اے پی ایس حملہ کیس: وزیراعظم کی پیشی، حکومت کو ذمہ داران کے تعین اور کارروائی کے لیے ایک ماہ کی مہلت

پاکستان کی سپریم کورٹ نے حکومت کو آرمی پبلک سکول پر حملے کے بارے میں تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ پر عملدرآمد اور ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے چار ہفتے کا وقت دیا ہے۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ چار ہفتے بعد سپریم کورٹ میں جمع کروائی جانے والے حکومتی رپورٹ پر وزیر اعظم کے دستخط موجود ہونے چاہییں۔

سپریم کورٹ میں آرمی پبلک سکول پر ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ کر رہا ہے اور عدالت نے بدھ کو اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے عدالت میں پیش ہو کر کہا ہے کہ ’کوئی بھی مقدس گائے نہیں اور عدالتی حکم پر کسی بھی فرد کے خلاف بھی کارروائی ہو گی۔‘

خیال رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو ہونے والے اس حملے میں 144 بچوں سمیت 150 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔

آرمی پبلک سکول پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملے کے بارے میں حقائق معلوم کرنے کے لیے تشکیل پانے والے عدالتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اس واقعے کو ’سکیورٹی کی ناکامی‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس واقعے نے ملک کے سکیورٹی نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

بدھ کو سماعت کے دوران عدالت نے وزیراعظم سے استفسار کیا کہ آپ نے کمیشن کی رپورٹ پر کیا کارروائی کی، جس پر وزیر اعظم نے جواب دیا کہ اس وقت ہماری حکومت نہیں تھی، ہماری صوبائی حکومت تھی جو صرف لواحقین کو معاوضہ دے سکتی تھی جو کہ خیبرپختونخوا نے دیا۔

عدالت نے اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی کر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو کمیشن رپورٹ پیش کی گئی ہے اس میں صرف نچلی سطح کے لوگوں کا ذکر ہے جبکہ بڑے لوگوں کا کہیں نام نہیں ہے۔

عدالت نے وزیراعظم سے کہا کہ اب آپ ملک کے چیف ایگزیکیٹیو ہیں اور آپ کو قومی سلامتی سے متعلق اقدامات کرنے سے کس نے روکا ہے؟ جس پر وزیراعظم نے کہا کہ ’ہمارے لیے کوئی بھی مقدس گائے نہیں ہے۔ اگر عدالت حکم دے تو ہم کسی کے خلاف بھی کارروائی یا مقدمہ درج کر سکتے ہیں۔‘

وزیر اعظم نے کہا کہ انھیں اس رپورٹ کے بارے میں اٹارنی جنرل نے بتایا تھا اس میں کہا گیا تھا کہ اس رپورٹ میں زیادہ تر معاملات اخلاقی ذمہ داری کے ہیں۔

اس پر جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ میڈیا کی رپورٹس کے مطابق آپ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کرنے جا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’جنھوں نے ان بچوں کو شہید کیا کیا ہم ان کے ساتھ مذاکرات کر کے شکست کی ایک اور دستاویز پر دستخط کرنے تو نہیں جا رہے؟‘

قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ آپ نے ٹی ایل پی کے ساتھ بھی معاہدہ کیا اور جنھوں نے احتجاج کے دوران نو پولیس والوں کو 'شہید' کیا، تو کیا ان پولیس اہلکاروں کی جانیں ہم سے کم قیمتی ہیں۔

اس پر عمران خان نے جواب دیا کہ اس معاملے کو افغانستان کے پس منظر میں دیکھنا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ 80 ہزار لوگ جو اس جنگ میں مارے گئے ان کے بارے میں بھی عدالت کوئی احکامات جاری کرے۔

سماعت کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کی اور سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ جن کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے ان کا تعین چار ہفتوں میں کیا جائے اور حکومت اس معاملے کو آگے لے کر جائے گی۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے اس موقع پر کہا کہ وزیر اعظم نے بنچ کے سامنے تمام صورت حال رکھی اور اس بات کا یقین دلایا کہ اس معاملے میں جو بھی ذمہ داران ہوں گے ان کا تعین کیا جائے گا چاہے وہ وزارت داخلہ ہی کیوں نا ہو۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ’عدالت نے چار ہفتے کا وقت دیا ہے، وزیراعظم نے تمام صورتحال پیش کی ہے اور یہ یقین دلایا ہے کہ چاہے اس میں وزیر داخلہ ہو، ہائر ایجنسی کے لوگ ہوں، جو بھی ذمہ دار ہوں، آئین کے تحت کارروائی ہو گی۔‘

آرمی پبلک سکول

وزیراعظم کو پیش ہونے کا حکم کیوں دیا گیا؟

بدھ کی صبح ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے وزیر اعطم عمران خان کو ذاتی حثیت میں طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ یہ معاملات ایسے نہیں چلیں گے اور ذمہ داروں کا تعین کرنا ہو گا۔

جب اس کیس کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل خالد جاوید سے استفسار کیا کہ کیا انھوں نے وزیر اعظم کو سپریم کورٹ کی گذشتہ سماعتوں کے دوران دی گئی ہدایات سے آگاہ کیا تھا، جس کا جواب اٹارنی جنرل نے نفی میں دیا اور کہا کہ وہ ابھی اس ضمن میں وزیر اعظم سے ہدایت لے کر عدالت کو آگاہ کریں گے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سماعت کے دوران اس سانحے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین نے سنہ 2014 میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام کے علاوہ اس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، کور کمانڈر پشاور ہدایت الرحمان اور صوبہ خِیبر پختونخوا کے وزیر اعلی پرویز خٹک کے خلاف اس کیس کا مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی تھی۔

سماعت کے دوران عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ان بچوں کے ورثا کی استدعا کے بارے میں وزیر اعظم کو آگاہ کیا گیا ہے جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں ابھی اُن (وزیر اعظم) سے بات نہیں ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ اس واقعہ سے متعلق جو رپورٹ سامنے آئی ہے اس میں ان افراد کا کوئی کردار نہیں ہے اور نہ ہی اُن کے بارے میں کچھ کہا گیا ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ہم اپنی تمام غلطیاں تسلیم کرتے ہیں لیکن اعلیٰ حکام کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں ہو سکتی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس سانحے میں چوکیدار اور سپاہیوں کے خلاف کارروائی کی گئی جبکہ اصل میں کارروائی اوپر سے شروع ہونی چاہیے تھی۔

انھوں نے کہا کہ اوپر والے تنخواہیں اور مراعات لے کر چلتے بنے جبکہ نیچے والے مقدمات کا سامنا کرتے پر پھر رہے ہیں۔

بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس دیے کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ شدت پسندوں کو اندر سے سپورٹ نہ ملی ہو۔ انھوں نے کہا کہ اے پی ایس کا واقعہ سکیورٹی کی ناکامی تھی۔

بینچ میں موجود جسٹس قاضی امین نے کالعدم تحریک طالبان کا نام لیے بغیر کہا کہ اطلاعات یہ ہیں کہ ریاست کسی گروہ کے ساتھ مذاکرات کر ہی ہے۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اصل ملزمان تک پہنچنا اور انھیں پکڑنا ریاست کا کام نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب اپنے لوگوں کے تحفظ کی بات آئے اور ملک کی انٹیلیجنس ایجنسیاں کہاں چلی جاتی ہیں۔

اس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ابھی وقفہ ہوا ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اٹارنی جنرل عدالتی حکمنامہ لے کر وزیراعظم کے گھر گئے ہیں جو سپریم کورٹ سے کچھ ہی فاصلے پر ہے۔

اے پی ایس کمیشن رپورٹ

آرمی پبلک سکول
،تصویر کا کیپشنآرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے حملے میں 141 طلبا اور سٹاف کے دیگر افراد ہلاک ہوئے تھے

خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل پاکستان کی سپریم کورٹ نے چھ برس قبل پشاور میں آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے حملے سے متعلق تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے عدالتی کمیشن کی رپورٹ عام کرنے کا حکم دیا تھا۔

یہ کمیشن پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد ابراہیم خان کی سربراہی میں قائم کیا گیا تھا اور اس نے 500 سے زائد صفحات پر مشتمل سانحہ آرمی پبلک سکول کی رپورٹ جولائی 2020 میں چیف جسٹس آف پاکستان کو بھیجی تھی۔

کمیشن کی جانب سے اس واقعے میں زخمی ہونے والے بچوں اور مارے جانے والے بچوں کے والدین سمیت 132 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے تھے جن میں 101 عام شہری اور 31 سکیورٹی اہلکار اور افسران شامل تھے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والا گروپ 27 ارکان پر مشتمل تھا جس کے نو ارکان مارے گئے جبکہ 12 کو گرفتار کیا گیا تھا۔

پاکستانی حکام نے اس واقعے میں ملوث متعدد افراد کو فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلا کر سزا دی ہے تاہم ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین کا مؤقف رہا ہے کہ ان کے بچے ایک چھاؤنی میں قائم فوج کے زیر انتظام سکول میں حصولِ تعلیم کے لیے گئے تھے وہ جنگ کے محاذ پر نہیں تھے اور یہ کہ وہ اپنے بچوں کی حفاظت کی فیس سکول انتظامیہ کو باقاعدگی سے دیتے تھے تو پھر یہ واقعہ کیسے پیش آیا، کس کی ایما پر ہوا اور کس کی غفلت کا نتیجہ تھا؟

والدین کا یہی مطالبہ رہا ہے کہ اس سلسلے میں ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور جن کی غفلت یا لاپرواہی سے یہ حملہ ہوا ہے انھیں سزا دی جائے۔