ای سپورٹس: انڈین نوجوان آن لائن گیمز کو بطور کریئر کیوں اپنا رہے ہیں؟

مہیش کمار برہمابھات نے 15 سال کی عمر میں اپنے گیمنگ کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ انڈیا کے بہترین ای سپورٹس کھلاڑیوں میں اُن کا شمار ہونے کے امکانات اس وقت تک انتہائی کم تھے۔

وہ گیمنگ میں پُرجوش تھے اور ان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں تھی۔ لیکن اُن کے پاس ایک سستا سمارٹ فون تھا جس میں نئی گیمز چلانا مشکل ہوتا تھا۔ ریاست گجرات کے چھوٹے سے گاؤں ’ہمت نگر‘ میں انٹرنیٹ کی سست رفتار اور مسلسل لوڈ شیڈنگ کی صورت میں پہلے ہی اُن کے راستے میں کچھ رکاوٹیں تھیں۔

اُن کے والدین کو اپنے بچے کا یہ شوق ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ براہم بھٹ، جنھیں ’پرنس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور اب اُن کی عمر 23 برس ہے، کہتے ہیں کہ ’جب بھی میں کھیلتا تھا تو والدین مجھے روکتے تھے اور کہتے تھے پڑھائی میں دل لگاؤ۔‘

’یہ سلسلہ جاری رہا مگر پھر جب میں نے ایک مقابلے میں انعامی رقم جیتی اور اپنے والد کی مالی امداد کی تو انھوں نے کہا ٹھیک ہے، تم یہ کر سکتے ہو۔‘

سنہ 2019 میں پرنس اور ان کے تین ساتھیوں نے 2019 سپرنگ انڈیا فائنلز میں پب جی نامی موبائل گیم میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ انھیں انعام میں 20 ہزار ڈالر ملے تھے۔ پرنس نے انعامی رقم میں سے ملنے والا اپنا حصہ اپنے والد کو دیا تھا۔ اُن کے والد کی گھی کی ایک چھوٹی سی دکان ہے اور کاروبار میں نقصان کے باعث وہ مقروض بھی تھے۔

مگر بیٹے کو ملنے والی انعامی رقم سے قرض اُتار دیا گیا اور باقی بچ جانے والے پیسوں سے گھی کا مزید سٹاک خرید لیا گیا۔

پرنس نے کمپیوٹر سائنس میں ڈگری حاصل کی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ پب جی کے ای سپورٹس ٹورنامنٹس میں بھی حصہ لیتے رہتے تھے۔ انھوں نے ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ ایک ٹیم بنائی جس میں سپرے گاڈ، علا الدین اور سرنگ شامل تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنھیں وہ آن لائن ہی ملے تھے۔

سال 2020 کے اوائل میں اس ٹیم کو گریپل کریشن ایکس (جی سی ایکس) نامی ایک مقامی کمپنی نے خرید لیا تھا۔ کمپنی کے مالک سنتوش پچیتی نے اس ٹیم کو ’سیون سی‘ کا نام دیا، یعنی انڈیا میں بہنے والے سات بڑے دریا۔ یہ نام اس لیے بھی دیا گیا کہ سات نمبر کو خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

جب ایک سرمایہ کار ای سپورٹس کی کوئی ٹیم یا کھلاڑی کو خرید لیتا ہے تو وہ ان کے لیے مالی اور پیشہ ورانہ معاونت فراہم کر سکتا ہے۔ اس میں گیمنگ کے لیے ڈیوائس، کمپیوٹرز اور کوچز شامل ہیں۔ بدلے میں وہ ان کی فتوحات میں سے کچھ رقم حاصل کر سکتے ہیں۔

لیکن ستمبر 2020 میں انڈین حکومت نے پب جی موبائل اور اس نوعیت کی 177 چینی ایپس پر پابندی لگا دی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جس انڈین اور چینی فوجیوں کے لیے ایل اے سی پر جھڑپیں ہوئی تھیں۔ دسمبر 2020 میں چینی کمپنی کریفٹن نے اس گیم کا انڈین ورژن ’بیٹل گراؤنڈز موبائل انڈیا‘ متعارف کروایا۔

رواں برس پرنس کو بڑی کامیابی اس وقت ملی جب جی سی ایکس کو سنگاپور میں قائم ایک بڑی کمپنی ایمپورس نے نامعلوم رقم کے عوض انھیں خرید لیا۔

اس ڈیل کے ساتھ سیون سی کے چار کھلاڑی اگست 2021 کو ایک گیمنگ ہاؤس میں منتقل ہو گئے۔ پونے میں چھ بیڈرومز کی کوٹھی میں ان لوگوں کے پاس جدید گیمنگ ٹیکنالوجی، ہائی سپیڈ انٹرنیٹ، شیف کے ہاتھوں بنے کھانے اور گھریلو ملازمین کی فوج تھی۔ اب ان کھلاڑیوں کے پاس ایک کوچ، پرفارمنس اینالسٹ، ذاتی ٹرینر اور ’سوشل سفیر‘ ہیں جو سیون سی کے برانڈ سے متعلق آن لائن مواد بناتے ہیں اور اس کی تشہیر کرتے ہیں۔

ای سپورٹس، پب جی، ٹیکن

ایمپورس میں چیف سٹریٹیجی افسر چارلی بیلی کہتے ہیں کہ ’ان میں بہت زیادہ صلاحیت اور ٹیلنٹ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مناسب حمایت اور وسائل کے ساتھ ہم سیون سی کو نہ صرف ایک کامیاب گیمنگ ٹیم بنا سکتے ہیں بلکہ اس کے پیچھے اور بھی بڑا خیال ہے: ایک لائف سٹائل برانڈ جو نوجوان انڈینز کو متاثر کر سکتا ہے۔‘

گذشتہ چند مہینوں کے دوران سیون سی نے انڈیا ٹوڈے دنگل چیمپیئن شپ جیتی ہے اور سکائی سپورٹس چیمپیئن شپ 3.0 میں دوسری پوزیشن حاصل کی ہے۔

پرنس کا کہنا ہے کہ ’میرا صرف ایک مقصد ہے: پہلی پوزیشن۔۔۔ دوسری یا تیسری پوزیشن نہیں۔ میں جیتنا چاہتا ہوں۔ میں اسی کے لیے جیتا ہوں۔‘

پرنس کا اعتماد اور اُن کی خواہشات انڈیا میں گیمرز کی نئی نسل کی عکاسی کرتی ہے جن کے لیے ای سپورٹس اپنی زندگی بدلنے کا موقع ہے۔ لیکن ایمپورس جیسے سرمایہ کار نئے ٹیلنٹ کی کھوج کیسے کرتے ہیں اور اس ٹیلنٹ کو کامیابی میں کیسے بدلتے ہیں؟

ای سپورٹس کے کامیاب کھلاڑی کیسے بنائے جاتے ہیں؟

ایمپورس کی اپنی کامیابیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اسے 2019 میں قائم کیا گیا جبکہ اب سنگاپور، تھائی لینڈ، ویتنام اور انڈیا میں 11 پروفیشنل ای سپورٹس کی ٹیمیں اس کے زیرِ انتظام ہیں۔ سنہ 2020 میں اس نے تھائی لینڈ میں دوسرے درجے کی ٹیم بیکن ٹائم خریدی تھی۔ اور ایک سال بعد اس ٹیم نے پرو لیگ جیت لی تھی۔

اس کے فالوورز ایک ملین سے 10 ملین تک پہنچ گئے تھے اور اس کی آمدن 15 لاکھ ڈالر ہو گئی تھی۔ ایمپورس صرف 18 مہینوں میں سیون سی کو انڈیا کی بہترین ای سپورٹس ٹیموں میں سے ایک بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

بیلی کہتے ہیں کہ ’یہ میوزک کی صنعت کی طرح ہے۔‘ انھوں نے اس سے قبل یونیورسل میوزک گروپ کے ساتھ ڈیجیٹل سربراہ کے طور پر کام کیا ہے اور جسٹن بیبر اور ریحانہ جیسے گلوکاروں کے ساتھ کام کیا۔

’لوگ نئے بینڈ اور گلوکاروں کو سُننا چاہتے ہیں اور ہم نئے جسٹن بیبر یا ریحانہ کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کھوج کے لیے آپ کو ٹیلنٹ کی پہچان ہونی چاہیے۔‘

’ہمارے لوگ پیشہ ورانہ تخلیق کی کمیونٹی میں پھیلے ہوتے ہیں۔ ان کے ذاتی تعلقات ہوتے ہیں اور یہ کمیونٹی میں اچھی ساکھ رکھتے ہیں۔‘

ای سپورٹس، پب جی، ٹیکن
،تصویر کا کیپشنسیون سی کی ٹیم۔ پرنس بائیں سے دوسرے نمبر پر

ایمپورس میں ٹیلنٹ ڈھونڈنے والی ٹیم ای سپورٹس کی چھوٹی بڑی لیگز میں کافی وقت گزارتے ہیں۔ وہ کارکردگی کے موازنے کے لیے مختلف اعداد و شمار استعمال کرتے ہیں کہ جیسے ’کِل ریشو‘ (یعنی گیم میں دونوں طرف کتنا نقصان پہنچایا گیا ہے)۔

لیکن ایمپورس گیمنگ کی صلاحیت سے زیادہ یہ دیکھتی ہے کہ نئے کھلاڑی ’کتنی تیزی سے بہتر ہو رہے ہیں اور ان کے مداح کس رفتار سے بڑھ رہے ہیں۔‘ یوٹیوب، فیس بک اور ٹک ٹاک کے اعداد و شمار دیکھ کر ایمپورس کا حکام کھلاڑیوں کی سبسکرائبر گروتھ (مداحوں میں اضافہ)، انگیجمنٹ ریٹ (آن لائن مواد پر ردعمل) اور ڈویل ٹائم (صارفین اُن کے مواد پر کتنا وقت صرف کر رہے ہیں) اس سب کا موازنہ کر سکتی ہے۔

وہ ٹویچ جیسے لائیو سٹریمنگ پلیٹ فارم پر ان کے مسلسل ویوز کو بھی دیکھتے ہیں جہاں ایمپورس کے سربراہ فرڈنینڈ گوٹیرز نے پہلے کام کیا تھا۔

بیلی کا کہنا ہے کہ مختلف گیمز کے لیے الگ ہنر درکار ہوتے ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر یہ کام رویتی کھیلوں میں ٹیلنٹ ڈھونڈنے جیسا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’کوئی بھی کامیاب ای سپورٹس ٹیم میں سب سے اہم ٹیم ورک ہے۔ ہم نے ایسے فٹبال کھلاڑی دیکھے ہیں جو خود ذہین ہوتے ہیں لیکن اگر وہ ٹیم کے ساتھ نہ کھیلیں تو اس سے کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔‘

اس میں سٹریٹیجی، برق رفتار ردعمل اور ذہنی طور پر مضبوط ہونا اہم ہے۔ سیون سی کی جانب سے ’سکرم‘ طریقہ استعمال کیا جاتا ہے جو ٹیم بنانے کا فریم ورک ہے جو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا میں عام استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے باعث خود اعتمادی، بھروسے اور ذہنی پختگی بڑھتی ہے۔

ان کے کوچ اس دوران ’سکرم ماسٹر‘ کا کام کرتے ہیں اور ’سیون سی‘ کو ایک روزانہ کے سخت معمول سے گزارتے ہیں جس میں جسمانی ورزش اور میڈیٹیشن (مراقبہ) کیا جاتا ہے۔

بیلی کہتے ہیں کہ ’ہم وہ صلاحیت حاصل کرنا چاہتے ہیں جس کے تحت ہم اپنی توجہ ایک ہی جانب مرکوز کر سکیں۔‘

یہ گیمز انتہائی تھکا دینے والے ماحول میں کھیلی جاتی ہیں۔ ای سپورٹس ٹورنامنٹ کسی روایتی کھیلوں کے ٹورنامنٹ کی طرح نہیں ہوتا جس میں آپ روزانہ کی بنیاد پر ایک میچ کھیلتے ہیں۔ ای سپورٹس کھیلنے والے کھلاڑی کئی مرتبہ نو گھنٹوں تک کھیلتے رہتے ہیں اور انھیں اس دوران اپنی کارکردگی کا جائزہ بھی لینا ہوتا ہے۔

ای سپورٹس، پب جی، ٹیکن

تیزی سے ای سپورٹس کھلاڑی پیدا کرنے والا ملک

بیلی انڈیا کو ای سپورٹس کے لیے ’دنیا کی سب سے ولولہ انگیز اور تیز نشونما پانے والی مارکیٹ‘ کہتے ہیں۔ یہ اس وقت عالمی طور پر سرِفہرست پانچ موبائل گیمنگ مارکیٹس میں سے ہے اور گیمز کے عالمی سیشنز کا 13 فیصد یہاں سے کھیلا جاتا ہے۔

انڈیا میں اندازے کے مطابق 43 کروڑ تفریحی گیمرز ہیں اور اوسطاً 3.6 گھنٹے ٹورنامنٹس دیکھنے پر بتائے جاتے ہیں۔ اگلے تین برسوں میں شرحِ نمو 36 فیصد سالانہ رہنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

اکتوبر میں انٹرنیٹ اینڈ موبائل ایسوسی ایشن آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی وبا کے دوران موبائل ایپس کی صورت میں ڈیجیٹل گیمز میں 50 فیصد، اور انھیں کھیلے جانے میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ لاک ڈاؤن کے دوران تفریح کے کئی متبادل ذرائع بند ہو گئے تھے۔

بیلی کے مطابق انڈیا کی مارکیٹ جنوب مشرقی ایشیا کی دیگر نسبتاً مستحکم مارکیٹس کی نسبت ابتدائی مراحل میں ہے اور یہ تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ دیکھنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، پروفیشنل میچز چھوڑیں، ٹریننگ میچز ہی بیک وقت ایک لاکھ تک لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اگلے چھ سے 12 ماہ میں یہاں دھماکہ خیز ترقی ہو گی۔‘

اس مقبولیت کو کمرشل توجہ بھی حاصل ہوتی ہے۔ فیشن برانڈ لوئی ووٹون نے لیگ آف لیجنڈز نامی گیم کے عالمی مداحوں کے لیے ایکسکلوزیو اشیا بنائی ہیں۔ اسی طرح گوچی اور نائیکی نے بھی روبلوکس جیسے گیمز کے اندر ورچوئل دنیائیں اور لمیٹڈ ایڈیشن پراڈکٹس بنائی ہیں۔

دی تھائی ٹیم، بیکن ٹائم نے حال ہی میں کئی دیگر شراکت داریوں کے ساتھ ڈوریٹوس کے ساتھ شراکت قائم کی ہے۔

بیلی کے مطابق ’ای سپورٹس نیا کھیل ہے۔ یہ تفریح کا ایک نیا ذریعہ اور میڈیا کی ایک نئی صورت ہے۔ اور یہی مستقبل کی تفریح ہو گی۔‘

کامیابی کا ہموار راستہ

انڈیا میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ پیشہ ور اور نیم پیشہ ور ای سپورٹس کھلاڑی موجود ہیں، بھلے ہی ان میں سے زیادہ تر دوسری ملازمت بھی کرتے ہیں۔ ای سپورٹس ٹورنامنٹس میں اضافے سے توقع کی جا رہی ہے کہ سنہ 2025 تک یہ تعداد 15 لاکھ تک پہنچ جائے گی اور انڈینز کے لیے ایک اچھا کریئر آپشن بن جائے گی۔

ڈیلوئٹ انڈیا میں پارٹنر پرشانت راؤ کہتے ہیں کہ ’سنہ 2007 میں انڈین پریمیئر لیگ کی شروعات سے قبل ہماری قومی کرکٹ ٹیم اربوں لوگوں کے خوابوں کی نمائندگی کرتی تھی۔ اب ای سپورٹس لیگ کی فارمیٹ میں چلا گیا ہے تو کئی دیگر مواقع موجود ہیں۔‘

مگر وہ کہتے ہیں کہ یہ شعبہ اب بھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔ بہت کم ادارے ایسے ہیں جو پیشہ ور کھلاڑیوں کو مستحکم تنخواہ دے رہے ہیں۔‘

ای سپورٹس، پب جی، ٹیکن

لیکن پھر بھی انڈیا کے نوجوانوں کے لیے کامیاب کھلاڑی بننا ناممکن نہیں ہے۔ پرنس کے سامنے موجود کئی مشکلات اب وجود نہیں رکھتیں۔

راؤ کہتے ہیں کہ اب آپ بہت پیچیدہ گیمز بھی موبائل فون پر کھیل سکتے ہیں۔ کلاؤڈ کمپیوٹنگ کا مطلب ہے کہ آپ کو نت نئے ہارڈویئر کی ضرورت نہیں پڑتی اور کچھ گیمز کو سست رو انٹرنیٹ کے حساب سے بنایا جا رہا ہے۔

کئی سٹارٹ اپس کم قیمت اور استعمال شدہ موبائل فونز کی طلب پورا کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ پاور بینکس کی موجودگی میں بجلی کا چلے جانا بھی مسئلہ نہیں۔ انٹرنیٹ کی رفتار بہت بہتر ہو چکی ہے۔ خواتین بھی بڑی تعداد میں گیمنگ کر رہی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر مقابلوں میں حصہ لیتی ہیں۔ اب تو انڈین اولمپک ایسوسی ایشن نے بھی ای سپورٹس کو تسلیم کر لیا ہے۔

گٹیریز کہتے ہیں کہ ’ہم سیون سیز کو نئے انڈیا کی مثال کے طور پر دیکھتے ہیں جو ڈیجیٹل ہنر رکھنے والا اور ذہین ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ نوجوان کچھ بھی نہیں تھے اور اب یہ نئے انڈیا کی علامت بن چکے ہیں۔‘

error: