بابا کا ڈھابہ: ویڈیو پیغام جس نے 80 سال کے بابا کے کاروبار کو چار چاند لگا دیے

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو نے انڈیا کے دارالحکومت دلی میں سڑک کنارے ایک ڈھابے کی قسمت بدل کر رکھ دی۔ یہ ڈھابہ ایک عمر رسیدہ شخص اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر چلاتے ہیں جو بابا کے ڈھابہ کے نام سے مشہور ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک ٹویٹ کے ساتھ بابا کی ویڈیو بھی شیئر کی گئی جس میں وہ کاروبار سے متعلق تفصیلات بتا رہے ہیں۔

بابا کا ڈھابہ کھانا پہنچانے والی ایپ زماٹو پر بھی موجود ہے، جس سے اس کا کاروبار مزید چمک اٹھا ہے۔

اب گاہک اس ڈھابے کی جگہ بڑی تعداد میں پہنچ جاتے ہیں۔

ان لوگوں نے جب ویڈیو میں 80 برس کے بابا کا دکھڑا سنا جس میں وہ چلا کر بتاتے ہیں کہ کیسے کورونا کی وبا کی وجہ سے ان کا کاروبار متاثر ہوا ہے تو پھر اس کے بعد اب اس ڈھابے کے باہر کھانا کھانے والوں کی قطاریں بنی نظر آ رہی ہیں۔

اس وقت بابا کانتا پرساد اور ان کی اہلیہ بادامی دیوی مقامی سلیبریٹیز بن چکے ہیں۔

انڈیا میں سٹریٹ فوڈ بہت مقبول ہے۔ مگر کورونا وائرس نے اس کاروبار کو بری طرح متاثر کیا ہے اور انھیں اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور کر دیا۔

نئی دہلی کے جنوب میں مالویا نگر میں یہ میاں بیوی 1990 سے یہ ڈھابا چلا رہے ہیں۔

اس ڈھابے پر یہ دونوں گھر کا بنا تازہ کھانا لے کر آتے ہیں، جو سب کی دلچسپی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس کھانے میں پراٹھا اور ایک خاص طرح کی گول بریڈ جو انڈیا میں خاصی مشہور ہے۔ اس کے ساتھ سالن، دال چاول اور دال سے بنا سوپ شامل ہے۔ بابا کے ڈھابہ سے کوئی بھی 50 روپے سے کم میں بھی پیٹ بھر کا کھانا کھا سکتا ہے۔

Mr Prasad at his eatery in Delhi
،تصویر کا کیپشنویڈیو میں بابا نے بتایا کہ ان کا کاروبار بالکل ختم ہو کر رہ گیا تھا

بابا نے ایک فوڈ بلاگر کو انٹرویو میں بتایا کہ وہ ان کی اہلیہ گذشتہ 30 سال سے اس ڈھابے سے اپنا گزر بسر کر رہے ہیں۔ تاہم کورونا وائرس کی وبا اس حوالے سے بھی بہت خطرناک ثابت ہوئی کہ اس سے ان کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا۔

پرساد بابا اس ویڈیو میں اپنی طویل جدوجہد کے بارے میں بتاتے ہوئے چلا کر بتاتے ہیں۔ انھوں نے وہ پکوان بھی دکھائے جو وہ اس ڈھابے سے لوگوں کو پیش کرتے ہیں۔ جب انٹرویو میں ان سے پوچھا جا رہا ہوتا ہے کہ انھوں نے اب تک کتنے پیسے بنا لیے ہیں تو وہ دس دس روپے کے کچھ کرنسی نوٹ دکھا کر زاروقطار رونا شروع کر دیتے ہیں۔

فوڈ بلاگر گوراو واسان نے بدھ کو انسٹا گرام پر اس کا ایک کلپ شیئر کیا جو اتنی جلدی وائرل ہوا کہ پھر یہ ٹوئٹر تک پہنچ گیا۔ ایک خاتون نے اسے ٹوئٹر پر شیئر کرتے ہوئے کہا اس ویڈیو سے اس کا دل مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔ انھوں نے دلی میں بسنے والوں سے بابا کے ڈھابہ جانے کی درخواست کر ڈالی تاکہ اس سے بابا اور ان کی اہلیہ کا کاروبار بہتر ہو سکے۔

جب یہ ٹویٹ انڈیا کی مشہور شخصیات تک پہنچا تو پھر یہ خوب پھیلا۔ بالی وڈ سٹارز سے لے کر کرکٹرز تک اور عام لوگوں سے بھی اسے خوب پذیرائی ملی۔

پرساد بابا کی یہ ویڈیو چار ملین سے بھی زیادہ بار دیکھی گئی۔

جمعرات کی شام کو کھانا ڈیلیوری والی ایپ زماٹو نے یہ اعلان کیا کہ بابا کا ڈھابہ اب ان کی ایپ پر درج کر دیا گیا ہے۔ ایپ نے لوگوں کو یہاں تک کہا کہ اگر وہ کسی اور ایسے ہی ڈھابے کے بارے میں جانتے ہیں تو مطلع کریں تاکہ ان کے کاروبار کو فروغ دینے میں مدد فراہم کی جا سکے۔

دلی میں بابا کا دھابہ

ویڈیو میں پرساد بابا نے کہا کہ وہ ان کی اہلیہ صبح ساڑھے چھ بجے کھانا بنانا شروع کرتے ہیں اور ساڑھے نو بجے تک وہ اس کام کو نمٹا لیتے ہیں۔

عام لوگ اس ڈھابے سے آ کر کھانا کھاتے ہیں۔ پرساد بابا کے مطابق وبا کے دنوں میں جب کاروبار متاثر ہوا تو ان کے پاس گھر میں اپنے لیے بھی کھانا بنانے کی پیسے ختم ہو گئے تھے۔

مگر جب سے ان کی دکھ بھری ویڈیو وائرل ہوئی تو اس وقت سے کھانا کھانے والوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ اس ڈھابے کا رخ کرتا نظر آتا ہے۔

ان میں سے بہت سے لوگ بابا اور ان کی اہلیہ کے ساتھ سیلفی بھی بناتے ہیں۔

اب یہ ڈھابہ ٹی وی چینل پر ہیڈ لائن بھی بن رہا ہوتا ہے۔ فلمی اداکارہ سونم کپور اور کرکٹر آر ایشون ان مشہور شخصیات میں شامل ہیں جنھوں نے پرساد بابا اور ان کی اہلیہ کو مدد دینے کی پیشکش کی۔

فوڈ بلاگر واسان نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ وہ اتفاق سے بابا کے ڈھابہ تک پہنچے۔ انھوں نے اپنے نقصان کے بارے میں انھیں بتایا۔ اس کے بعد میں نے ان کے ساتھ ویڈیو بنائی اور سوشل میڈیا پر اپنے فالورز کے ساتھ شیئر کر دی۔

ان کے مطابق انھوں نے اس ڈھابے اور بابا کے گھر کی مرمت کے لیے 27 سو ڈالر کے عطیات جمع کر لیے ہیں۔

اب پرساد بابا اور ان کی اہلیہ جذبات اور خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔

پرساد بابا نے اے این آئی کو بتایا کہ فوڈ بلاگر کی وجہ سے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے ان کے ڈھابے کا رخ کیا ہے۔ ان کے مطابق ’کل یہاں سیل نہ ہونے کے برابر تھی جبکہ آج مجھے ایسا لگتا ہے کہ سارا انڈیا ہی میرے ساتھ ہے۔‘