ایک نس، ٹس سے مس اور بس

"زکریا ایوبی"

30 مارچ 2022، وہ بد قسمت دن جب میں اپنے بھائی، دوست ، ہمدرداور شاگرد شیر احمد کی آنکھوں پر آخری بار ہاتھ پھیرا اور ان تمام خوابوں کے ساتھ اسے تابوت میں منتقل کردیا، جو ہم نے
مل کر دیکھے تھے۔ شیر احمد میرا ماموں زاد بھائی لیکن میرے لیے وہ بیٹے جیسا تھا۔ گزشتہ چار سال کے عرصے میں شیر احمد کو میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ایک شرمیلے بچے سے کڑیل جوان ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ لاہور میں میری طاقت تھا، میرے گھر کا ایسا فرد جس کے بغیر گھر صرف چھت اور دیواروں کا ایک مجموعہ ہوتا ۔میرے گھر کی رونقوں میں اضافے کا سبب شیر احمد ہی تھا جس کو مجھ سے زیادہ گھر کی فکر رہتی تھی۔
میری اور شیر احمد کی کہانی 2009 میں شروع ہوئی تھی۔ کالج سے فارغ ہوا تو کچھ عرصے کے لیے الناصر اسکول اینڈ کالج میں پڑھانا شروع کیا۔ شیر احمد اس وقت پانچویں کلاس میں پڑھتا تھا۔ زیادہ میل جول نہ ہونے اور عمر میں فرق کے باعث شیر احمد کو اس سے پہلے صحیح طور پر جاننے کا موقع نہیں ملا تھا۔ کلاس میں اکثر و بیشتر خاموش رہتا، یا نقش و نگار بنانے میں مصروف رہتا۔ پینٹنگ کا شوق کب شروع ہوا تھا معلوم نہیں لیکن پانچویں کلاس تک پہنچتے پہنچتے ہاتھ کی صفائی اچھی خاسی پختہ ہوگئی تھی۔ اسکول میں چھ ماہ کے دوران شیر احمد سے استاد اور شاگرد کا ایک تعلق بن گیا تھا جو آخری دم تک جاری رہا۔ایف ایس سی کرنے تک شیر احمد آرٹ کے میدان میں گرم چشمہ کی حد تک خود کو منوا چکا تھا۔مجھے لگا کہ اس موڑ پر شیر احمد کی صحیح رہنمائی نہ کی گئی تو اس کا فن ضائع جائے گا۔ لہذا میں نے ذاتی دلچسپی لے کر انہیں لاہور بلانے کا فیصلہ کیا تاکہ کسی اچھے سے ادارے میں ان کو آرٹ کی تعلیم دلوائی جاسکے۔
2019 میں وہ میرے پاس لاہور آگیا اور ایک پرائیوٹ ادارے میں جاب شروع کردی تاکہ گھر والوں پر بوجھ بننے کے بجائے اپنے تعلیمی اخراجات خود اٹھا سکے۔ 2020 میں انسٹیٹیوٹ فار آرٹ اینڈ کلچر میں 75 فیصد اسکالر پ پر اسے داخلہ مل گیا جس کے بعد وہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ کلاس میں نمایاں پوزیشن تو لیتا ہی تھا لیکن اپنی قابلیت کے پیش نظر اساتذہ اور دوستوں کی آنکھ کا تارہ بن گیا تھا۔ جس ادارے میں لاکھوں روپےفی سمسٹر فیس تھی وہاں اس نے نہ صرف اپنے بل بوتے پر داخلہ لیا تھا بلکہ ادارے کے سامنے خود کو منوا بھی لیا تھا۔

7 مارچ کی رات ساڑھے 8 بجے آخری بار فون پر اس سے بات ہوئی ۔ اس وقت وہ اپنے آفس میں تھا۔ آفس کے دوستوں کے مطابق مجھ سے فون پر بات کرنے کے بعد وہ اے ٹی ایم تک جانے کا کہہ کر باہر نکلا۔ اس کو جلدی واپس آنے کا اتنا یقین تھا کہ اپنا موبائل اور پرس تک ٹیبل پر چھوڑ گیا تھا اور لیپ ٹاپ کو بھی اوپن ہی چھوڑ کر نکلا تھا۔ کافی دیر وہ واپس نہیں آیا تو دفتر والوں کو لگا کہ شاید میرے ہاں چلا گیا ہے کیونکہ باہر جانے سے پہلے اس نے فون پر مجھ سے بات کی تھی۔ رات ایک بجے مجھ سے رابطہ کیا گیا کہ شیر احمد باہر گیا تھا واپس نہیں آیا۔ میں نے پہلے اس کے دوستوں سے رابطہ کیا، پھر ہاسٹل میں پوچھا لیکن کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا۔ اس کے فون سے میں نے یونیورسٹی کے دوستوں کے نمبرز حاصل کیے لیکن سب لا علم تھے۔ رات تین بجے ہسپتال سے پتہ کرنے کا فیصلہ کیا اور شیر احمد کے ہی دو دوستوں کو جناح ہسپتال بھیج دیاجنہوں نے یہ اندوہناک خبر دی کہ وہ ہسپتال میں ہے اور وینٹی لیٹر پر ہے۔شیر احمد دفتر سے 9 بجے نکلا تھا اور ہسپتال کے ریکارڈ کے مطابق 9 بج کر 14 منٹ پر اسے ریسکیو والوں نے ہسپتال پہنچایا تھا۔ اس 14 منٹ ک دورانیہ کو دیکھا جائے تو دفتر سے باہر نکل کر ایک سے 2 منٹ کے اندر وہ حادثے کا شکار ہوگئے تھے۔ ریسکیو والوں کے مطابق یو سی پی کے سامنے سروس روڈ پر ایک تیز رفتار گاڑی نے شیر احمد کی بائیک کو ٹکر ماری تھی جس کے باعث اس کا سرفٹ پاتھ سے ٹکرایا اور بے ہوش ہوگیا۔ پورا جسم صحیح سلامت تھا بازو اور ٹانگوں میں کچھ خراشیں تھیں، اور پیشانی پر زخم کا نشان وہ بھی اتنا معمولی کہ خود تک نہیں نکلا تھا۔
اگلے 23 دن بہت کٹھن تھے لیکن ایک امید تھی کہ پورا جسم سلامت ہے، دماغ کی چوٹ کبھی نہ کبھی تو ٹھیک ہوہی جائے گی۔ شروع شروع میں ریکوری ہوبھی رہی تھی اور اتنی تیز رفتاری سے ہورہی تھی کہ صرف 6 دن بعد ہی

اسے وینٹی لیٹر سے آکسیجن پر منتقل کیا گیا ۔ 10 دن بعد آئی سی یو سے بھی باہر شفٹ ہوگیا تھا لیکن پھر پھیپھڑوں نے ا کام کرنا چھوڑ دیا۔ 23 مارچ کو دوبارہ اسے آئی سی یو میں شفٹ کر دیا گیا ۔ سانس کی ڈوری آہستہ آہستہ کمزور ہوتی گئی۔ 30 مارچ کو 3 بجے آکسیجن سیچوریشن لیول 80 سے نیچے آگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے رات 10 بجے سانس کی ڈوری کٹ گئی۔
بقول عمار اقبال
یُوں بُنی ہیں رَگیں جِسم کی
ایک نس، ٹس سے مس اور بس
سب تماشائے کُن ختم شُد
کہہ دیا اُس نے بس اور بس
شیر احمد کی اچھائی کا مجھے علم تو تھا لیکن اس کی اہمیت کا اندازہ اس کے مرنے کے بعد ہوگیا۔ لاہور جیسے مصروف ترین شہر میں اس کے مرنے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور ایک گھنٹے کے اندر پورا ہسپتال لوگوں کے جم غفیر سے بھر گیا تھا۔ لڑکے ، لڑکیاں اور ان کے والدین دھاڑیں مار کر رو رہے تھے اور ہر کسی کا یہ دعویٰ تھا کہ شیر احمد سب سے زیادہ ان کے قریب تھا۔ اتنے سارے لوگوں کو اپنے غم میں شریک دیکھ کر شیر احمد کی زندگی پر رشک کرنے کو من چاہا جس نے صرف چار سال میں پورے شہر کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔
مشکل وقت میں سینکڑوں لوگوں نے ہمارا ہاتھ تھاما ہمارا غم بانٹا ، ہم روئے تو ہمیں تسلی دی اور غمگین ہوئے تو ہنسانے کی کوشش کی۔ میں فردا فردا سب کا شکریہ ادا نہیں کرسکتا لیکن شیر احمد کے ان تمام چاہنے والوں کو میں سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے مجھے بھی یہ سبق سکھا دیا کہ زندگی کی بھیڑ چال میں کسی سے محبت کے دو بول کہہ دینا بھی بہت بڑی نیکی ہے۔ اگر آپ کسی کو کچھ نہیں دے سکتے تو کم از کم اپنے وقت کی چند ساعتیں ہی دے دو، مشکل کے ماروں کے لیے وہ سب سے بڑھ کر ہیں۔