بحری افواج کی کثیر القومی امن مشقیں

گہرے پانیوں میں موجود رہ کر پاک سرزمین کی حفاظت کرنے والی پاک بحریہ نے 2007 ء سے کثیر القومی امن مشقوں کے انعقاد کا آغاز کیا تھا جو ہر دو سال بعد منعقد ہوتی ہیں۔سال 2007 ء میں اپنی نوعیت کی ان منفرد مشقوں میں 28 ممالک کی بحری افواج نے حصہ لیا تھا اور ہر سال ان ممالک کی تعداد میں اضافہ ہورہاہے۔ پاک بحریہ کی ساتویں کثیر القومی امن مشقیں چند روز بعد کراچی میں منعقد ہورہی ہیں۔منعقدہ مشقوں کا آغازانٹرنیشنل میری ٹائم کانفرنس سے ہوگا، ان مشقوں کا مقصد شریک ممالک کی بحری افواج کے مابین تعاون اور مشترکہ کارروائیوں کے دوران استعداد کار میں اضافہ کرنا ہے تاکہ بحرہند میں امن اور سلامتی کو موثر طور پر قائم کیا جاسکے۔ ان مشقوں کی افادیت اور اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس سال ہونے والی مشق میں حصہ لینے کے لیے 45 سے زائدممالک نے اپنی شرکت کی تصدیق کی ہے، جو کہ اپنے بحری جہاز، ایئر کرافٹ، ہیلی کاپٹرز، اسپیشل آپریشنز فورسز،دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی ٹیموں اور میرینز کے ساتھ شرکت کریں گے، اس کے علاوہ کثیر تعداد میں بحری مبصرین بھی اس مشق میں شریک ہوں گے۔ امن مشق بحری سفارتکاری، علاقائی بحری سلامتی، تعاون اور اشتراک میں مدد گار، اور باہمی تجربات سے استفادہ کرنے سمیت تمام چیلنجزسے نمٹنے،خطرات کیخلاف مشترکہ آپریشنز کی استعداد کاراور جوابی کارروائیوں کی صلاحیتوں میں اضافے کی کلیدی اہمیت کی حامل ہوگی۔

بندرگاہوں کے تحفظ، کھلے سمندر میں خطرات سے نمٹنے اور امدادی آپریشنز کیلئے مشترکہ مشقیں بھی کی جائیں گی۔ بحر ہند کی اہمیت صرف اس وجہ سے نہیں کہ بحرالکاہل اور بحر اوقیانوس کے بعد یہ دنیا کا تیسرا بڑا سمندر ہے بلکہ زمانہ قدیم سے آج تک اسے مشرق اور مغرب کے درمیان ایک عظیم تجارتی شاہراہ کی حیثیت حاصل رہی ہے۔چونکہ یہ تجارت انتہائی منافع بخش تھی اس لئے اپنے زمانے کی ہر بڑی طاقت نے اسے اپنے کنٹرول میں لانے کے لیے بحرہند پر اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کی۔ان طاقتوں میں قدیم مصری،رومن، عرب اور چینی بھی شامل تھے اور جدید دور میں یورپی طاقتوں یعنی پرتگیز یوں اور ولندیزیوں،فرانسیسیوں اور انگریزوں نے بھی یہی حکمت عملی اپنائی۔ موجودہ دور میں بحرہندکی معاشی، دفاعی اور سیاسی اہمیت اور بھی بڑھ چکی ہے کیونکہ اس میں گزرنے والی بحری شاہراہوں پر کھربو ں ڈالر مالیت کے سامان سے لدے ہوئے ہزاروں جہازہر موسم میں اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک کے زیر استعمال تیل کی 80 فیصد سے زائدمقدار بحر ہند کے مختلف حصوں میں واقع تنگ آبی گزرگاہوں مثلاً مشرق میں آبنائے ملاکا اور مغرب میں آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے جاپان،چین،بھارت، پاکستان،یورپ اور امریکہ پہنچتی ہے۔ اس بنا پر بحر ہند ایک ایسا سمندر ہے جس سے تقریبا ًدنیا کے تمام ممالک کے مفادات وابستہ ہیں مگر جن ممالک کے لئے اس سے گزرنے والی آبی شاہراہوں کی حفاظت اور کھلے سمندر میں جہازوں کی بلا روک ٹوک آمدورفت سب سے زیادہ اہم ہے۔ وہ ممالک جن کے ساحلوں کو اس سمندر کا پانی چھوتاہے، ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظرپاکستان کی 80 فیصد سے زیادہ بیرونی تجارت بحر ہند اور اس سے ملحقہ بحیرہ عرب کے ذریعے ہوتی ہے۔پاکستان کے لئے نہ صرف اس کی تقریباً ایک ہزار کلومیٹر طویل ساحل کی حفاظت بلکہ کھلے سمندروں میں تجارتی جہازوں کی بلا روک ٹوک آمدورفت ایک انتہائی اہم ٹاسک ہے اور چونکہ بحرہند کی آبی شاہراؤں کا تحفظ ان سب کے لئے اہم ہے جن کے تجارتی اور معاشی مفادات بحیر ہند سے وابستہ ہیں، اسی لیے اس کھلے سمندر خصوصاً جہاں جہازوں کو تنگ آبی راستوں سے گزرنا پڑتا ہے، میں امن اور سلامتی کا قیام کسی ایک ملک کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی فریضہ ہے۔ اس لئے گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے بحر ہند میں سے گزرنے والی آبی شاہراہوں کی حفاظت،بحری قزاقی کی بیخ کنی اور دہشت گردوں کی طرف سے ان آبی راستوں کے ذریعے اپنی مذموم سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے خلاف کارروائیوں کے لیے منظم اور مربوط کوششیں جاری ہیں۔
یقینا امن 2021 ء مشقوں کے دوران قائم ہونے والے روابط اور حاصل شدہ تجربا ت شریک ممالک کے باہمی تعاون میں اضافے کا باعث اوربحری افواج کے کثیر القومی ماحول میں آپریشنز کے انجام دینے کی صلاحیتوں میں اضافے کا باعث بنیں گے۔ پاکستان کو اسکے محل وقوع کے باعث کئی میری ٹائم چیلنجز کا سامنا ہے، دنیا کے تین اہم خطوں مشرق وسطی، سینٹرل ایشیاء اور جنوبی ایشیاء کے سنگم پر واقع اور انرجی گلوبل ہائی وے خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کی قربت کی وجہ سے پاکستان خصوصی اہمیت کا حامل ہے جبکہ اسکے ساتھ ساتھ پاک چین اقتصادی راہداری اور گوادر بندرگاہ کے آپریشنل ہونے کے بعد شمالی بحیرہ عرب میں سمندری سرگرمیاں کئی گنا بڑھنے کا قوی امکان ہے۔ ہند میں بحری سکیورٹی کے چیلنجز کے پیش نظربحری افواج کے درمیان تعاون لازمی ہو چکا ہے تاکہ خطرات کا سدباب کیا جائے۔ پاکستان بحیرہ عرب میں سمندری سفر کو محفوظ بنانے اور قانونی سمندری نظم کو برقرار رکھنے اور آزادانہ سمندری نقل و حرکت کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے۔ بلاشبہ یہ مشقیں بحر ہند کو دہشت گردی، سمگلنگ اور دیگر خرابیوں سے پاک رکھنے کیلئے منعقد کی جا رہی ہیں، جبکہ پاکستان کے کسی بھی ملک کیخلاف کبھی جارحانہ عزائم نہیں رہے۔ حالیہ مشقوں کا بنیادی مقصد میری ٹائم سکیورٹی کے ایک ایسے نظریے کو فروغ دینا ہے، جس کی بنیاد اجتماعی کوشش پارٹنرشپ پر رکھی گئی ہو تاکہ تجارتی اور دفاعی مقاصد کے لئے بحرہند ایک پرامن اور محفوظ سمندر بن جائے۔ ان مشقوں میں عالمی افواج کی بھر پور شرکت اس امر کی بھی دلیل ہے کہ دنیا کی جدید، باصلاحیت اور طاقتور ممالک خطے میں قیام امن کے سلسلے میں کی جانے والی پاک بحریہ کی کاوشوں کوثمر آور مانتے ہیں اور بحری امن و استحکام کے لئے پاک بحریہ کی ان کاوشوں کا بھر پور ساتھ دینے کو تیار ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: