ وہ ایکلسٹون اور رٹلینڈ کے تھے، پھر وہ دوسری ٹیکسی میں سوار ہوئے۔

Las imágenes de la cámara de seguridad mostraron a los sospechosos subiendo a un taxi.
،تصویر کا کیپشنسیکیورٹی کیمرے کی فوٹیج میں مشتبہ افراد کو ٹیکسی میں سوار ہوتے دکھایا گیا ہے

وہ ٹیکسی پھر رات کو گم ہو گئی۔ جاسوسوں نے ڈرائیور جمی کا سراغ لگایا، جسے بالکل یاد نہیں تھا کہ اس نے مسافروں کو کہاں اتارا تھا لیکن اس بات پر اتفاق ہوا کہ ایک مخصوص محراب والا پل تھا۔

اس سے جاسوس تلاش کو سینٹ میری کرے کے مضافاتی علاقے تک محدود کرنے کے قابل رہے اور انھوں نے علاقے میں حفاظتی کیمروں کا جائزہ لینا شروع کیا۔

ایک ویڈیو میں کچھ افراد کو ایک چھوٹی سی گلی میں چلتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

تھانے کے اس پار ٹی ایل کے اپارٹمنٹس نامی ایک سستا ہوٹل تھا۔ گریمشا نے اپنی چھٹی حس کی پیروی کی کہ انھیں وہاں جانا چاہیے۔

گریمشا کو عضو تناسل کی تصویر کے بارے بتایا گیا۔

ان تفتیش کار کا کہنا ہے کہ ‘ایک بار جب مجھے اس بارے میں پتا چلا، مجھے ایسا لگا جیسے ہم نے صحیح گروپ کی شناخت کر لی ہے۔‘

فرنٹ ڈیسک کے عملے نے چیک ان کے وقت اس شخص کے شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی کی تھی۔ اس کا نام جوگوسلاو جووانووچ تھا، جو ایک 23 سال کا اطالوی شہری تھا۔

یہ پہلا مشتبہ شخص تھا۔

بڑی بڑی چوریاں

مزید مشتبہ افراد کی جلد ہی شناخت ہونے والی تھی لیکن پہلے پولیس کو یہ معلوم ہوا کہ ایکلیسٹون ڈکیتی ان چوروں کی واحد ڈکیتی نہیں تھی جس میں انھوں نے کسی مشہور شخصیت کو لوٹا ہو۔

یکم دسمبر کو مغربی لندن میں ایک اور بڑی ڈکیتی ہوئی تھی۔ سابق فٹبال کھلاڑی فرینک لیمپارڈ اور ان کی اہلیہ کرسٹین کی 60 ہزار پاؤنڈ مالیت کی لگژری گھڑیاں، کف لنکس اور بریسلیٹ چوری کر لیے گئے تھے۔

سکیورٹی کیمرے کی فوٹیج سے ایک اور شخص کا پتا چلا، جو جووانووچ کے شناختی کارڈ سے ملتا جلتا تھا۔

پولیس نے اپنی تلاش کا دائرہ وسیع کیا: یکم سے 18 دسمبر کے درمیان لندن میں کتنی بڑی ڈکیتیاں ہوئیں؟ انھیں 10 دسمبر کو ہونے والی ایک اور ڈکیتی کا پتا چلا۔

لیسٹر سٹی فٹبال کلب کے آنجہانی مالک وچائی سری ودھناپرابھا کی 10 لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ کی گھریلو اشیا چوری ہو گئی تھیں۔

A Cartier bangle
،تصویر کا کیپشنایکلسٹون سے چوری ہونے والی ذاتی اشیا میں ایک کرٹئیر بریسلٹ بھی شامل تھا

سنہ 2018 میں ان کی موت کے بعد سے ان کے گھر کوئی نہیں گیا تھا اور جب ان کے اہلخانہ لندن آتے تو بس یہاں دعا وغیرہ ہوتی۔

سات مہنگی گھڑیاں اور چار لاکھ یورو کی نقدی چوری کر لی گئی۔ تفتیش کاروں نے سکیورٹی کیمروں پر ایک مانوس چہرہ دیکھا اور وہ تھا جووانووچ۔

چور اور سپورٹ گروپ

پولیس کیس کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔

انھوں نے چار آدمیوں کی شناخت کرنے کی کوشش کی جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ ڈاکو تھے بلکہ چار دوسرے بھی جو مبینہ طور پر ‘سپورٹ گروپ‘ تھے جن کا کام ٹیکسیوں، ہوٹلوں اور پروازوں وغیرہ کا انتظام کرنا تھا۔

جووانووچ 30 نومبر کو کروشیا سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ ڈینیئل جووکووچ کے ساتھ برطانیہ میں داخل ہوئے۔ دونوں نے اس دن سینٹ میری کرے کے ہوٹل میں چیک ان کیا۔

18 دسمبر کو انھوں نے ملک چھوڑ دیا: جووانووچ میلان چلے گئے، جبکہ ووکووچ، جن کے ساتھ ایک خاتون ماریا میسٹر بھی تھی وہ بلغراد گئے۔

Las imágenes capturadas por las cámaras de seguridad de la casa mostraron a un hombre de apariencia similar al que se ve en los documentos de Jovanovic.
،تصویر کا کیپشنگھر کے حفاظتی کیمروں سے حاصل کی گئی تصاویر میں ایک آدمی جووانووچ کی دستاویزات میں نظر آنے والے شخص سے ملتا جلتا نظر آیا

تفتیش کاروں کو ایک اور سراغ تب ملا جب وہ ڈکیتی سے چند گھنٹے قبل جووانووچ اور دیگر افراد کو ٹرین پر سوار ہوتے شناخت کرنے میں کامیاب ہوئے۔

لندن وکٹوریہ میں لائن کا آخری حصہ ان کی دلچسپی کا مرکز بن گیا، لہٰذا افسران نے سٹیشن کے کیمروں کے ذریعے تلاش کا کام شروع کر دیا۔

جووانووچ اور ووکووچ کو ٹرین سے اترتے دیکھا گیا۔ تھوڑی دیر بعد اس جوڑے کو دو دیگر مردوں کے ساتھ سٹیشن سے نکلتے ہوئے دیکھا گیا۔

یوروپول نے ان کی شناخت کرنے میں مدد کی: یہ اطالوی شہری الیسانڈرو ڈوناتی اور الیسانڈرو مالٹیز تھے۔

سٹیشن کی تصاویر سے ایک اور سراغ ملا۔ جووانووچ کو پانچویں آدمی سے ہاتھ ملاتے اور اس کے ساتھ چلتے ہوئے دیکھا گیا۔ پولیس نے ان کا پیچھا کیا اور انھیں پتا چلا کیا کہ اُنھوں نے ادائیگی کے لیے اپنا بینک کارڈ استعمال کیا تھا۔

یہ میسٹر کا بیٹا ایمل بوگڈان ساوسترو تھا، جو 12 دسمبر کو ٹوکیو سے لندن گیا تھا اور جنوری کے اوائل میں میلان کے لیے روانہ ہوا تھا۔

ماں اور بیٹے کو اس سپورٹ گروپ کا حصہ سمجھا گیا جس میں رومانیہ کے دو افراد الیگزینڈرو سٹین اور سورین مارکوویچی شامل تھے۔

Los sospechosos fueron filmados en un café en una estación de tren.
،تصویر کا کیپشنمشتبہ افراد کو ٹرین سٹیشن کے ایک کیفے میں دیکھا گیا

ملزمان پکڑے گئے

لندن کے ہیتھرو ہوائی اڈے پر پہلا گرفتار ہونے والا ساواسترو تھا۔ اس کے پاس رٹلینڈ کا لوئی ووٹون کا بیگ اور سری ودھناپربھا کی ٹیگ ہیور گھڑی تھی۔

اپنے بیٹے کی گرفتاری کے بارے میں جان کر میسٹر برطانیہ واپس چلی گئیں۔ اُنھیں فوری طور پر ہوائی اڈے پر گرفتار کر لیا گیا۔ اُنھوں نے بالیوں کا ایک جوڑا پہنا تھا جو تمارا ایکلسٹون سے ملتا جلتا تھا۔ اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ وہ وہی بالیاں ہیں لیکن انھیں بنانے والے ڈیزائنر نے بتایا کہ صرف تین جوڑے بنائے گئے تھے۔

میسٹر کی فیس بک کی تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ اُنھوں نے ایک ہار پہنا ہوا ہے بالکل ویسا ہی کسٹم میڈ ہے جو رٹلینڈ نے لاس اینجلس میں اپنی بیوی کے لیے خریدا تھا۔

ان دونوں ماں بیٹے نے عدالت کو بتایا کہ انھیں نہیں معلوم کہ یہ سامان جو انھیں دیا گیا تھا یہ چوری شدہ تھا۔

یہ بھی پتا چلا کہ ساوسترو نے ایک ایئر بی این بی کی ادائیگی کے لیے اپنا بینک کارڈ استعمال کیا تھا جس میں جووانووچ، ووکووچ، مالٹا کا شہری اور ڈوناتی چوری کے بعد کچھ دنوں تک رہتے رہے تھے۔ ساوسترو نے بھی زیادہ تر پروازیں بک کر رکھی تھیں۔

نومبر 2020 میں مارکوویچی، سٹین، ساواسترو اور میسٹر پر چوری کی سازش کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔

کچھ اندازہ نہیں

میسٹر کا دفاع یہ تھا کہ وہ ایک بین الاقوامی جسم فروش تھیں اور سال بھر پہلے میلان کے ایک بار میں ووکووچ سے بطور کلائنٹ ملی تھیں۔ میٹسر کے مطابق دسمبر 2019 میں اُنھوں نے اُنھیں اپنے ساتھ لندن جانے کو کہا اور اُنھیں ہزاروں یورو دیے۔ میسٹر نے کہا کہ اُنھیں کوئی اندازہ نہیں تھا کہ ووکووچ یا جن مردوں کے ساتھ وہ تھیں، وہ بڑی بڑی چوریاں کر رہے تھے۔

اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا ‘دوسرے تمام فیاض گاہکوں کی طرح میرے لیے ووکووچ اس ہنس کی طرح تھا جو سونے کے انڈے دیتا ہے۔۔۔ مجھے اس احمق کے بارے میں کوئی چیز نہیں کھٹکی۔‘

بری ہونے کے بعد اُنھوں نے کہا: ‘میں ان چوریوں کے بارے میں 100 فیصد بے قصور ہوں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ پولیس کبھی بھی اُن کا یا اُن کے بیٹے کا جرم ثابت نہیں کر سکی۔

Emil Bogdan Savastru fue arrestado en el aeropuerto de Londres
،تصویر کا کیپشنایمل بوگدان ساواسترو کو لندن کے ہوائی اڈے پر گرفتار کیا گیا

سٹین نے عدالت کو بتایا کہ ایک دوست نے ان سے کچھ اطالویوں کی مدد کرنے کو کہا تھا جو لندن میں نئے تھے اور انھیں گاڑی اور گھومنے پھرنے میں مدد کی ضرورت تھی۔ وہ ان کے ساتھ کافی پینے اور نمبروں کے تبادلے کے لیے ملا تھا۔ اُنھوں نے اصرار کیا کہ اُنھیں نہیں پتا تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔

سٹین نے بی بی سی کو بتایا ‘میرے خلاف تمام ثبوت یہ ظاہر کرتے ہیں کہ میں ملوث نہیں تھا۔‘

مارکوویچی جو میسٹر کے بچپن کے دوست تھے، ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ وہ معصوم ہیں اور اُنھیں ایسی چیز میں پھنسایا گیا ہے’ جس کے بارے میں اُنھیں کچھ معلوم نہیں تھا۔

جنوری 2021 میں، ان چاروں کو بے قصور قرار دیا گیا۔ لیکن یہ کہانی کا اختتام نہیں تھا۔

مجرم

پولیس نے دیگر معلومات کی بنیاد پر میسٹر اور ان کے بیٹے ساوسترو پر مقدمہ چلایا۔

میسٹر کو پولیس کو اس کے فون تک رسائی کی اجازت نہ دینے کا مجرم قرار دیا گیا تھا، جبکہ ساوسترو کو جعلی بل رکھنے کے غیر متعلقہ الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔

اور آخر کار تفتیش کار بیرون ملک فرار ہونے والے تین چوروں کو پکرنے میں کامیاب رہے۔

Alessandro Maltese, Jugoslav Jovanovic y Alessandro Donati
،تصویر کا کیپشنالیسانڈرو ، جووانووچ اور الیسانڈرو ڈوناتی کو اٹلی میں گرفتار کر کے برطانیہ کے حوالے کر دیا گیا

ڈوناتی اور مالٹیز کو میلان میں گرفتار کیا گیا تھا اور پھر 2020 کے موسم خزاں میں برطانیہ کے حوالے کیا گیا تھا۔ جووانووچ کو اکتوبر 2020 میں روم کے قریب سانتا مارینیلا کے اطالوی ساحل سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اُنھوں نے حوالگی کے خلاف سخت جدوجہد کی، لیکن اسے اپریل 2021 میں لندن لایا گیا۔

تینوں نے چوری کی سازش کا اعتراف کیا اور نومبر 2021 میں انھیں جیل بھیج دیا گیا۔

لیکن اب بھی ایک شخص فرار ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ڈکیتیوں کا ماسٹر مائنڈ ہے۔

پراسرار آدمی

اس کی اصل شناخت ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔

عدالتی سماعت کے دوران اس کا نام ڈینیل ووکووچ کے طور پر سامنے آیا، جو ایک 39 سالہ کروشین شہری ہے۔

بی بی سی کی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ اطالوی حکام اُنھیں 17 دیگر شناختوں سے جانتے تھے۔

Foto de Alfredo Lindley

بی بی سی کو دکھائے گئے اطالوی عدالتی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا اصل نام الفریڈو لنڈلی ہے، جو پیرو کا شہری ہے اور 1981 میں میرافلورس، لیما میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا مجرمانہ ریکارڈ 1995 سے چلا آ رہا ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق پولیس نے ان کا تعلق 2009 میں بین الاقوامی فٹ بال کھلاڑیوں پیٹرک ویرا اور سلی منتری کی مبینہ ڈکیتیوں سے بھی جوڑا۔

ایک شخص جسے اطالوی پریس نے ‘حقیقی زندگی کا لوپین‘ قرار دیا ہے، اس کے بارے میں ایسا اشارہ ملا کہ اس کا تعلق سربیا سے ہو سکتا ہے۔

بی بی سی کو ایک اور شناخت ملی: سربیا کی حکومت کی طرف سے جاری کردہ آئی ڈی کے مطابق، اس کا تازہ ترین عرف جبومیر رامانوو ہے۔

ان کی حوالگی کی کوششیں کی گئی ہیں لیکن سربیا کے حکام نے انھیں مسترد کر دیا ہے۔

جہاں تک چوری ہونے والے زیورات کا تعلق ہے، جاسوسوں کا کہنا ہے کہ گھڑیاں، ہار، کان کی بالیاں اور انگوٹھیاں پگھلائی نہیں گئی تھیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایک دن ہیرے بھی سامنے آئیں گے۔

تفتیش کار اینڈریو پاین، جنھوں نے آپریشن اوکلینڈ پر کام کیا تھا، کہتے ہیں: ‘یہ ایسا خزانہ ہے جو دفن ہے۔‘

error: