اے بے گنہی گواہ رہنا!

اللہ اللہ، ’دن پھر آئے ہیں باغ میں گل کے‘۔ غیرمشروط معافی کی رسم سے بات چلی تھی، غداری کے مقدمات تک آ پہنچی ہے۔ انجم رومانی ہمارے عہد میں ہنر کی پختگی، خیال کی استواری اور تہذیب کے پاسداری کا نشان تھے۔ بلاشبہ اہل کمال تھے مگر طبیعت ایسی غنی کہ محفل میں نمایاں ہونے سے باقاعدہ گریز کرتے تھے۔ غزل کے دو مصرعوں میں صدیوں کی تاریخ سمیٹ لیتے تھے۔ فرمایا ’اول اول چلے منجملہ آداب جو بات، آخر آخر وہی تعزیر بنی ہوتی ہے‘۔ وہی ’مگس کو باغ میں جانے نہ دیجیو‘ کی کہنہ تجویز تھی جسے اپنے رنگ میں بیان کیا تھا۔ پروانے کے ہوا خواہوں سے کوئی عہد خالی نہیں ہوتا۔ غم خواروں کی مشکل مگر یہ ہے کہ غم جان گداز ہوتا ہے۔ دیکھ لیجیے کہ سوختہ جانوں کی افسردگی کا قہر بیان کرتے ہوئے جہاں میر تقی رخصت ہوتا ہے، وہاں سے فرانس کا اسٹیفن میلارمے جنم لیتا ہے اور لکھتا ہے، "the perfume of sadness that remains in the heart"۔ ایسے مسلمہ اساتذہ کے ذکر میں اپنے ہم عصر ڈاکٹر ضیا الحسن کا حوالہ دیتے ہوئے کچھ جھجک محسوس ہو رہی ہے مگر اچھے شعر کو میرے آپ کے حجابات سے غرض نہیں۔ وہ تو چھالے میں نوک کی طرح چبھ جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے کوئی تیس برس پہلے بھری جوانی میں ہماری نسل ہی کا نہیں، نسل انسانی کا دکھ لکھا تھا۔

گزرتے جا رہے ہیں ماہ و سال زندگان

مگر اک غم پس عمر رواں ٹھہرا ہوا ہے

انسان صدیوں سے آزادی کی چٹک، خوشی کی چہک اور خواب کی مہک کے سفر میں ہے، قافلہ عمر کے مسافر اپنے اپنے وقت پر فنا کے اندھیرے میں اتر جاتے ہیں، اس مقام موعود کی خبر نہیں ملتی جس کے نام پر عازم سفر ہوئے تھے۔ کبھی گاڑی ماسکو ٹرائل کے برفانی عقوبت خانے میں جا رکتی ہے تو کبھی ہٹلر کی عوامی عدالت کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ محترمہ بے نظیر نے کینگرو کورٹ کی اصطلاح متعارف کروائی تھی، زندگی نے مہلت دی ہوتی تو نامعلوم آج کے پاکستان میں سوگندھی کی ہتک پر کیا بولتی ہوئی ترکیب ارزاں کرتیں۔ بڑے رہنما ایک لفظ میں لمحہ موجود کا بنیادی تضاد سمیٹ لیا کرتے ہیں۔ ہم ایسوں کو ذہانت کا یہ درجہ نصیب نہیں ہوا، اس لئے ایران توران کی کہانیاں کہتے ہیں۔

عظیم اشتراکی رہنما اسٹالن نے مطلق اقتدار کے پہلے بارہ برس میں سیاہ، بھورے اور سفید، غرض ہر رنگ کے معلوم انقلاب دشمنوں کا قلع قمع کر دیا۔ آمریت کو مگر اپنے دوام کے لئے ہمہ وقت نئے دشمنوں کی تلاش رہتی ہے۔ اب خود کمیونسٹ حکومت کی صفوں میں غداروں کی جستجو شروع ہوئی۔ 1936سے 1938تک دو برس میں دارو گیر اور ’شفاف‘ مقدمات کی تین لہریں اٹھیں۔ الزام ایک ہی تھا۔ سوویت دستور کی شق 58کے تحت مغربی سرمایہ دار حکومتوں سے گٹھ جوڑ کر کے اشتراکی انقلاب کے خلاف سازش کرنا۔ (یہاں اگر آپ کو آئین پاکستان کی آنجہانی شق 58دو (ب) یاد آ جائے تو درویش کا دوش نہیں۔ آپ کا حافظہ فتنہ پرور ہے۔ ) مطلع صاف ہوا تو اہل روس کو معلوم ہوا کہ سوویت یونین میں برسراقتدار پارٹی سے سرخ فوج کی اعلیٰ ترین قیادت تک، کامریڈ اسٹالن کے خداوندی استثنا کے ساتھ، ایک بھی محب وطن نہیں تھا۔ سب غدار بھرے تھے چنانچہ چن چن کر کیفر کردار کو پہنچا دیے گئے۔ ماسکو ٹرائل کے نام سے انصاف کے اس ناٹک کی خوبی یہ تھی کہ ملزم عدالت میں اپنا دفاع نہیں کرتے تھے، طوطے کی طرح الزامات کی طولانی فہرست پڑھ کر سناتے تھے، اپنے جرائم کا رضا کارانہ اقرار کرتے تھے اور خود سزائے موت کی درخواست کرتے تھے۔ ایسا معجزہ تو ہسپانیہ میں کلیسائی احتساب کے دوران بھی رونما نہیں ہوا تھا۔ سوویت یونین کے بدباطن ناقدین اس ضمن میں خوفناک ایذا رسانی اور نظام عدل کی مایوس کن جانبداری کے طومار باندھتے تھے مگر مارچ 1953میں اسٹالن کی موت تک سوویت یونین کا سچ وہی تھا جو ماسکو ٹرائل کے دست بستہ فیصلوں میں لکھا گیا۔ قومی مفاد کے ریاستی بیانیے کو تاریخ میں اتنی ہی مہلت ملتی ہے۔

اب کچھ ذکر فیلڈ مارشل ارون رومیل کا ہو جائے۔ رومیل کا شمار دوسری عالمی جنگ کے بہترین کمانڈروں میں ہوتا تھا۔ خود چرچل اس کی عسکری مہارت اور اعلیٰ شخصی خوبیاں کا مداح تھا۔ 1942میں شمالی افریقہ کے محاذ العالمین کی لڑائی سے اساطیری شہرت پانے والا رومیل جون 1944میں مغربی محاذ کا انچارج تھا۔ شمالی فرانس کے ساحلوں پر اتحادی افواج کے قدم اترنے کے بعد اسے معلوم ہو گیا کہ جرمنی کی شکست ناگزیر ہو چکی۔ اس رائے کی پاداش میں ہٹلر نے اپنے بہترین کمانڈر کو غدار قرار دے دیا۔ 11اکتوبر 1944کو دو جرمن جرنیل ایک فراخدلانہ پیش کش لے کر رومیل کے پاس آئے۔ رومیل عوامی عدالت میں مقدمہ کا سامنا کرے یا خاموشی سے خودکشی کر لے۔ رومیل نے ناکردہ جرم معلوم ہونے پر اپنے بیوی بچوں سے رخصت لی، افریقہ کور کی معروف جیکٹ پہنی، فیلڈ مارشل کی چھڑی اٹھائی اور پروانہ اجل کے نامہ بروں کے ہمراہ روانہ ہو گیا۔ دس منٹ بعد اس کی بیوی کو فون پر بتایا گیا کہ رومیل کی موت واقع ہو چکی ہے۔

ماسکو ٹرائل اور رومیل کا استثنیٰ نہیں، انصاف کی تاریخ میں یہ کہانی بارہا دہرائی جا چکی ہے۔ انسانی تجربہ بتاتا ہے کہ مطلق العنان اقتدار قوم کی لوح پر ایک موہوم سا نشان ڈال کر اسے ماورائے تنقید قرار دیتا ہے۔ اور پھر یہ نشان لہروں کی صورت پھیلتا دور دور کے ساحلوں تک جا پہنچتا ہے۔ ابتدائی نشان جس قدر متفقہ اور واضح ہوتا ہے، اس سے اٹھنے والی ہر لہر اسی قدر دھندلی اور ناقابل تصدیق ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہی اظہار کی آزادی کا فلسفہ ہے اور یہی فسطائیت کا آزمودہ طریقہ واردات۔ تنقید سے بالاتر نشان کے نمودار ہوتے ہی معلوم کرنا چاہئے کہ تقدیس کی یہ گھنٹیاں دراصل کس کی موت کا اعلان کر رہی ہیں۔ زیادہ تفصیل جاننا ہو تو ارنسٹ ہیمنگوے کا ناول For Whom the Bell Tollsپڑھ کر خود جان لیجئے کہ امریکی رضا کار رابرٹ جارڈن اور ہسپانوی گوریلا پابلو کے بیچ کس پل کے انہدام پر کشمکش ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *