بابر اعظم اور پاکستان نے کئی ریکارڈز پاش پاش کردیے

جنوبی افریقہ کے خلاف تیسرے ٹی20 میچ میں بابر اعظم نے جارحانہ بیٹنگ کی بدولت پاکستان کو میچ میں فتح دلانے کے ساتھ کئی ریکارڈز بھی پاش پاش کر دیے۔

جنوبی افریقہ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کو میچ میں فتح کے لیے 204 رنز کا ہدف دیا لیکن پاکستان نے بابر اعظم اور محمد رضوان کی عمدہ بیٹنگ کی بدولت دو اوورز قبل ہی ہدف حاصل کر لیا۔

دونوں اوپنرز نے 197 رنز کی شراکت قائم کی جو پاکستان کی جانب سے ٹی20 کرکٹ میں شراکت کا نیا ریکارڈ ہے، اس سے قبل یہ اعزاز محمد حفیظ اور احمد شہزاد کے پاس تھا جنہوں نے 2013 میں زمبابوے کے خلاف ناقابل شکست 143 رنز کی ساجھے داری قائم کی تھی۔

بابر اعظم نے میچ میں 49 گیندوں پر سنچری اسکور کر کے پاکستان کی جانب سے تیز ترین ٹی20 سنچری کا اعزاز حاصل کر لیا، اس سے قبل یہ اعزاز احمد شہزاد کے پاس تھا۔

بابر اعظم اس اننگز کی بدولت ناصرف پاکستان کی جانب سے تینوں فارمیٹ میں سنچری اسکور کرنے والے چوتھے بلے باز بن گئے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان کی یہ اننگز ٹی20 کرکٹ میں کسی پاکستانی بلے باز کی جانب سے کھیلی گئی سب سے بڑی اننگز ہے۔

اس سے قبل احمد شہزاد اور محمد رضوان بھی تینوں فارمیٹس میں سنچری کا اعزاز رکھتے ہیں جبکہ سب سے بڑی اننگز کا اعزاز 111 رنز کے ساتھ احمد شہزاد کے پاس تھا۔

اس میچ میں صرف بابر اعظم نے ہی ریکارڈ نہیں توڑے بلکہ قومی ٹیم نے بھی ایک انوکھا عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔

بابر اعظم تینوں فارمیٹ میں سنچری بنانے والے تیسرے پاکستانی بلے باز بن گئے— فوٹو: اے ایف پی
بابر اعظم تینوں فارمیٹ میں سنچری بنانے والے تیسرے پاکستانی بلے باز بن گئے— فوٹو: اے ایف پی

میچ میں پاکستان نے صرف ایک وکٹ کے نقصان پر 204 رنز کا ہدف حاصل کیا، اس طرح گرین شرٹس ایک وکٹ گنوا کر 200 سے زائد رنز کے ہدف کا تعاقب کرنے والی دنیا کی پہلی ٹیم بن گئی۔

صرف یہی نہیں بلکہ بابر اور رضوان نے بھی عمدہ شراکت سے نیا عالمی ریکارڈ بنا دیا۔

یہ ہدف کے تعاقب میں سب سے بڑی شراکت کا عالمی ریکارڈ ہے جو اس سے قبل نیوزی لینڈ کے پاس تھا جب مارٹن گپٹل اور کین ولیمسن نے پاکستان کے خلاف 171 رنز کی شراکت قائم کی تھی۔

پاکستان نے ٹی 20 کرکٹ میں سب سے بڑے ہدف کا تعاقب کیا ہے، اس سے قبل پاکستان کی ٹیم نے کبھی بھی 200 سے زائد رنز کے ہدف کا تعاقب نہیں کیا۔

جہاں ایک طرف بلے بازوں نے کئی مثبت ریکارڈ پاکستانی ٹیم کے نام کیے وہیں میچ میں 20 اوورز میں 203 رنز دینے والے پاکستانی باؤلرز کئی منفی ریکارڈ بھی بنا گئے۔

پاکستان کے خلاف پروٹیز نے 203 رنز بنائے اور یہ 7 سال بعد پہلا موقع ہے کسی ٹیم نے پاکستان کے خلاف 200 سے زائد رنز بنائے، اس سے قبل 2013 میں سری لنکا نے کے خلاف 200 رنز سے زائد کا ہندسہ عبور کیا تھا۔

میچ میں تمام ہی پاکستانی باؤلرز کی کارکردگی واجبی رہی اور تمام باؤلرز میزبان بلے بازوں کے خلاف جدوجہد کرتے نظر آئے۔

یہ ٹی20 کرکٹ میں پہلا موقع تھا کہ پاکستان کے تمام پانچوں باؤلرز نے ایک ٹی20 میچچ میں 9 رنز فی اوورز سے زائد کی اکانومی سے رنز دیے ہوں۔

پاکستان نے اس میچ میں فتح کی بدولت سیریز میں 1-2 کی برتری حاصل کر لی اور سیریز کا چوتھا اور آخری میچ 16 اپریل کو سنچورین میں ہی کھیلا جائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *