بحیرہ احمر میں پھنسے پاکستان ملّاح ’ڈیزل، پیٹرول ملے پانی میں چاول ابال کر کھانے پر مجبور‘

'ہم اب جہاز کا رخ کسی بھی طرف نہیں موڑ سکتے ہیں۔ اب ہم سمندر کے رحم و کرم پر ہیں۔ سمندر کی لہریں اس جہاز کو جدھر لے جاتی ہیں، جہاز اس سمت پر گھوم جاتا ہے۔ ہمیں ڈر لگ رہا ہے کہ لہریں اس کو الٹا ہی نہ دیں۔'

یہ کہنا ہے چھ پاکستانی ملّاحوں کا جو گذشتہ پندرہ دنوں سے اپنے جہاز کا انجن خراب ہونے کے باعث بحیرہ احمر میں سعودی عرب کے نزدیک پھنسے ہوئے ہیں۔

'مہر' نامی جہاز کے نائب کپتان دلدار احمد نے بی بی سی کے عمیر سلیمی سے سٹیلائٹ فون کے ذریعے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اور ان کے ساتھی دو ہفتے سے بحیرہ احمر میں سعودی عرب کی حدود میں پھنسا ہوئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ بحیرہ احمر میں پہلے جہاز کا ایک انجن خراب ہوا، پھر دوسرا اور اس کے بعد جہاز کے سٹیرنگ کا ہائیڈرولک سسٹم بھی جواب دے گیا۔

'ہم سمندر کا پانی پی کر گزارہ کر رہے ہیں۔ حالات اتنے برے ہیں کہ ہم جہاز کے انجن میں ڈیزل اور پیٹرول ملے ہوئے پانی میں چاول ابال کر کھانے پر مجبور ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ وہ 'کسی بھی وقت مر سکتے ہیں۔ پتا نہیں کیوں ہمارے مرنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ کم از کم اگر ہماری پاکستانی اور مسلمان نہیں تو انسان ہی سمجھ کر ہماری مدد کی جائے۔'

دلدار احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اور ان کے ساتھ عملے کے پانچ ارکان، جن میں سلام الدین، عبدالغنی، محمد اسماعیل، محمد شفیع اور علی محمد نامی افراد شامل ہیں، جہاز کو عمان سے مصر لے جا رہے تھے۔

جہاز مہر
،تصویر کا کیپشنویب سائٹ ویسل فائنڈر کے مطابق جہاز سعودی عرب اور مصر کے درمیان موجود ہے

دلدار احمد کا کہنا تھا کہ 'ہماری صورتحال یہ ہے کہ جب حلق بالکل خشک ہو جاتا ہے تو اس وقت انجنوں میں سے ڈیزل اور پیڑول ملا پانی نکالتے ہیں یا سمندر میں سے پانی لیتے ہیں۔ اسے ابالتے ہیں اور پھر کپڑے سے چھان کر اتنا پی رہے ہیں کہ بس حلق تر ہو جائے۔'

انھوں نے بتایا کہ عملے کے پاس اب جہاز میں کھانے کے لیے چاولوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

'جب ہم بھوک سے نڈھال ہوتے ہیں تو اسی پانی سے چاول ابالتے ہیں۔ اس کے دو، تین نوالے کھاتے ہیں، جب ابکائی آنا شروع ہو جائے تو پھر چھوڑ دیتے ہیں۔'

دلدار احمد کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کے ساتھی سب بیمار ہیں اور انھیں بات کرنے میں بھی دشواری ہو رہی ہے۔

'ہمیں فون آتے ہیں، ہم سے لمبی لمبی تفصیلات مانگی جاتی ہیں، ہمارے گلے خشک ہو جاتے ہیں بات کر، کر کے مگر ہم تک کوئی بھی امداد نہیں پہنچ رہی ہے۔'

دلدار احمد کے مطابق ان کا بیرونی دنیا سے رابطہ صرف ان کے سٹیلائٹ فون کے ذریعے ممکن ہے اور ہر وقت یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ یہ فون بھی کہیں جواب نہ دے جائے۔

'گھر والے جب فون کرتے ہیں تو ان کو ہم تسلی دیتے ہیں، مگر ہم انھیں یہ نہیں بتا سکتے کہ اگر ہمیں مدد نہ ملی تو ہم مر جائیں گے۔ اور اس فون پر تو کال کرنا بھی اتنا مہنگا ہے۔'

دلدار احمد نے مزید کہا کہ حکام ان سے رابطہ تو کرتے ہیں لیکن منتیں کرنے کے باوجود بچانے کے لیے عملی طور پر کچھ نہیں ہو رہا ہے۔ 'ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے ساتھ مذاق ہو رہا ہے۔ ہماری موت کا تماشا دیکھا جارہا ہے۔'

دلدار احمد کے بیٹے اسد الرحمن سے جب رابطہ کیا گیا تو ان کہنا تھا کہ وہ اپنے والد کی مدد کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور ہر دروازہ کھٹکا رہے ہیں۔

'ہمیں کہا جا رہا ہے کہ جلد مدد مل جائے گئی۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ ان تک جلد از جلد امداد پہنچا کر چھ انسانوں کے علاوہ چھ خاندانوں کو تباہ ہونے سے بچا لیا جائے گا۔'

دوسری جانب انصار برنی ٹرسٹ کے سربراہ انصار برنی کے مطابق جہاز کے عملے کو انسانی ہمدری کی بنیاد پر فی الفور بین الاقوامی مدد کی ضرورت ہے جس کے لیے انھوں نے حکومت پاکستان اور دیگر ممالک سے گزارش کر رکھی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے امید کا اظہار کیا کہ جہاز کے عملے کو جلد مدد فراہم کر دی جائے گئی۔

بحری جہاز 'مہر' کے بارے میں کیا تفصیلات موجود ہیں؟

تنزانیہ کے جھنڈے سے مزین جہاز 'مہر' کو 1987 میں چین کے گوانگ ڈونگ جیانگمن شپ یارڈ میں تعمیر کیا گیا تھا۔

البتہ 2011 تک اس جہاز کا نام گوانگ ڈاؤ گونگ 402 تھا اور اس پر پاناما کا جھنڈا لگا ہوا تھا۔

تقریباً 350 ٹن وزنی اور 40 میٹر لمبے اس جہاز کو سامان کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

جہاز رانی سے متعلق مختلف ویب سائٹس پر دی گئی معلومات کے مطابق جہاز کا شناختی نمبر 8843226 ہے اور اس کا 'کال سائن' 5MI244 ہے۔

انھی ویب سائٹس پر جہازوں کی پل پل کی نقل و حرکت کی بھی معلومات رکھی جاتی ہے جس کے مطابق 'مہر' بہت ہی ہلکی رفتار سے چل رہا ہے اور اس وقت جہاز سعودی عرب اور مصر کے درمیان بحیرہ احمر میں طول البلد 37.76626° اور عرض البلد 21.59348° پر موجود ہے۔