بجلی کے نرخ میں 2.97 روپے فی یونٹ تک اضافہ

اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے یکم اکتوبر سے ایک سال کے لیے سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ (کیو ٹی اے) کے تحت سابق واپڈا کی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں 2.97 روپے فی یونٹ تک اضافے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا۔

 رپورٹ کے مطابق نیپرا کی جانب سے ٹیرف شیڈول کے ساتھ جاری حکم نامے کے مطابق ٹیرف اضافے میں گھریلو صارفین کے علاوہ تمام صارفین کے لیے فی یونٹ 1.25 روپے کا نیا سرچارج اور 1.66 روپے فی یونٹ کا سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ شامل ہے۔

شیڈول میں واضح کہا گیا ہے کہ 300 یونٹس تک استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے ٹیرف میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، تاہم فی یونٹ 1.72 روپے کا اضافہ 300 یونٹس سے زیادہ استعمال کرنے والے صارفین پر لاگو ہوگا۔

نیپرا کے مطابق تجارتی، صنعتی، سنگل پوائنٹ سپلائی، عارضی فراہمی، صنعتی یونٹوں کی رہائشی کالونیاں اور زراعت کے لیے ٹیرف میں 2.97 روپے فی یونٹ اضافہ کیا گیا ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ زرعی ٹیوب ویلز کے ٹیرف میں اضافہ 2.66 روپے فی یونٹ ہوگا۔

اس میں 20-2019 کی چوتھی سہ ماہی کے لیے تقریباً 83 پیسے اور 21-2020 کی پہلی اور دوسری سہ ماہی کے لیے تقریباً 90 پیسے فی یونٹ اور 6 اگست کو نیپرا کی جانب سے طے شدہ اور تیسری سہ ماہی کے لیے تقریباً 7 پیسے فی یونٹ کی کم کیو ٹی اے ایڈجسٹمنٹ شامل تھی۔

تاہم نیپرا کے ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ نیٹ ٹیرف میں اضافہ صرف 4 پیسے فی یونٹ ہو گا اور ڈسکوز کے لیے اضافی آمدنی میں 4 ارب روپے پیدا کرے گا۔

عہدیدار نے بتایا کہ پہلے کیو ٹی اے 1.62 روپے فی یونٹ کی مدت 30 ستمبر کو ختم ہو گئی تھی اور اس کی جگہ نئے کیو ٹی اے کو 1.66 روپے فی یونٹ کے ساتھ یکم اکتوبر سے دوسرے سال کے لیے لاگو کیا گیا تھا اس لیے اضافی بوجھ 4 پیسے فی یونٹ ہوگا۔

تاہم انہوں نے اقرار کیا کہ مجموعی ٹیرف میں اضافہ تقریباً 1.66 روپے فی یونٹ تھا کیونکہ پہلے کیو ٹی اے کی میعاد ختم ہونے پر مجموعی ٹیرف میں 1.62 روپے فی یونٹ کمی ہونی چاہیے تھی لیکن ایک سال کے لیے زیادہ کیو ٹی اے صارفین پر بوجھ ڈالے گا۔

انہوں نے کہا کہ تازہ کیو ٹی اے کا تخمینہ ہے کہ ڈسکوز کو تقریباً 165 ارب روپے کی آمدنی ملے گی، اس کے علاوہ حکومت کو سیلز ٹیکس میں 25 ارب روپے سے زائد موصول ہوں گے۔

عہدیدار نے کہا کہ اس سال جولائی میں 1.72 روپے فی یونٹ کیو ٹی اے نافذ ہونا چاہیے تھا لیکن حکومت نے موجودہ کیو ٹی اے کی جگہ اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے یکم اکتوبر تک تاخیر کا فیصلہ کیا تھا جو 30 ستمبر کو ختم ہوچکی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: