ایک پیج اور پتنگ بازی کے پیچ

مئی کی پچیس تاریخ ہے اور دن آدھے سے زیادہ نکل چکا ہے۔ ابھی تصویر کے خد و خال دھندلے ہیں۔ عمران خان خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان کے ہیلی کاپٹر میں پشاور سے کوئی 77کلومیٹر کے فاصلے پر نوشہرہ ولی انٹر چینج پہنچ رہے ہیں جہاں سے وہ اسلام آباد کی طرف مارچ کی قیادت فرمائیں گے۔ ولی انٹر چینج سے اسلام آباد کا فاصلہ 70کلومیٹر ہے۔ (نوے کی دہائی میں پاکستان کی سیاست کو لانگ مارچ کی اصطلاح بخشنے والے دستکاروں کو یاد نہیں رہا تھا کہ مائوزے تنگ کا لانگ مارچ 6000میل طویل اور 368روز پر محیط تھا۔ لانگ مارچ میں شامل ایک لاکھ نفوس میں سے صرف ایک تہائی منزل مقصود تک زندہ پہنچ سکے تھے) پشاور شہر میں کسی جلسہ جلوس کی اطلاع نہیں البتہ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پولیس انسپکٹر سحر گل شہید ہو گئے۔ لاہور میں مینارِ پاکستان اور شاہدرہ کے درمیانی چوراہے پر تحریک انصاف کے چند سو کارکن پولیس سے دست و گریبان ہیں۔ سپریم کورٹ، لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں مختلف درخواستوں پر بیک وقت سماعت ہو رہی ہے۔ اسلام آباد انتظامیہ کو پی ٹی آئی کے اجتماع کے لیے متبادل مقام کی نشاندہی کے احکامات دیے گئے ہیں۔ بظاہر جس سمندر کی پیش گوئی کی جا رہی ہے، وہ ایک جوئے کم آب نظر آ رہا ہے لیکن معاملہ برسر زمیں نہیں، زیر زمیں ہے۔ وہ جو ایک پیج تھا، شنید ہے کہ پتنگ بازی کے پیچ میں بدل چکا ہے۔ اور یہ تو ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں کبھی خاک کے پتلوں کا اشارہ حرفِ آخر تھا۔ اب ایک عرصے سے اس کھیل میں استخواں بھی بولتے ہیں اور کہیں کہیں تو استخوانی آوازوں کو مدعو کرکے انہیں زمینی حقائق سے آگاہ بھی کیا جاتا ہے۔ لکھنے والا ہرگز نہیں جانتا کہ کل صبح جب یہ سطور آپ کی نظر سے گزریں گی تو واقعے اور حکایت میں رشتے کی کیا صورت ہو گی۔ پتنگ کسی کی کٹے، فریق مخالف کی ڈور بھی مجروح ہو گی۔ کالم نگار تو حدیث سردلبراں بیان کر سکتا ہے۔ حادثے، سازش اور جرم کی پیش بینی تک نہیں کی جا سکتی، اس کا تجزیہ تو کارِ لاحاصل ہے۔ ایسے میں اس کے سوا کیا چارہ ہے کہ باہر کا دروازہ بند کر کے یاد کا دریچہ وا کیا جائے۔

ابنِ انشا نام کے ایک صاحب ہمارے بیچ گزرے ہیں۔ اللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کی۔ لطف یہ ہے کہ نثر میں ابنِ انشا کے رشحات قلم روز نامہ جنگ کے اسی ادارتی صفحے پر شائع ہوتے تھے جہاں اب ہیچمدان آپ کی نظر نوازی کا طالب ہوتا ہے۔ شانِ خدا ہے آج زمانہ آیا ہم بےہنروں کا/ ورنہ اس اک شہر میں کیا کیا اہلِ کمال ہوئے۔ یہ تو رہے مختار صدیقی۔ علی افتخار نے اسی مضمون کو ایک اور رنگ میں باندھا۔ دہر میں کاوش فرومایہ ہنر ہونے کو ہے۔ ابنِ انشا کا ذکر نکلا تھا۔ مکتوب نویسی میں مزاح اور پیروڈی کی دو آتشہ کشید کے تین استاد ہمارے زمانے میں ہوئے۔ محمد خالد اختر، مشفق خواجہ اور ابنِ انشا۔ تینوں اساتذہ نے خطوط نویسی میں رنگ غالب کا اتباع کر رکھا ہے۔ آئیے اس روایت میں ابنِ انشا کا ایک اقتباس دیکھیں کہ اس میں کچھ آج کی صورت حال کے اشارے بھی ملتے ہیں، ’خط لکھ لیا۔ اب محل سرا میں جائوں گا۔ ایک روٹی شوربے کے ساتھ کھائوں گا۔ شہر کا عجب حال ہے۔ باہر نکلنا محال ہے۔ ابھی ہرکارہ آیا تھا۔ خبر لایا کہ ہڑتال ہو رہی ہے۔ ہاٹ بازار سب بند۔ لڑکے جلوس نکال رہے ہیں۔ نعرے لگا رہے ہیں۔ کبھی کبھی لڑکوں اور برقندازوں میں جھڑپ بھی ہوجاتی ہے۔ میر مہدی معلوم نہیں اس شہر میں کیا ہونے والا ہے۔ میرن کو وہیں روک لو‘۔

ژرف نگاہی کا کیا اچھا نمونہ پیش کیا، ’معلوم نہیں، اس شہر میں کیا ہونے والا ہے‘۔ ہم کم نگاہ مگر وہ تو بیان کر سکتے ہیں جو اس شہر میں ہو چکا۔ پچھلے برس کے آخری مہینوں میں واضح ہو رہا تھا کہ حکومت معیشت سنبھالنے میں ناکام ہو چکی ہے، سیاسی بندوبست کی کوئی کڑی سلامت نہیں رہی، بیرونی دنیا میں ملک کی ساکھ بری طرح گر چکی ہے، اس پر طرہ یہ کہ اکتوبر میں بہت کچھ ایسا ہوا جس سے عمران حکومت کے آئندہ عزائم پر بھی روشنی پڑی۔ یہ وہ حقائق ہیں جن کا اعتراف اب عمران خان کے حامی بھی بالواسطہ طور پر کر رہے ہیں۔ کچھ اس رنگ میں کہ اگر عدم اعتماد کی تحریک نہ آتی تو عمران حکومت اپنے ہی بوجھ تلے دب جاتی۔ عزیزو، سوال ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک کیوں نہ آتی؟ کیا دستور میں حزب اختلاف کا حق عدم اعتماد غیر مشروط نہیں؟ اواخر فروری میں تحریک عدم اعتماد کا آنا اور کامیاب ہونا ٹھہر گیا تو عمران خان نے پیٹرول اور بجلی کی مد میں ناقابلِ عمل سبسڈی دے کر ممکنہ نئی حکومت پر دیوار گرا دی۔ آئی ایم ایف بگڑ گیا اور زر مبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو گئے۔ ٹھیک ایک ماہ بعد عمران خان نے امریکی سازش کا شوشا چھوڑ دیا۔ ریاستی اور سیاسی حلقے دہائی دیتے رہ گئے کہ سازش کا کوئی ثبوت نہیں۔ ہارس ٹریڈنگ کے کوئی شواہد نہیں۔ پنجاب حکومت عمران خان نے خود ختم کی ہے مگر عمران خان ہوا کے گھوڑے پر سوار تھے۔ اس دوران بلاول بھٹو سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے لئے لندن پہنچے۔ یہاں سے ایک نیا باب شروع ہوا۔ میثاق جمہوریت (2) کے اشارے نے منظر بدل دیا۔ پیوستہ مفادات کے لئے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے زخم ہرے ہو گئے۔ قوم کی نیا تین متخالف دھاروں کے منجدھار میں ہے۔ ایک طرف معیشت کا غار منہ پھاڑے موجود ہے۔ دوسری طرف عمران خان نے طوفان اٹھا رکھا ہے۔ تیسری جانب مخلوط حکومت کے مٹے مٹے نقوش ہیں۔ جمہوریت کا خواب ہنوز پریشان ہے۔ شمع کے ہوا خواہوں کو اتنی خبر ہے کہ غم جاں گداز ہے اور رات گہری ہے۔

error: