ایک ماہ تک روزانہ بادام یا فرنچ فرائیز کھانے سے جسم میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں؟

یہ وہ سوال ہے جس کا جواب جاننے کے لیے ایک تحقیق پر کام کیا گیا جس کے دوران 107 افراد کو روزانہ فرنچ فرائیز جبکہ 58 کو اتنی ہی کیلوریز پر مبنی باداموں کی مقدار کھلائی گئی۔

حیران کن طور پر تحقیق کے اختتام پر دریافت کیا گیا کہ دونوں گروپس میں شامل جسمانی چربی کی کی مجموعی مقدار یا خالی پیٹ بلڈ گلوکوز کی سطح میں کوئی نمایاں فرق نہیں آیا۔تحریر جاری ہے‎

طبی جریدے امریکن جرنل آف کلینکل نیوٹریشن میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ فرنچ فرائیز کھانے والے افراد کا جسمانی وزن تھوڑا زیادہ بڑھ گیا مگر یہ کوئی نمایاں فرق نہیں تھا۔

اس گروپ کے افراد میں اوسطاً 0.49 کلوگرام وزن بڑھا جبکہ بادام کھانے والے افراد میں یہ شرح ایک کلوگرام کا 10 واں حصہ تھا۔

امریاک کے انڈیانا یونیورسٹی اسکول آف پبلک ہیلتھ کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر آپ بادام پسند کرتے ہیں تو ان کو کھائیں، اگر آلو پسند کرتے ہیں تو ان کا مزہ لیں، مگر دونوں کی زیادہ مقدار کھانے سے گریز کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ بہتر یہ ہے کہ دونوں کی کچھ مقدار کو جزوبدن بنائیں، دونوں ہی کے کچھ منفرد فوائد ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تحقیق سے تصدیق ہوتی ہے کہ ہر غذا فٹ رکھ سکتی ہے، ہم بادام کھاسکتے ہیں، فرنچ فرائیز اور کوکیز سے بھی لطف اندوز ہوسکتے ہیں، کسی ایک غذا کا استعمال اور دوسرے سے گریز صحت بخش غذا کا حصہ نہیں۔

مگر انہوں نے یہ بھی کہا کہ نتائج کا مطلب یہ نہیں کہ روزانہ ہر وقت فرنچ فرائیز کھانا ٹھیک ہے، آلو غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے مگر اس کو تلنے کے عمل سے اس کے فوائد گھٹ جاتے ہیں۔

محققین نے کہا کہ چونکہ فرنچ فرائیز کو اکثر دیگر زیادہ چکنائی والی غذاؤں کے ساتھ کھایا جاتا ہے تو ان کو روزانہ غذا کا حصہ نہیں بنانا چاہیے بلکہ مگر مجموعی متوازن غذا میں ان کو حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

اس تحقیق میں فرنچ فرائیز کا موازنہ باداموں سے اس لیے کیا گیا کیونکہ ان گریوں کو توانائی کے توازن اور دیگر مثبت اثرات کے لیے جانا جاتا ہے۔

اس کے مقابلے میں فرنچ فرائیز امریکا میں بہت زیادہ مقبول غذا ہے ہر امریکی شہری اوسطاً ہر سال 30 پونڈ فرنچ فرائیز کھالیتے ہیں۔