ایک پرواز کی اذیت ناک کہانی

اپنے کئی ساتھیوں کی طرح میں نے بھی پی آئی اے کو ہمیشہ برا بھلا ہی کہا۔ اس کا تقابل دیگر ایئرلائنز سے کرتا رہا۔اس ضمن میں مزید اشتعال اس لئے بھی آتا ہے کیونکہ گزشتہ کئی برسوں سے بہت معیاری اور آرام دہ سفر کو یقینی بنانے والی چند خلیجی ممالک کی فضائی کمپنیوں نے بنیادی طورپر پاکستانی ماہرین کی نگرانی میں اپنا مقام بنایا ہے۔

برٹش ایئرلائنز کسی زمانے میں بہت دھانسو شمار ہوتی تھی۔1980کی دہائی کا آغاز ہوتے ہی مجھے ایک سال میں کئی بار بیرون ملک جانا ہوتا تھا۔ مذکورہ ایئرلائنز کے طیارے میں سفر کا مگر کبھی اتفاق نہیں ہوا۔لوگوں سے اگرچہ تعریف ہی سنی۔ منگل کی رات سے جمعرات کی صبح تک مگر جس جذباتی اذیت سے گزرا ہوں اس کے بعد دور کے ڈھول سہانے پکارنے کو مجبور ہوگیا ہوں۔

منگل اور بدھ کی درمیانی رات کے 12:30بجے کے قریب اسلام آباد سے لندن کے لئے BA260نامی طیارے نے اڑان بھری۔اس جہاز کے مسافروں میں سے ایک کے ساتھ میرا بہت قریبی اور جذباتی رشتہ بھی ہے۔امید تھی کہ یہ پرواز خیروعافیت سے لندن کے ہیتھرو ائیرپورٹ پر برطانوی وقت کے مطابق صبح ساڑھے پانچ بجے اتر جائے گی۔اسی روز کی صبح چار بجے سے پاکستان سے برطانیہ آنے والوں کو ہوٹلوں میں قرنطینہ کی ضرورت نہیں تھی۔وہ ایئرپورٹ سے نکلنے کے بعد اپنی پسند کے مقام پر ہی دس دنوں کے لئے سماجی تنہائی میں قیام کرسکتے تھے۔غالباََ اسی باعث منگل کی رات جو جہاز اڑا وہ سینکڑوں مسافروں سے بھرا ہوا تھا۔

بدھ کی صبح اٹھ کر مگر لیپ ٹاپ کھول کر ٹویٹر دیکھا تو وہاں خبر چل رہی تھی کہ اسلام آبادسے اڑی پرواز کو لندن پہنچانے کے بجائے ہنگامی لینڈنگ کے لئے ازبکستان کے تاشقند میں روک لیا گیا ہے۔مذکورہ خبر کی تصدیق کے بعد میں تشویش میں مبتلا ہوگیا۔نام نہاد ڈیجیٹل دور میں ہر پل باخبر رکھنے والے ذرائع کو مگر برطانوی ایئرلائنز استعمال میں نہیں لارہی تھیں۔مذکورہ کمپنی کے میڈیا سے رابطہ رکھنے کے ذمہ دار افراد نئی دہلی میں مقیم ہیں۔ان سے رابطے کی صورت نکالنے کے بعد مگر واٹس ایپ کے ذریعے جو بھی پیغامات بھیجے گئے ان میں سے کسی ایک کا جواب بھی نہ دیا گیا۔بالآخر دو برطانوی اخبارات کی ویب رپورٹنگ کے ذریعے خبر یہ ملی کہ مذکورہ پرواز میں سوار ایک بزرگ خاتون کو ہنگامی طبی امداد کی ضرورت محسوس ہوئی۔جہاز کو لہٰذا تاشقند اتارنا پڑا۔خاتون مگر اس وقت تک جہان فانی سے رخصت ہوچکی تھیں۔

مذکورہ طیارے میں سوار دیگر مسافر کس عالم میں ہیں؟ اس کے بارے میں تاہم کوئی خبر میسر نہیں تھی۔ان کے عزیز ولواحقین پریشانی میں ان سے رابطے کی کوشش میں مصروف ہوگئے۔دور حاضر میں ہم نے فرض کرلیا ہے کہ جہازوں اور افریقہ جیسے خطے کے پسماندہ ترین ممالک کے ایئرپورٹس پر بھی وائی فائی کی سہولت میسر ہوتی ہے۔آپ کا فون رومنگ پر نہ بھی ہو تو اس کی بدولت سوشل میڈیا کی ایپس آپ کو اپنے پیاروں سے ہمہ وقت رابطے میں رکھتی ہیں۔اس طیارے میں محصور ہوئے سوار مگر آج کے دور میں بنیادی تصور ہوتی اس سہولت سے محروم نظر آئے۔

ایک برطانوی اخبار ہی کے ذریعے بالآخر خبر یہ بھی ملی کہ تاشقند میں اٹکا جہاز مزید پرواز کے قابل نہیں رہا۔اس میں بیٹھے افراد کو لندن لانے کے لئے اب ایک خالی جہاز بھیجا گیا ہے۔وہ جمعرات کی صبح تک انہیں لندن پہنچادے گا۔اس خبر میں یہ اطلاع بھی تھی کہ مسافروں کی دیکھ بھال کا عملہ تھک چکا ہے۔ان کی ’’دیہاڑی‘‘ بھی پوری ہوگئی ہے۔ وہ آرام کی خاطر اب ہوٹل روانہ ہوچکے ہیں ۔ مسافروں کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہے اس کی بابت کوئی اطلاع نہیں تھی۔

کئی گھنٹوں کے اذیت دہ انتظار کے بعد بالآخر ایک پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان کی بنائی ایک وڈیو سوشل میڈیا پر نظر آئی۔اس کے ذریعے علم ہوا کہ تاشقند میں اتارے جہاز کے مسافروں کو آٹھ گھنٹے تک طیارے ہی میں بٹھائے رکھا گیا۔بالآخر انہیں جہاز سے نکال کر ایئرپورٹ کے ایک بڑے ہال میں پہنچادیا گیا ہے۔اس ہال میں دور حاضر کے ایئرپورٹوں والی کوئی سہولت میسر نہیںتھی۔برٹش ایئرلائن کا ایک نمائندہ بھی وہاں موجود نہیں تھا۔مذکورہ وڈیو کی بدولت یہ بھی علم ہوا کہ تاشقند میں لاوارث ہوئے مسافروں میں چند بزرگ بھی شامل ہیں۔ان میں سے کچھ کو طبی نگرانی اور آکسیجن بھی درکار تھی۔ ان بنیادی سہولتوں کا مگر کوئی امکان نظر نہیں آرہا تھا۔

مذکورہ وڈیو کے بعد اسی جہاز کی ایک اور خاتون مسافر نے مدد کی دہائی مچانے کے لئے ایک اور وڈیو سوشل میڈیا کے لئے تیار کی۔ مہرین نامی وہ بچی اپنے بیمار والد کے ہمراہ سفر کررہی تھی۔اس کا لہجہ واضح طورپربتارہا تھا کہ وہ برطانیہ کی جم پل مگر پاکستانی نژاد ہے۔درد بھری آواز میں وہ اپنے والد کی مدد کے لئے فریاد کرتی رہی۔ ان وڈیوز کی تصدیق کے بعد جیو ٹیلی وژن نے پاکستان سے اڑی پرواز کے بارے میں تازہ ترین جاننے کی تگ ودو شروع کردی۔دیگر ٹی وی چینل بھی اس کی وجہ سے چوکنا ہوگئے۔مجھے میسر اطلاع کے مطابق وزیر اطلاعات فواد چودھری نے ٹی وی سکرین پر چلے ویڈیوز دیکھنے کے بعد تاشقند میں موجود پاکستان کے سفارتی حملے سے رابطہ کیا۔

حقیقت یہ بھی رہی کہ ازبکستان میں پاکستان کے سفیر جناب علی اسد گیلانی بذات خود ایئرپورٹ اپنے عملے سمیت پہنچ گئے۔انہوں نے تقریباََ ہر مسافر سے گفتگو کے بعد ان کی اذیتیں کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔روایتی افسری سے کام لیتے تو یہ جواز بھی تراش سکتے تھے کہ مذکورہ طیارے کی 90فی صد سواریاں برطانوی شہری ہیں۔ وہ پاکستانی سفارت خانے کی نہیں بلکہ برطانوی سفارتی نمائندوں کی معاونت کی حقدار تھیں۔اس جواز کی آڑ میں کوتاہی سے مگر خوشگوار اور متاثر کن گریز ہوا۔تمام مسافروں کو وافر مقدار میں بلااستثناء کھانے پینے کی اشیاء پہنچائی گئیں۔ پاکستانی سفارتخانے کا عملہ جمعرات کی صبح تک تاشقند میں بے سروسامانی کے عالم میں پڑے مسافروں کے ساتھ رہا۔بالآخر لندن سے آیا ایک اور جہاز انہیں برطانیہ پہنچانے کے لئے تاشقند سے روانہ ہوا تو وہ اپنے گھروں اور دفتروں کو لوٹے۔

اسلام آباد سے لندن روانہ ہوئی پرواز کے مسافروں کو ہنگامی وجوہات کی بنیاد پر نصیب ہوئی مشکلات میرے لئے دیگ کا دانہ ثابت ہوئی ہیں۔اس نے ایک مرتبہ پھر یہ احساس اجاگر کیا ہے کہ محض منافع کی ہوس کا شکار برطانوی ایئرلائن جیسے ادارے عام انسانوں کے ہنگامی اور جذباتی مسائل سے سفاکانہ حد تک لاتعلق ہیں۔فضائی سفر کی اجارہ دار کمپنیوں کے حقیقی محاسبے کا تاہم کماحقہ بندوبست میسر نہیں۔ ربّ کریم ہم سب کو ان سے محفوظ رکھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *