بابر اعظم کا مومینٹم نہ ہونے کا جواز، مگر بات شاید مومینٹم کی نہیں تھی

شکست ایک حقیقت ہے مگر جب اس حقیقت کے ساتھ ہزیمت اور ذلت کا امتزاج بھی شامل ہو جائے تو یہ ایک ’تلخ‘ حقیقت بن کر سامنے آتی ہے۔ یہ تلخ حقیقتیں عموماً ایسے غیر ملکی دوروں پر ہی پاکستان کے سامنے آتی ہیں۔

اگر یہی ہزیمت پاکستان کو مورگن کی اس الیون کے ہاتھ سہنی پڑتی جو ہفتے بھر پہلے سری لنکا کے طوطے اڑا رہی تھی تو یہ کہا جا سکتا تھا کہ نمبر ون ٹیم نے ٹیبل کے بیچ کی ٹیم کو پچھاڑ دیا مگر چونکہ یہ ندامت ایک سیکنڈ الیون کے سامنے ہوئی سو اس میں ذلت کا پہلو نمایاں تر ہو جاتا ہے۔

اختتامی تقریب میں بابر اعظم سارا کریڈٹ انگلینڈ کی جھولی میں ڈال گئے اور اپنی کم مائیگی کا صرف یہ جواز لا پائے کہ ’ہم مومینٹم حاصل نہیں کر پائے۔‘ یہ بات تو بہرحال پاکستان کے سکور بورڈ سے بھی عیاں تھی، تشنۂ جواب تو یہ سوال ہے کہ ’ہم مومینٹم کیوں نہیں حاصل کر پائے؟‘

اس میں دو رائے نہیں کہ یہاں قسمت پاکستان کے ساتھ نہیں تھی۔ پے در پے بائیو سکیور ببل میں رہنے کے چیلنجز بھی بسا اوقات اعصاب کو بوجھل کر چھوڑتے ہیں اور ایک لبا لب کیلنڈر میں ان کرکٹرز کے لیے زندگی صرف وہی ہوتی ہے جو دو ببلز کے بیچ کہیں میسر آ جائے۔

پاکستان

پاکستانی سکواڈ کو بہرحال یہ میسر نہ آ سکی اور اُنھیں پی ایس ایل کی بساط سمٹتے ہی پھر سے ایک اور جہاز میں سوار ہو کر ایک اور ببل کو جانا تھا۔ ڈربی میں کچھ پریکٹس سیشنز بھی موسم کی نذر ہو گئے اور کارڈف پہنچنے تک یہ ٹیم مکمل طور پر تیار نہ تھی۔

پھر یہ ستم کہ بابر ٹاس بھی ہار گئے اور بیٹنگ کے لیے مشکل کنڈیشنز میں پہلے بیٹنگ کرنی پڑ گئی۔

مگر اس ساری بدقسمتی میں بھی یہ ٹیم کہیں زیادہ بہتر مقابلہ کر سکتی تھی۔ اب ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ دو ماہ پہلے جنوبی افریقی کنڈیشنز میں بہترین کرکٹ کھیلنے والی ٹیم نسبتاً کم چیلنجنگ کنڈیشنز میں آ کر ایک دم بھیگی بلی بن گئی۔

چند روز پہلے جب انہی سیمنگ کنڈیشنز میں ایک جنوبی ایشیائی ٹیم رسوائیاں سمیٹ رہی تھی تو اس کے مقابل اوئن مورگن کی وہ ٹیم تھی جو ورلڈ چیمپیئن ہے۔ اس کے مقابلے میں جس ٹیم کا پاکستان کو سامنا کرنا پڑا، وہ نہایت باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل ہونے کے باوجود ایک ٹیم نہیں تھی۔ میچ شروع ہونے سے دو دن پہلے تک تو یہ سبھی کھلاڑی آپس میں ملے بھی نہیں تھے۔

اس کے باوجود سٹوکس کی ٹیم بابر اعظم کی الیون سے بہتر نکلی۔ ہوم کنڈیشنز کا فائدہ اپنی جگہ مگر یہ طے ہے کہ ثاقب محمود کا پہلا سپیل سیمنگ وکٹوں پر نئی گیند کا زبردست استعمال تھا۔

پاکستان

سیمنگ وکٹوں پر بلے باز اور بولر دونوں کے پاس صرف ایک مخصوص لائن اور لینتھ ہوتی ہے جہاں سے وہ اپنا اٹیک یا دفاع کر سکتے ہیں۔ یہ آف سٹمپ کے باہر سے آتی وہ گیندیں ہوتی ہیں جو کسی کہنہ مشق بلے باز کے دل میں بھی شبہات پیدا کر دیں کہ ’مار دیا جائے یا چھوڑ دیا جائے۔‘

ثاقب محمود نے اس لائن کا نہایت درستی سے استعمال کیا، ہر بلے باز کو گیند کی لائن میں آنے اور جارح سٹروک کھیلنے پر مجبور کیا۔ مگر اس لائن میں کچھ گیندیں ایسی نپی تلی تھیں کہ بابر اعظم جیسے مسلمہ بلے باز بھی چکرا گئے۔

بات شاید مومینٹم کی نہیں، اسی لائن کی ہے جو ایشیائی ٹیموں کو اکثر چکرا دیتی ہے۔ یہ حقیقت بہرطور اپنی جگہ کہ پاکستان وہ ٹیم رہی ہے جو ایسی ندامت کے بعد اگلے ہی میچ میں سارے اندازوں کو مات دے دیتی ہے۔