باسمتی چاول پر انڈیا اور پاکستان کے دعوے: پاکستان میں باسمتی چاول ’کرنل باسمتی‘ کیسے بنا؟

پاکستان اور انڈیا کے درمیان سفارتی، سیاسی اور دیگر محاذوں کے علاوہ چاول کے محاذ پر بھی ایک جنگ جاری ہے اور اس لڑائی میں بھی ایک ’کرنل‘ کا اہم کردار ہے۔

پاکستان اور انڈیا اس وقت یورپی یونین میں باسمتی چاول کے حقوق کی قانونی جنگ میں ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ انڈیا کی جانب سے باسمتی چاول کو خالصتاً انڈین پراڈکٹ قرار دینے کی درخواست یورپی یونین میں جمع کرائے جانے کے بعد پاکستان نے بھی اس حوالے سے اپنا جوابی دعویٰ جمع کرایا ہے جس میں باسمتی چاول کو پاکستان اور انڈیا کی مشترکہ پراڈکٹ قرار دینے کی درخواست کی گئی ہے۔

امکان یہی ہے کہ انڈیا اور پاکستان کی جانب سے جمع کروائے گئے دعوؤں پر فیصلہ کرنے میں یورپی یونین کو ابھی کچھ مہینے لگیں گے۔ تاہم باسمتی چاول کی پاکستان اور انڈیا میں تاریخ بہت سارے دلچسپ حقائق سے بھری ہوئی ہے۔

پاکستان میں باسمتی چاول کی ایک بہت مشہور اور اچھی قسم ’کرنل باسمتی‘ رہی ہے جو اب پاکستان میں ناپید ہے اگرچہ ابھی بھی باسمتی کی کچھ اقسام کو کرنل باسمتی کا لیبل لگا کر فروخت کیا جاتا ہے تاہم یہ اصلی کرنل باسمتی چاول نہیں ہے۔ تاہم انڈیا میں کرنل باسمتی چاول مل جاتا ہے جو وہاں دوسرے نام سے فروخت ہوتا ہے۔ پاکستان میں کرنل باسمتی چاول کیسے متعارف ہوا اس کی ایک دلچسپ تاریخ ہے۔

باسمتی چاول کی تاریخ

پاکستان اور انڈیا میں باسمتی چاول کی تاریخ لگ بھگ دو سو سال پرانی ہے۔ پنجابی زبان کے معروف شاعر وارث شاہ کی شاعری میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔

پاکستان میں چاول کے شعبے کے ماہر زاہد خواجہ نے بتایا کہ ہیر وارث شاہ میں باسمتی کی خوشبو اور اس کی خصوصیات کا ذکر ملتا ہے۔

’مشکی چاولاں دے بھرے آن کوٹھے سویں پتی تے جھونڑے چھڑی دے نی

باس متی مسافری بیگمی سن ہر چند تے زردیے دھری دے نی‘

(خوشبو دار چاولوں سے کمرے بھر لیے سویں پتی اور جھونے صاف کر لیے، ان میں باسمتی، مسافری، بیگمی بھی تھے۔ ہرچند اور زردئیے بھی پڑے ہوئے تھے)۔

’پاکستان میں کرنل باسمتی کی ورائٹی ایک کرنل صاحب کی وجہ سے متعارف ہوئی تھی‘
،تصویر کا کیپشن’پاکستان میں کرنل باسمتی کی ورائٹی ایک کرنل صاحب کی وجہ سے متعارف ہوئی تھی‘

باسمتی چاول کی پیداوار انڈیا اور پاکستان کے مخصوص حصوں تک محدود تھی اور یہاں پیدا ہونے والے باسمتی چاول کا الگ ذائقہ اور خوشبو تھی۔ اس کی پیداوار کا تاریخی علاقہ چناب اور ستلج دریاؤں کا درمیانی حصہ ہے۔ پاکستان میں سیالکوٹ، نارووال، شیخوپورہ، گجرات، گوجرانوالہ، منڈی بہاؤالدین اور حافظ آباد کے اضلاع باسمتی چاول کی پیداوار کے حوالے سے تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔

دوسری جانب انڈیا میں مشرقی پنجاب، ہریانہ، انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقوں میں تاریخی طور پر اس کی کاشت کی جاتی رہی ہے۔

زاہد خواجہ نے بتایا کہ کالا شاہ کاکو میں قائم رائس ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے سنہ 1926 میں باسمتی چاول کی ایک قسم دریافت کی جسے باسمتی 370 کا نام دیا گیا ۔ یہ دریافت حافظ آباد کے ضلع میں ہوئی جو چاول کی اس قسم کی کاشت کے لیے بہت سازگار تھا۔ یہ قسم اپنی خوشبو اور ذائقے کی وجہ سے بہت جلد مشہور ہوئی اور اس کی کاشت وسیع پیمانے پر ہونے لگی۔

پاکستان میں باسمتی کیسے کرنل باسمتی بنا

پاکستان میں کرنل باسمتی چاول کی بہت مشہور ورائٹی رہی ہے اور اس کی بہت زیادہ طلب بھی رہی ہے۔ پاکستان میں باسمتی چاول کرنل باسمتی کیسے بنا اس کے بارے میں زاہد خواجہ نے بتایا کہ پاکستان میں کرنل باسمتی کی ورائٹی ایک کرنل صاحب کی وجہ سے متعارف ہوئی تھی۔

سنہ 1960 میں حافظ آباد سے تعلق رکھنے والے کرنل مختار حسین نے باسمتی چاول کا نیا بیج دریافت کیا۔ اس بیچ کی کاشت سے باسمتی چاول کی جو فصل تیار ہوئی وہ معیار میں بہت اعلیٰ تھی اور اس چاول کی خوشبو بھی بہت اچھی تھی۔

کرنل مختار حسین
،تصویر کا کیپشنکرنل مختار حسین کے بیٹے فیصل نے بتایا کہ جب وہ اسی کی دہائی میں ہریانہ انڈیا میں ایک زرعی کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے تو وہاں موجود افراد نے کرنل باسمتی دریافت کرنے پر ان کے والد کو خراجِ تحسین پیش کیا

زاہد خواجہ نے بتایا کہ کرنل صاحب نے اپنے طور پر یہ بیج دریافت کیا تھا اور اس میں حکومتی سطح سے کوئی معاونت نہ تھی تو لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ کرنل مختار کا باسمتی ہے۔ کچھ عرصے بعد یہ ’کرنل دا باسمتی‘ کہا جانے لگا اور پھر صرف کرنل باسمتی رہ گیا۔ اپنے معیار اور خوشبو کی وجہ سے یہ بہت مقبول ہو گیا اور پاکستان میں اس کی پیداوار بھی بڑھی۔

زاہد نے بتایا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان 65 کی جنگ کے دوران جب شکر گڑھ کے کچھ علاقے انڈیا کے قبضے میں گئے تو کرنل باسمتی چاول کی کھڑی فصل سے بیج لے گئے اور گورداسپور اور اس کے گردونواح کے علاقے میں اس کی کاشت شروع کر دی اور اس کی برآمد شروع کر دی۔

فیصل حسین جو کرنل مختار حسین کے بیٹے اور زراعت کے شعبے سے وابستہ ہیں انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کے والد کی متعارف کرائی گئی باسمتی چاول کی قسم کرنل باسمتی کے نام سے اندرون و بیرون ملک مشہور ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ اس کا دانا بڑا تھا اور یہ خوشبو کی وجہ سے زیادہ طلب میں آیا۔

انھوں نے کہا کہ ان کے والد کو جب ورثے میں زمین ملی تو ان کی زمین کمزور اور کلراٹھی تھی لیکن باسمتی کی کاشت کے لیے بہت آئیڈیل زمین واقع ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ان کے والد نے ورائٹی دریافت کی یا باسمتی کی پہلے سے موجود ورائٹی سے پیوند کاری کر کے اس ورائٹی کی کاشت کی جو کرنل باسمتی کے نام سے مشہور ہوئی اس کے بارے میں وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے تاہم یہ ورائٹی بہت مشہور ہوئی اور کرنل باسمتی کے نام سے فروخت ہونے لگی۔

انھوں نے کہا یہ ورائٹی پہلے کسان نے پسند کی کیونکہ وہ کمزور زمین پر بھی کاشت ہوتی تھی بعد میں رائس ملز اور تاجروں نے بھی اسے قبول کیا۔

انھوں نے کہا کرنل باسمتی کو حکومتی سرپرستی تو نہ ملی تاہم نجی طور پر اس کی طلب اتنی زیادہ بڑھی کہ یہ کرنل باسمتی کے نام سے مشہور ہوئی۔

کرنل مختار حسین
،تصویر کا کیپشنسنہ 1960 میں حافظ آباد سے تعلق رکھنے والے کرنل مختار حسین نے باسمتی چاول کا نیا بیج دریافت کیا

فیصل نے بتایا کہ 65 کی جنگ کے دوران جب شکر گڑھ کا علاقہ انڈین فوج کے قبضہ میں آیا تو اس کا بیج انڈین فوج اپنے ساتھ لے گئی اور اس کی کاشت پاکستان کے ملحقہ انڈیا کے علاقوں میں شروع ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ اس کے بارے میں دستاویزی ثبوت ہیں۔ ان کے مطابق یہ بیج اور بھی جگہوں سے انڈیا پہنچا تاہم اس کے ثبوت نہیں ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان اور انڈیا میں کرنل باسمتی سے پیوندکاری کر کے باسمتی کی دوسری اقسام بھی پیدا کی گئیں۔ انھوں نے کہا کرنل باسمتی کو کئی ناموں سے انڈیا میں پکارا جاتا ہے جس میں پاکستان باسمتی، پنجاب باسمتی، امرتسری باسمتی وغیرہ شامل ہیں۔

فیصل نے بتایا کہ جب وہ اسی کی دہائی میں ہریانہ انڈیا میں ایک زرعی کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے تو وہاں موجود افراد نے کرنل باسمتی دریافت کرنے پر میرے والد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انھوں نے کہا انھیں اس بات پر خوشی ہے کہ ان کے والد کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے باسمتی بیج سے انڈیا اور پاکستان دونوں کے کسانوں نے فائدہ اٹھایا۔

کرنل باسمتی کی پیداوار کیسے کم ہوئی

پاکستان میں کرنل باسمتی کی پیداوار کو اس وقت دھچکا لگا جب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں سوشلزم پالیسیوں کا نفاذ کیا گیا۔

زاہد خواجہ نے کہا سوشلسٹ حکومت میں معیار سے زیادہ مقدار کو دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی بھٹو صاحب کی سوشلسٹ حکومت نے یہی کیا جب انھوں نے چاول کی پیداوار بڑھانے کی بات کی تو باسمتی کی ایک نئی قسم متعارف کرائی گئی جس کی پیداوار پہلے والی قسم سے دگنی تھی۔

پیداوار تو بڑھی لیکن معیار نہیں تھا اور حکومت کیونکہ خود سب سے بڑی خریدار تھی اس لیے کرپشن کا عنصر بھی اس میں شامل تھا ۔ لوگوں نے کرنل باسمتی کو سائیڈ پر رکھا اور باسمتی کی نئی قسم کاشت کی جس کی مقدار بہت زیادہ تھی لیکن وہ کوالٹی میں اچھی نہ تھی۔

زاہد نے کہا کہ کرنل باسمتی کی ورائٹی آہستہ آہستہ ختم ہوتی گئی اور ایک وقت ایسا آیا کہ یہ بالکل ختم ہو گئی۔ انھوں نے کہا اگرچہ آج بھی باسمتی چاول کی کچھ اقسامِ کرنل باسمتی کے نام سے بیچی جاتی ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی کرنل باسمتی نہیں ہے۔

فیصل حیسن نے بتایا کہ مارکیٹ میں جو باسمتی کرنل باسمتی کے نام پر بک رہا ہے یہ وہ کرنل باسمتی نہیں جس کی ورائٹی ان کے والد نے متعارف کرائی تھی اور سپر کرنل ایک الگ ورائٹی ہے جسے اوریجنل کرنل باسمتی سے بہتر پیش کر کے بیچا جا رہا ہے۔ انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں کرنل باسمتی کی وہ ورائٹی نہیں ہے جو ان کے والد نے متعارف کرائی تھی۔

چاول کے برآمد کنندہ توفیق احمد نے تصدیق کی کہ اصل کرنل باسمتی تو اب نہیں ہے تاہم خریدار کے لیے آج بھی باسمتی کی دوسری اقسام کے ساتھ کرنل باسمتی کا لفظ لکھا جاتا ہے کیونکہ ایک زمانے میں یہ اعتماد کا نام تھا اور کرنل باسمتی ایک مشہور برانڈ رہا۔

چاول

باسمتی چاول پر انڈیا اور پاکستان کا تنازع

انڈیا اور پاکستان کے درمیان باسمتی چاول پر تنازع نہیں ہے۔ انڈیا اس کے حقوق اپنے نام پر محفوظ کروانا چاہتا ہے جب کہ پاکستان کے نزدیک یہ دونوں ملکوں کی مشترکہ ملکیت ہے۔

اس طرح پاکستان میں آج انڈین ورائٹی 1121 کو مقامی نام دے کر بیچا اور بیرون ملک بھیجا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ہوتا آ رہا ہے اور انڈیا اور پاکستان دونوں اپنے ہاں پیدا ہونے والی باسمتی چاول کی مخصوص اقسام کو مقامی نام دے کر بیچتے رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ انڈیا نے سنہ 2004 میں باسمتی چاول کے حقوق اپنے نام پر محفوظ کرنے کی کوشش کی تھی تاہم وہ ایسا کرنے میں ناکام رہا اور یورپی یونین نے پاکستان کے سپر باسمتی اور انڈیا کے پوسا باسمتی کو زیرو ٹیرف کا یکساں ٹریٹمنٹ دیا اور یہ بات یورپی یونین کی ریگولیشن میں درج ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ انڈیا کا جغرافیکل انڈیکیشن (جی آئی) کا حق اپنے نام محفوظ کرنے کا دعویٰ اس لیے صحیح نہیں ہے کہ باسمتی کی پہلی ورائٹی کی دریافت کولو تارڑ حافظ آباد میں سنہ 1926 میں کی گئی جو پاکستان میں واقع ہے۔

فیصل حسین نے کہا انڈیا نے یورپین یونین میں اکیلے جا کر غلطی کی کیونکہ باسمتی چاول کا روایتی علاقہ ستر سے اسی فیصد پاکستان میں واقع ہے اور صرف کچھ حصہ انڈیا میں ہے کہ جو باسمتی چاول کا روایتی علاقہ رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا نے باسمتی کو انڈسٹریل کر دیا اور وہ جو چار ملین ٹن چاول باسمتی کے نام سے دنیا کو بیچ رہا ہے اور وہ باسمتی نہیں ہے۔

انھوں نے کہا انڈیا کے مقابلے میں ہمیں حکمت عملی سے چلنا ہو گا اور اس حقیقت کو اجاگر کرنا ہو گا کہ پاکستان میں باسمتی چاول کے روایتی علاقے ہیں۔

انھوں نے کہا پاکستان اور انڈیا کو باسمتی چاول کے روایتی علاقے ورثے میں ملے۔ یہ چناب اور راوی کے درمیان کا علاقہ اور انڈیا میں ڈیرہ دون کا علاقہ ہے۔ انھوں نے کہا موجودہ حکومت لاہور کے ساتھ جو نیا شہر بسانے جا رہی ہے یہ علاقہ بھی باسمتی چاول کا روایتی علاقہ رہا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *