براڈ شیٹ سکینڈل: تحقیقاتی کمیشن پر سوال و جواب

وطنِ عزیز میں ’’جمہوری‘‘ اصولوں اور قدروں کا واقعتا احترام ہوتا تو سینٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی صاحب کو اسی دن اپنے عہدے سے مستعفی ہوجانے کا اعلان کردینا چاہیے تھا جب ان کے خلاف آج سے کئی ماہ قبل تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی تھی۔ 104اراکین پر مشتمل ایوانِ بالا میں موجود اپوزیشن کے ساٹھ سے زیادہ اراکین نے اس تحریک پر دستخط ثبت کئے۔ بعدازاں مذکورہ تحریک ایوان میں باقاعدہ پیش ہوئی تو یہی تعداد اس کی تائید میں کھڑی ہوئی۔اس کے باوجود ’’آئین اور قواعد‘‘ کے طے کردہ طریقہ کار کے مطابق خفیہ رائے شماری کا اہتمام لازمی تھا۔ اس مرحلے سے گزرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے 15سے زیادہ اراکین کے ’’ضمیر‘‘ جاگ اُٹھے۔ صادق سنجرانی اپنے عہدے پر برقرار رہے۔ ’’ٹھوس اعداد‘‘ پر مبنی حقیقت ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ پائی۔ یہ تعداد اپوزیشن جماعتوں کے دل کو بہلانے نہیں بلکہ رسوا کرنے کا سبب ہوئی۔ ’’باضمیر‘‘ اراکین مگر ابھی تک ہمارے سامنے نہیں آئے ہیں۔وہ ’’نامعلوم‘‘ ہی رہے۔

لطیفہ اب یہ ہوا ہے کہ چیئرمین صادق سنجرانی نے پاکستان کے سپریم کورٹ کو نہایت فکر مندی سے یہ رائے پیش کی ہے کہ سینٹ کی خالی ہونے والی 48نشستوں پر اس برس کے مارچ میں جو انتخاب ہونا ہیں ان کے دوران ووٹ کا استعمال’’خفیہ‘‘ نہیں بلکہ کھلے انداز میں ہو۔یوں ہوگیا توووٹوں کی خریدوفروخت ممکن نہیں رہے گی۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں موجود ا راکین ان ہی افراد کی حمایت میں ووٹ دیں گے جنہیں ان کی جماعتوں کی قیادت نے نامزد کیا ہے۔ ’’خفیہ ‘‘ رائے شماری کے کرم سے اپنے عہدے پر براجمان سنجرانی صاحب کی جانب سے سپریم کورٹ کے روبرو پیش کردہ تحریری رائے ہمیں چونکادینے کا باعث ہونا چاہیے تھی۔ ہمارے سیاست دانوں کی ’’صداقت وامانت‘‘ پر کڑی نگاہ رکھنے والے ’’حق گو‘‘ صحافیوں نے مگر اسے نظرانداز کردیا۔

ہم تو یہ حقیقت بھی بھلائے ہوئے ہیں کہ پارلیمان کا بنیادی فریضہ قانون سازی ہے۔سینٹ اراکین کا خفیہ رائے شماری کے ذریعے انتخاب کا طریقہ کار ہمارے آئین میں صراحتاََ درج ہے۔اگر پیسے کے بل بوتے پر ’’چور اور لٹیرے‘‘اس طریقہ کار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پارلیمان میں درآتے ہیں تو اپنے ’’اجتماعی وقار‘‘ کے تحفظ کی خاطر وہاں موجود اراکین کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہوکر اس طریقہ کار کو متفقہ انداز میں تیار ہوئی کسی ترمیم کے ذریعے بدل دینا چاہیے تھا۔ عمران حکومت نے مگر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کو ترجیح دی۔

قومی اسمبلی کے سپیکر اور سینٹ کے چیئرمین اپنے ایوانوں کے محافظ (Custodian)شمار ہوتے ہیں۔ اس تصور کی لاج رکھتے ہوئے ان دونوں کو ’’اصولاََ‘‘ سپریم کورٹ کومؤدبانہ زبان میں آگاہ کرنا چاہیے تھا کہ قانون سازی پارلیمان کا حق واختیار ہے۔سپریم کورٹ کو اس ضمن میں زحمت دینے کی ضرورت نہیں تھی۔ان دونوں نے مگر ’’بنیادی ’’حقائق‘‘ پر توجہ دلانے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی۔ قومی اسمبلی کے سپیکر جناب اسد قیصر صاحب نے اس معاملے میں اپنی جماعت کی فدویانہ انداز میں ہاں میں ہاں ملائی تو اسے کسی حد تک سمجھتے ہوئے نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔وہ تحریک انصاف کے بہت پرانے کارکنوں میں شامل ہیں۔ قومی اسمبلی میں اس جماعت کو اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔سنجرانی صاحب مگر جس ایوان کے سربراہ ہیں وہاں تحریک انصاف کو اکثریت میسر نہیں۔سیاسی اعتبار سے ان کا ذاتی تعلق بلوچستان سے حال ہی میں اُبھری ایک نوزائیدہ جماعت سے ہے۔بلوچستان عوامی پارٹی کے نام سے اس ابھری اس جماعت کا مخفف ’’باپ‘‘ ہے۔یہ نام ہمیں سمجھانے کو کافی ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی طورپر نظر آنے والے ڈھانچوں کی تشکیل کا حتمی اختیار کس کے پاس ہے۔ہم مگر بحیثیت قوم ’’ڈھیٹ ہڈی‘‘ہیں۔ ’’سب چلتا ہے‘‘کی حقیقت کو ہنستے مسکراتے تسلیم کرلیتے ہیں۔’’علاج غم نہیں کرتے۔فقط تقریر کرتے ہیں‘‘۔

ہماری ’’ڈھیٹ ہڈی‘‘براڈشیٹ سکینڈل کے منکشف ہونے کے بعد مزید گج وج کر سامنے آرہی ہے۔ ناک کو سیدھا پکڑیں یا ہاتھ گھماکر۔ واضح حقیقت فقط اتنی ہے کہ ’’آف شور سہولتوں‘‘ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چند ذہین نوسربازوں نے ایک کمپنی راتوں رات رجسٹرکروائی۔ اسے جنرل مشرف کے بنائے قومی احتساب بیورو(NAB)کے روبرو بہت ذہانت سے مارکیٹ کیا گیا۔ جھانسہ یہ دیا گیا کہ یہ شریف خاندان اور آصف علی زرداری جیسے لوگوں کی جانب سے ’’قوم کی لوٹی ہوئی دولت‘‘ سے بنائی غیر ملکی جائیدادوں اور بینکوں میں رکھی رقوم کا سراغ لگائے گی۔ جو خواب دکھائے گئے تھے ان پر ایک دھیلے کی بھی پیش رفت نہیں ہوئی۔ احتساب بیورو کی بالآخر آنکھ کھلی تو نوسرباز کمپنی سے ہوا معاہدہ منسوخ کردیا گیا۔ اس معاہدے کے تحریری مسودے میں تاہم ’’منسوخی‘‘ کی گنجائش ہی موجود نہیں تھی۔ہر اعتبار سے ناقص بنیادوں پر طے ہوئے معاہدے کو لہراتے ہوئے نوسرباز کمپنی نے برطانوی عدالت سے ’’انصاف‘‘ طلب کرلیا۔طویل عدالتی عمل کے بعد اسے ’’تاوان‘‘ کی صورت 25ملین ڈالر کی خطیر رقم مل گئی۔اس مقدمے کی پیروی والے اخراجات کو نگاہ میں رکھیں تو ’’قوم کی لوٹی ہوئی دولت‘‘ میں سے ایک دھیلہ وصول کئے بغیر میرے اور آپ کے دئیے ٹیکسوں سے تقریباََ 65ملین ڈالر ضائع ہوگئے۔’’قومی خزانے‘‘ کا یہ بہت ہی بڑا نقصان ہے۔ اذیت دہ حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ نقصان اس ادارے یعنی نیب کی ’’پھرتیوں‘‘ کی بدولت برداشت کرنا پڑا ہے جس کے قیام کا بنیادی مقصد ہی ’’قومی خزانے کو نقصان‘‘پہنچانے والوں کو گرفتار کرکے عبرت کا نشان بنانا تھا۔ آج بھی اس ا دارے کے عقوبت خانے اور جیلوں میں ایسے کئی لوگ مذکورہ الزام کے تحت ذلت ورسوائی سے دوچار ہیں۔مختصراََ ایک موذی مرض کا حتمی معالج بالآخر عطائی ‘‘ کشتہ فروش‘‘ ثابت ہوا۔ ’’کشتہ فروش‘‘ ادارے کے قیام کے ابتدائی دنوں میں اس کے ڈپٹی پراسیکیوٹر تعینات ہوئے عظمت سعید شیخ صاحب کو تاہم اس کمیشن کا سربراہ مقرر کردیا گیا ہے جو براڈشیٹ سکینڈل سے جڑے حقائق کا سراغ لگائے گا۔ پانامہ کے دنوں میں شیخ صاحب نے سپریم کورٹ کے جج کے طورپر جو کردار ادا کیا اس کی وجہ سے مسلم لیگ (نون) ان کی تعیناتی کی بابت دہائی مچارہی ہے۔مان لیتے ہیں کہ ان کی دہائی بنیادی طورپر ’’سیاسی‘‘ ہے۔ 

اس کے باوجود حیرانی اس وقت ہوتی ہے جب راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر سینہ پھلاکر بڑھک لگاتے ہیں کہ براڈشیٹ سکینڈل کی تفتیش کرتے ہوئے عظمت سعید شیخ صاحب نواز شریف اور مریم نواز صاحبہ کی جانب سے چھپائی ’’مزید‘‘ دولت اور جائیدادوں کا سراغ لگائیں گے۔سادہ سوال اگرچہ محض یہ ہونا چاہیے کہ براڈ شیٹ کے ’’بانی‘‘ کون تھے۔ انہوں نے 2000میں نیب کے کرتا دھرتا افراد سے رابطے کیسے استوار کئے۔وہ کون ’’نابغہ‘‘ تھا جس نے ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے جو ہر اعتبار سے ’’ناقص‘‘ تھا۔ ’’علاج غم ‘‘نہیں’’ فقط تقریر‘‘ سے ہمارے دلوں میں نواز شریف کے خلاف نفرت کو بھڑکانا ہی مقصود ہے۔ براڈ شیٹ جیسی نوسرباز کمپنی دریں اثناء ہمارے خزانے سے اینٹھی بھاری بھرکم رقم سے لطف اندوز ہوتی رہے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *