بجٹ تقریر میں غلطیاں

پارلیمان میں کہا ہر فقرہ ریکارڈ ہوتا ہے۔ ریکارڈ ہوئے ہر لفظ کو بعدازاں تحریری صورت میں ڈھال کر تاریخی دستاویز کا حصہ بھی بنایا جاتا ہے۔اس تناظرمیں اہم ترین وہ تقریر ہوتی ہے جو ہر سال کے مالیاتی سال کے آغاز میں وزیر خزانہ قومی آمدنی کے اعدادوشمار عیاں کرنے کو پڑھتے ہیں۔قومی خزانے میں میسر رقوم کی روشنی میں آئندہ مالیاتی سال کے دوران ریاستی اخراجات کا تخمینہ فراہم کیا جاتا ہے۔ابھی تک میسر رقوم مجوزہ اخراجات پورے کرنے کے قابل نہ ہوں تو نئے ٹیکس لگائے جاتے ہیں۔تجویز کردہ ٹیکس بھی اس ضمن میں ناکافی شمار ہوں تو ملکی اور غیر ملکی بینکوں اور اداروں سے قرض لینے کے ارادے کا اظہار ہوتا ہے۔

وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کئی دنوں کی محنت سے تیار ہوتی ہے۔ اسے تحریری شکل میں چھاپ کر قومی اسمبلی کے روبرو رکھا جاتا ہے۔اس تقریر کو ایوان میں پڑھنے سے قبل مگر وفاقی کابینہ اس کی منظوری دیتی ہے۔یہ منظوری بجٹ اجلاس شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل ہی دی جاتی ہے۔اس روایت کے سبب بسااوقات یہ بھی ہوا کہ وزیر خزانہ کی جو تقریر تحریری صورت میں دستیاب ہوتی ہے اس کے کئی حصے قومی اسمبلی میں پڑھنے کے دوران یا تو کامل نظرانداز کردئیے جاتے ہیں یا چند کلیدی اعدادوشمار کو آخری لمحات میں بدل دیا جاتا ہے۔

گزشتہ جمعہ کے روز شوکت فیاض ترین صاحب نے تحریری صورت میں میسر اپنی بجٹ تقریر کے متن کا میرے ’’جٹکے‘‘حساب سے کم ازکم 20فی صد سے زیادہ حصہ پڑھا ہی نہیں۔جو تقریر انہوں نے پڑھی اس میں چند ایسے نئے ٹیکسوں کا اعلان بھی کردیا گیا جنہیں کابینہ نے نامنظورکردیا تھا۔انٹرنیٹ کے استعمال پر تجویز کردہ ٹیکس اس ضمن میں اہم ترین تھا۔ وزیر خزانہ کی تقریر کے دوران اس کا اعلان ہوا تو تحریک انصاف کے کئی متوالے ہکا بکا رہ گئے۔

اپنی کرشماتی شخصیت کی برکت سے عمران خان صاحب نے لوگوں سے حیران کن تعداد میں چندہ جمع کرلیا تو اس کے ذریعے لاہور میں کینسر کے علاج کے لئے ایک جدید ترین ہسپتال کا قیام عمل میں لایا گیا۔ صحت عامہ کی خاطر متحرک ہوئے نوجوانوں نے بعدازاں عمران خان صاحب کو مجبور کیا کہ وہ عملی سیاست میں بھی کود پڑیں۔ ریاستی اور حکومتی نظام کو تباہ کرنے والی بیماریوں کے خاتمے کا بندوبست بھی کریں۔ ’’نظام کہنہ‘‘ کے خلاف تحریک انصاف نے اپنا پیغام بنیادی طورپر انٹرنیٹ کے ذریعے ہی پھیلایا تھا۔ فیس بک پر متحرک اس کے حامیوں نے سیاست دانوں کا روپ دھارے ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کو بے نقاب کیا۔مجھ جیسے پرانی وضع کے صحافی ان کی بدولت ’’’لفافے‘‘‘ شمار ہوئے۔ بتدریج ٹی وی سکرینوں پر نظرنہ آنے کی وجہ سے بالآخر ’’غیر صحافی‘‘ قرار پائے۔

’’انقلاب‘‘ کے بارے میں یہ فقرہ اکثر دہرایا جاتا ہے کہ ’’برپا‘‘ ہوجانے کے بعد یہ سب سے پہلے ’’اپنے ہی بچے‘‘ کھانا شروع ہوجاتا ہے۔ روایتی اور سوشل میڈیا نے عمران خان صاحب کو اقتدار سے فیض یاب کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔اگست 2018میں تاہم تحریک انصاف کو حکومت مل گئی تو ہنر ابلاغ کے حتمی ماہر جناب فوادچودھری صاحب اس کے پہلے وزیر اطلاعات ہوئے۔ انہوں نے نہایت فکر مندی سے دہائی مچانا شروع کردی کہ ہمارے صحافتی ادارے جس ’’بزنس ماڈل‘‘ کی پیروی کررہے ہیں وہ دور حاضر کے تقاضوں کے سبب بارآور نہیں رہے گا۔

ان کی فکرمندی کوایسے صحافتی اداروں نے بھی بہت سنجیدگی سے لیا جو قیام پاکستان کے آغاز ہی سے اپنی ساکھ قائم کرچکے تھے۔ کاروباری اعتبار سے بھی کامیاب ترین شمار ہوتے تھے۔ فواد چودھری صاحب کی محنت سے انہوں نے اپنے اداروں پر ’’مالی بوجھ‘‘ ہوئے صحافیوں اور ان کے معاونین کو نوکریوں سے برطرف کردیا۔ ٹی وی سکرینوں پر بھاری بھر کم تنخواہیں لینے کے باوجود Ratingsکے حصول میں قطعاََ ناکام رہنے والے اینکر خواتین وحضرات بھی گھر بھیج دئیے گئے۔ اب روایتی میڈیا کی سکرینوں پر محب وطن ذہن ساز چھائے ہوئے ہیں۔ان میں سے چند ایک کے یوٹیوب چینل بھی ہیں۔ انٹرنیٹ کے استعمال پر لاگو ہوئے ٹیکس نے تحریک انصاف کے نقیبوں اور متوالوں کو حیران وپریشان کردیا۔ ان کی تشفی کے لئے چند وزراء نے گھبراہٹ میں ٹی وی چینلوں کی انتظامیہ سے ہنگامی رابطے استوار کئے۔ انہیں اطلاع دی گئی کہ وزیر اعظم نے بذاتِ خود انٹرنیٹ پر ٹیکس لگانے کی تجویز کو مسترد کردیاتھا۔شوکت ترین صاحب سے ’’غلطی ‘‘ ہوگئی۔

وزیر خزانہ جب بجٹ تقریر پڑھ رہے تھے تو میں قومی اسمبلی کی پریس گیلری میں موجود تھا۔ وہاں بیٹھے ہوئے یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ شوکت ترین صاحب کی لکھی تقریر کا ایوان میں پڑھی تقریر سے بغور موازنہ کیا جائے۔اپوزیشن کے شور شرابے کی بدولت شوکت ترین صاحب کا ایک فقرہ بھی سنائی نہیں دے رہا تھا۔ انٹرنیٹ پر ٹیکس لگانے کی تجویز مگر نجانے کیسے میرے کانوں تک بھی پہنچ گئی۔

قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرنے کے ایک دن بعد روایتی طورپر وزیر خزانہ ایک پرہجوم کانفرنس میں اپنے پیش کردہ بجٹ کے کلیدی خدوخال وضاحت سے بیان کرتے ہیں۔ ترین صاحب نے اس دوران انٹرنیٹ پر لگے ٹیکس کو ’’غلطی‘‘ ٹھہراکر اسے نظرانداز کرنے کی درخواست کی۔ان کی پڑھی تقریر میں ’’غلطی‘‘ مگر ایک نہیں بے شمار تھیں۔ ان کی نشان دہی کے لئے مگر لازمی ہے کہ شوکت فیاض ترین صاحب نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر جو تقریر کی ہے اس کی آڈیو ریکارڈنگ حاصل کی جائے۔ قومی اسمبلی کا سٹاف اس ریکارڈنگ کو تحریری صورت میں قلم بند بھی کرتا ہے۔ اس کا حصول بطور پارلیمانی رپورٹر میرا حق ہے۔ میں اسے بآسانی حاصل کرسکتا ہوں۔

’’غلطیوں‘‘ کی نشان دہی کے لئے مگر اس کے بعد مجھے شوکت ترین صاحب کی تحریری صورت میں میسر تقریر کا قومی اسمبلی میں ہوئی تقریر کی آڈیو ریکارڈنگ سے موازنہ کرنا ہوگا۔ اس عمل سے گزرنے کے لئے کم ازکم ڈیڑھ گھنٹے کی بھرپور توجہ درکار ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ ’’غیر صحافی‘‘ ہوتے ہوئے میں یہ مشقت کیوں برداشت کروں۔سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی چسکہ بھری ویڈیوز سے اپنا جی کیوں نہ بہلائوں۔

فرض کیا نام نہاد پیشہ وارانہ ذمہ داری کی وجہ سے ابھرے احساس جرم سے مجبور ہوکر میں نے قومی اسمبلی سے شوکت ترین صاحب کی جمعہ کے روز ایوان میں ہوئی تقریر کی ریکارڈنگ حاصل کرلی۔ اس کے بعد نہایت توجہ سے اس کا تقابل تحریری صورت میں میسر تقریر سے کربھی لیاتو’’غلطیوں‘‘ کی تعداد اور حقیقت بیان کرنے والے کالم کو کتنے Likesاور Shareملیں گے۔ میری دانست میں صفر سے زیادہ نہیں۔خواہ مخواہ کی مشقت سے لہٰذا کیا حاصل۔یہ سوچتے ہوئے سکھ چین محسوس کروں کہ پاکستان مملکتِ خداداد ہے پیارے۔ یہاں سب چلتا ہے۔

ویسے بھی وزیر خزانہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں ہوئی تقریر کے دوران جو غلطیاں سرزد ہوئیں ان کی نشاندہی بنیادی طورپر ان افراد کی ذمہ دار ی ہے جو ’’ہمارے نمائندے‘‘ کہلاتے ہیں۔ان میں سے 140کے قریب اپوزیشن بنچوں پر براجمان ہیں۔مسلم لیگ (نون) کی اگلی صفوں پر شاہد خاقان عباسی،خرم دستگیر اور احسن اقبال جیسے افراد بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ پاکستان ہی نہیں دنیا کے اعلیٰ ترین تعلیمی اداروں کے طالب علم رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی نشستوں پر سید نوید قمر بھی موجود ہیں۔کئی بار ہمارے وزیر خزانہ رہے۔ اعلیٰ تعلیم کے دوران امریکہ میں شاہد خاقان عباسی کے ساتھ بھی کئی برس گزارے ہیں۔

جس مشقت کا میں غیر صحافی متمنی ہوں وہ ان کی بطور رکن قومی اسمبلی اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے ہوئے اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ان کے پاس فرصت کے لمحات میسر نہ ہوں تو کسی ’’دو ٹکے کے رپورٹر‘‘ کو شوکت ترین کی تحریری تقریر کا پڑھی تقریر سے موازنہ کا ’’ٹھیکہ‘‘ دے سکتے ہیں۔ یوں میرے کسی غریب صحافی کا بھلا بھی ہوجائے گا۔ وہ دو گھنٹوں کی مشقت سے کمائی رقم سے اس سیزن کے تازہ پھل لے کر اپنے بچوں کو تھوڑی دیر کو خوش کرسکتا ہے۔

میری اطلاع کے مطابق ابھی تک اپوزیشن کی کسی جماعت نے اس پہلو کی جانب توجہ ہی نہیں دی ہے جس کو بیان کرنے کے لئے مجھے یہ کالم گھسیٹنا پڑا ہے۔ میرے اور آپ جیسے بے اختیار شہریوں کی طرح ’’ہمارے نمائندے‘‘ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ ہماری پارلیمان کی اصل اوقات کیا ہے۔ یہ کوئی ’’ادارہ‘‘ نہیں بلکہ ’’شوشا‘‘ والا تماشہ ہے جس کا بنیادی مقصد دنیا کو یہ باور کروانا ہے کہ پاکستان ایک ’’اسلامیہ جمہوریہ‘‘ ہے جہاں عوام کی منتخب کردہ پارلیمان ہی ’’سب پر بالادست ہے۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: