اے سکسٹی ایٹ: دیوہیکل برفانی ’میگا برگ‘ کے پگھلنے کے کیا اثرات ہوں گے؟

A68 کا نام پانے والا دیوہیکل برفانی تودہ (آئس برگ) جب پگھلنا شروع ہوا تو روزانہ کی بنیاد پر سمندر میں تقریباً ڈیڑھ ارب ٹن سے زیادہ تازہ پانی کا اضافہ کر رہا تھا۔

اس کو سمجھنے کے لیے آپ کو یہ بتا دیں کہ پانی کی یہ مقدار برطانیہ کی پوری آبادی کی جانب سے ایک دن میں استعمال کیے جانے والی پانی سے ڈیڑھ سو گنا زیادہ ہے۔

واضح رہے کہ ایک قلیل مدت کے لیے اے سکسٹی ایٹ دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ تھا جس کا رقبہ 6000 مربع کلومیٹر یا 2300 سکویئر میل تھا۔ یعنی ایک ٹرلین ٹن برف۔ یہ تودہ 2017 میں انٹارکٹیکا (قطب جنوبی) سے ٹوٹ کر علیحدہ ہوا تھا۔ اگلے چار سالوں میں یعنی 2021 تک اس کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔

اب سائنس دان اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس تودے نے ماحولیات پر کیا اثر چھوڑا ہے۔

لیڈز یونیورسٹی کی ایک ٹیم سیٹلائٹ سے اکھٹے کیے گئے ڈیٹا کی مدد سے اس دیوہیکل برفانی تودے کے آخری سفر کا جائزہ لے چکی ہے جس کے دوران ایک ٹرلین ٹن برف کا یہ متحرک اور لمحہ بہ لمحہ سکڑتا ہوا جزیرہ انٹارکٹیکا سے رخ بدلتا ہوا بحر منجمند جنوبی سے گزرا اور شمال کی جانب جاتے جاتے بحر اوقیانوس جنوبی میں اتر گیا۔

جنوبی جارجیا
،تصویر کا کیپشندیوہیکل برفانی تودے کا جنوبی جارجیا کی جانب سفر

لیڈز یونیورسٹی کی ٹیم نے ڈیٹا کی مدد سے یہ بھی معلوم کیا ہے کہ اس میگا برگ کے سفر میں ساڑھے تین سال کے دوران برف کس رفتار سے پگھل رہی تھی۔ اس سفر کا سب سے اہم اور آخری حصہ وہ تھا جب A68 برطانوی جنوبی جارجیا کے گرم پانیوں میں داخل ہو رہا تھا۔

اس وقت یہ خدشہ بھی پیدا ہوا تھا کہ کہیں یہ میگا برگ کم گہرے پانیوں میں پھنس کر لاکھوں پینگوئنز، وھیل مچھلیوں اور سیلز کی آمد و رفت کا راستہ ہی نہ بند کر دے۔

لیکن ایسا ہوا نہیں۔ لیڈز یونیورسٹی کی ٹیم کے مطابق پگھلتی ہوئی برف کی وجہ سے اس میگا برگ کی گہرائی کم ہو چکی تھی جس کی وجہ سے اس کا مزید بہتے رہنا مشکل ہو چکا تھا۔

لیڈز یونیورسٹی کی ڈاکٹر این براکمین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے جیسے A68 خشکی کے قریب آ رہا تھا اس نے کچھ دیر کے لیے سمندر کی تہہ کو بھی چھوا۔ یہی وہ وقت تھا جب ہم نے دیکھا کہ اس سے ایک چھوٹا سا ٹکڑا علیحدہ بھی ہوا۔ لیکن یہ اسے زمین بوس کرنے کے لیے ناکافی تھا۔

ڈاکٹر این براکمین کے ساتھی محقق پروفیسر انڈریو شیفرڈ کے مطابق اس میگا برگ کی موٹائی بھی کم ہو رہی تھی جو 150 میٹر سے لے کر 141 میٹر تک تھی۔

اپریل 2021 تک A68 نامی یہ برفانی تودہ بے شمار چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ چکا تھا جن کا دھیان رکھنا ممکن نہیں رہا تھا۔ لیکن اس تودے کے ماحولیاتی اثرات بہت دیر تک باقی رہیں گے۔

برفانی تودہ
،تصویر کا کیپشنایک قلیل مدت کے لیے اے سکسٹی ایٹ دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ تھا

چٹیل اور دیوہیکل برفانی تودے جہاں بھی جاتے ہیں طویل مدتی اثرات چھوڑ جاتے ہیں۔ ان سے پگھلتا ہوا تازہ پانی مقامی سمندر میں کرنٹ بدل دیتا ہے۔ آئرن اور دیگر معدنیات سمیت اس کی برف سے ٹوٹ کر علیحدہ ہوتا ہوا تمام حیاتیاتی مادہ جو نا جانے کب سے اس میں سمویا ہوا تھا اب اچانک سمندر کے آغوش میں آ کر دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے۔

برطانوی انٹارکٹک سروے نے A68کے مکمل خاتمے سے قبل اس کی سطح پر نمودار ہونے والی تبدیلیاں دیکھنے کے لیے چند روبوٹ گلائیڈروں کا سہارا لیا۔

ان گلائیڈروں سمیت دیگر آلات سے حاصل کردہ ڈیٹا سے نہایت دلچسپ معلومات حاصل کی گئی ہیں۔

اوشین گرافر پروفیسر جیرانٹ ٹارلنگ کہتے ہیں کہ ابھی اس ڈیٹا کو مکمل طور پر جانچا تو نہیں جا سکا لیکن یہ واضح ہے کہ سمندی نباتات خصوصا فائٹوپلینکٹن سپیشیز میں واضح تبدیلی آ رہی تھی جس کی وجہ اس برفانی تودے سے خارج ہونے والا حیاتیاتی مواد تھا۔

A68 کی بدلتی ہوئی شکل اور اس سے خارج ہونے والے تازہ پانی کی تمام معلومات ایک تحقیقی جریدے جرنل آف ریموٹ سینسنگ آف اینوائرونمنٹ میں شائع کی گئی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.