بجلی کا بریک ڈاؤن: بحالی کا سلسلہ مرحلہ وار جاری، گڈو بیراج کے سات اہلکار غفلت پر معطل

وزارت توانائی نے اپنے سات اہلکاروں کو سنیچر کی رات ملک بھر میں ہونے والے بجلی کے بریک ڈاؤن میں غفلت کا ذمہ قرار دیتے ہوئے ملازمت سے معطل کر دیا ہے جبکہ ملک میں بجلی فراہمی بحالی سلسلہ جاری ہے۔

یہ تمام ملازمین گڈو تھرمل پاور پلانٹ پر فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ معطل کیے جانے والوں میں دو اٹینڈنٹس، دو آپریٹرز، ایک فورمین، جونیئر انجنئیر اور ایڈیشنل پلانٹ منیجر شامل ہیں۔

ملازمین کی معطلی کا نوٹس سینٹرل پاور جنریشن کمپنی نے جاری کیا ہے۔

اس سے قبل وفاقی وزیِرِ توانائی عمر ایوب کے مطابق پاکستان بھر میں ہونے والے بجلی کے بریک ڈاؤن کی وجوہات کا تعین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر توانائی عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ شب 11 بجکر 41 منٹ پر گڈو کے پاور پلانٹ پر مسئلہ پیدا ہوا اور ایک سیکنڈ میں فریکیونسی 50 سے زیرو ہو گئی جس کے بعد ہم نے تربیلا کو دوبار اسٹارٹ کیا، جس سے بجلی بحال ہونا شروع ہوئی۔‘

وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ فالٹ پورے ملک کے پلانٹس میں نہیں آیا تھا بلکہ ایک مخصوص جگہ پر بجلی کی فریکونسی کم ہوئی جس کی وجہ سے پورے سسٹم نے خود کو شٹ ڈاؤن کرنا شروع کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بجلی کا سسٹم اس وقت سٹیبل ہے اور دھند ختم ہونے کے بعد ہی فالٹ کی اصل وجہ اور جگہ معلوم ہو سکے گی اور تحقیقات کے بعد ہی حقائق سامنے لائیں گے۔

عمر ایوب کے مطابق وزیراعظم کو صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا تھا اور وزیراعظم نے بجلی جلد بحال کرنے کی ہدایت کی تھی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شبلی فراز کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومتوں میں بجلی کی پیداوارکے پلانٹس تو بنا دے گئے لیکن ترسیل کا نظام ان سے مطابقت نہیں رکھتا تھا اور بجلی کی ترسیل کا نظام اپڈیٹڈ نہ ہو تو اس سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ جب ہماری حکومت آئی اس وقت تک ٹرانسمیشن پر کوئی کام نہیں ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ کے دور میں 18 سے ساڑھے 18 ہزار واٹ ترسیل کا نظام تھا لیکن ہم بجلی کے ترسیلی نظام کو 24/23 ہزار میگا واٹ تک لے گئے ہیں۔

بجلی

پاکستان بھر میں بجلی کی بحالی کی صورتحال

وزارتِ توانائی کے مطابق ملک کے بڑے شہروں لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد، جھنگ، ملتان، کراچی، ضلع گجرات اور ضلع منڈی بہاؤالدین کے کئی علاقوں میں بجلی بحال کردی گئی ہے اور دیگر جگہوں پر بحالی کا عمل مرحلہ وار جاری ہے۔

وزارتِ توانائی کے مطابق بجلی بحالی کے دوران انفرادی فیڈرز پر عارضی طور پر بجلی بند بھی کی جا سکتی ہے تاکہ سسٹم کی فریکونسی کو برقرار رکھا جائے گا اور وزارت نے اس دوران عوام سے تعاون کی اپیل کی ہے۔

اسلام آباد:

وزارت توانائی کے مطابق اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ڈی ایچ اے، سواں اور روات کے کچھ علاقوں میں اس وقت صارفین کے لیول تک بجلی بحالی کر دی گئی ہے۔

خیبر پختونخوا:

پیسکو ترجمان کے مطابق خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بجلی بحالی کا عمل تیزی سے جاری ہے اور آر سی سی کی ہدایت پرصوبے کے مختلف گرڈز کی بحالی مرحلہ وار کی جا رہی ہے۔

پیسکو کے چیف ایگزیکٹو کے مطابق وہ خود پی ڈی سی پر بحالی کے کام کی نگرانی کررہے ہیں اور دیگر اعلی افسران بھی گرڈ سٹیشنز پر موجود ہیں۔

اس وقت تک صوبے کے تقریباً 36 فیصد گرڈز سے بجلی بحال کر دی گئی ہے اور باقی بھی مرحلہ وار بحال کی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا کے تقریباً 40 سے 41 فیصد علاقوں کے فیڈرز سے بجلی کی فراہمی بحال کردی گئی ہے۔

صوبے کے بڑے 27 میں سے 23 ہسپتالوں کو بجلی کی فراہمی بحال کر دی گئی ہے۔

حکام کے مطابق بجلی کی بحالی میں ہسپتالوں انڈسٹریز اور اربن ایریاز کو ترجیح دی جارہی ہے جبکہ ایگریکلچر فیڈرز کو بجلی کی فراہمی پرتیزی سے کام جاری ہے۔

کراچی:

وزارت کے مطابق کراچی کو بجلی فراہم کرنے والی نجی کمپنی کے الیکٹرک کے 60 فیڈرز پر بجلی کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔

کے الیکٹرک کے مطابق کراچی کے بیشتر مقامات پر بجلی بحال کی گئی ہے جبکہ اس کی انجینیئرنگ ٹیمیں بجلی کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں۔

کراچی کو بجلی کی فراہمی کرنے والی کمپنی کے الیکٹرک نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں بریک ڈاؤن کی وجہ سے کے الیکٹرک بھی متاثر ہوئی مگر اب کمپنی نے بجلی کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور کراچی کے زیادہ تر حصوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے۔

بجلی

بریک ڈاؤن کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

صوبائی دارالحکومتوں کراچی، لاہور، کوئٹہ اور پشاور سمیت ملتان، راولپنڈی اور فیصل آباد سمیت چاروں صوبوں کے متعدد شہر اس بریک ڈاؤن سے متاثر ہوئے ہیں۔

صحافی ایم اے جرال کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے تمام چھوٹے و بڑے شہروں کے علاوہ دیہاتوں میں بھی بجلی کا بریک ڈاؤن ہوا۔

وزارتِ توانائی کی جانب سے بتایا گیا کہ 11 بج کر 41 منٹ پر گڈو بجلی گھر میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کی وجہ سے ملک کی ہائی ٹرانسمیشن لائن ٹرپ ہوئی ہے۔

گڈو تھرمل پاور سٹیشن سندھ کے ضلع کشمور میں دریائے سندھ کے کنارے پر واقع ہے اور اس کا شمار پاکستان کے بڑے بجلی گھروں میں ہوتا ہے۔

بجلی

سوشل میڈیا پر ردِ عمل

پاکستان میں بجلی کے بریک ڈاؤن کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے طرح طرح کے ردِ عمل دیے جاتے رہے۔ جہاں سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا وہیں لوگ میمز بھی شیئر کرتے رہے۔

صارف زین العابدین نے اداکار شاہ رخ خان کی ایک پریشان حال تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ اُن تمام لوگوں کی حالت ہے جن کے فونز اس وقت چارج نہیں تھے۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ اس وقت پورے ملک میں قومی سوال یہ ہے کہ کیا تمہارے گھر لائٹ ہے؟

بجلی

مختلف لوگوں کی جانب سے چہ مگوئیاں اور پرانی خبریں بھی شیئر کی جاتی رہیں۔

کچھ لوگوں نے سنہ 2015 میں بجلی کے ایک بریک ڈاؤن کی خبر کو موجودہ بریک ڈاؤن کی خبر قرار دے کر شیئر کیا جس کے مطابق بلوچستان میں ایک ٹرانسمیشن لائن پر حملے کی وجہ سے بریک ڈاؤن ہوا۔

تاہم ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’بولو بھی‘ کے ڈائریکٹر اسامہ خلجی نے اس جانب توجہ دلائی کہ یہ خبر جنوری 2015 کی ہے اور اس کا آج کے بریک ڈاؤن سے کوئی تعلق نہیں۔

بجلی

کچھ لوگوں نے اس حوالے سے بھی اپیل کی کہ ہسپتالوں میں وینٹیلیٹرز پر موجود لوگوں کے لیے دعا کی جائے۔

صارف فیمان بتول نے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ بریک ڈاؤن کے دوران یو پی ایس اور جنریٹر رکھنے والے لوگ کیسے خود کو خوش قسمت سمجھ رہے ہوں گے۔

بجلی

مختلف صارفین کی جانب سے بلیک آؤٹ کی تصاویر بھی شیئر کی جاتی رہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: