بجلی کی قیمت میں 3 روپے 99 پیسے اضافے کی منظوری

نیشنل الیکٹرک اینڈ پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے فیول ایڈجسمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں 3 روپے 99 روپے اضافے کی منظوری دے دی جس کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ بجلی کی قیمت میں اضافہ اپریل کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے، یہ اضافہ جون کے بلوں میں وصول کیا جائے گا۔

اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک اور لائف لائن صارفین پر نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ 10 جون کو نیپرا نے اپریل 2021 اور مارچ 2022 کے درمیان سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ (کیو ٹی اے) کے تحت کے-الیکٹرک کے ٹیرف میں تقریباً 6روپے 40 پیسے فی یونٹ اضافے کا تعین کیا تھا۔

نیپرا کے ترجمان نے وضاحت دی تھی کہ ٹیرف میں اضافہ صارفین پر اثر انداز نہیں ہوگا کیونکہ یہ ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی (ٹی ڈی ایس) کا حصہ بنے گا جو قومی یکساں ٹیرف کی وجہ سے حکومت کی جانب سے بجٹ سے باہر ادا کی جائے گی۔

7 جون کو کے الیکٹرک نے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت تقریباً 4 روپے 86 پیسے فی یونٹ اور سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے تحت 4 روپے 52 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست دی تھی جس سے آئندہ ماہ بلنگ کی مد میں صارفین سے تقریباً 27 ارب روپے اضافی محصولات حاصل کیے جاسکیں گے۔

کے الیکٹرک نے 2 علیحدہ علیحدہ درخواستوں میں 9 ارب 353 کروڑ روپے کے ریونیو تخمینہ کے ساتھ اپریل میں استعمال ہونے والی بجلی کے لیے 4 روپے 86 پیسے فی یونٹ ایف سی اے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس سلسلے میں نیپرا نے 14 جون کو عوامی سماعت طلب کی ہے تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جاسکے کہ ایندھن کی قیمت میں تبدیلی اور سہ ماہی تبدیلی کے لیے ’کے الیکٹرک‘ کی درخواست جائز ہے یا نہیں اور کیا اس نے نیشنل گرڈ، اپنے پاور پلانٹس اور دیگر بیرونی ذرائع سے بجلی کی خریداری کے دوران معاشی میرٹ کے حکم پر عمل کیا؟

ادھر، ماہانہ بلوں میں شامل ہونے والے بجلی کے چارجز میں 46.77 فیصد حیران کن اضافے کے حوالے سے تمام شعبوں کے ماہرین نے اتفاق ہے کہ اس کا اثر پاکستانیوں کی بڑی تعداد پر پڑے گا۔

ماہر سماجیات پروفیسر محمد شبیر نے کہا کہ ’سماجی اور اقتصادی تباہی ہونے جارہی ہے، چند لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے مزید نیچے دھکیل دیے جائیں گے، متوسط طبقے میں کمی اور نچلے متوسط میں اضافہ ہوگا، جرائم کی شرح بڑھے گی اور سماجی انتشار مزید گہرا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہو سکتا ہے کہ حکومت کو بھی کوئی فائدہ نہ ہو کیونکہ بجلی کی چوری میں خاطر خواہ اضافہ ہو جائے گا جو کہ مطلوبہ اثرات کو بے اثر کردے گا، چوری کے ساتھ ساتھ کرپشن میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا‘۔

انہوں نے کہا کہ اس قسم کے بوجھ جلد ہی بقا کے لیے چیلنج بن جائیں گے جس کا اکثریت مقابلہ نہیں کر سکتی، تیل اور گیس کی قیمتوں کے بھی اسی طرح کے دباؤ شامل ہوں گے اور سماجی افراتفری کا خدشہ ایک المناک صورت اختیار کرے گا۔

ماہر معاشیات اور کالم نگار ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا کہ ’اس اضافے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس سے بچنا ممکن تھا، اگر یکے بعد دیگرے حکومتیں گزشتہ چند برسوں میں اپنے بل کی وصولی کو بہتر بنانے میں کامیاب ہو جاتیں تو وہ نقصانات کو کم کر سکتی تھیں اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے لیے قرض دہندگان کے دباؤ سے بچ سکتی تھیں‘۔

پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی (پیپکو) کے سابق سربراہ نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیپرا کے پاس بجلی کے نرخوں کو ایڈجسٹ کرنے کا تین جہتی طریقہ کار ہے جس میں ماہانہ، سہ ماہی اور سالانہ ایڈجسٹمنٹ شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ قیمت کا فیصلہ کرتے وقت نیپرا 9 متغیرات پر غور کرتا ہے جن میں ایندھن کی قیمت، ڈالر کی برابری، آپریشن اور مینٹی نینس چارجز شامل ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.