براہموس میزائل کامیاں چنوں گرنا

رواں برس بہارکی یہ ایک خوشگوارشام تھی۔پاکستان کی سب سے اہم اورمصروف شاہراہ جی ٹی روڈکے کنارے میاں چنوں میں آسمان سے کوئی جلتی ہوئی چیزدھماکے کے ساتھ آگری۔مقامی لوگوں نے سمجھاکہ شایدفضائیہ کا کوئی تربیتی طیارہ حادثے کاشکارہوگیاہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے یہ انکشاف کیاکہ یہ بھارتی میزائل تھا۔میں تواسے خوش قسمتی کہوں گاکہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ورنہ پہلاامکان تویہ تھاکہ فضامیں محوپروازکسی مسافرطیارے کویہ میزائل لگ سکتاتھا۔چونکہ اس نے سوکلومیٹرہندوستان کی فضائی حدودمیں طے کرنے کے بعدپاکستانی فضائی حدودمیں 124کلومیٹرکافاصلہ تیس سے چالیس ہزارمیٹرکی بلندی پرطے کیاتھا۔دوسراجس جگہ یہ ہائپرسونک کروزمیزائل گرا،وہاں اس وقت لوگوں کی بھیڑنہیں تھی۔اس حادثے کی خبرہندوستانی میڈیاکوپاکستان کی طرف سے ملی اوراس کے تیسرے دن ہندوستان نے تسلیم کیا کہ غلطی سے اس نے میزائل فائرکردیاتھا۔انڈیاکے وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے اس موقع پر کہاکہ اس کا ملک اپنے ہتھیاروں کے نظام کاازسرِنوجائزہ لے گااوراس کے ساتھ ہی اس واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کابھی اعلان کردیا۔
گزشتہ روزہندوستانی فوج کے ترجمان نے یہ بیان دیاہے کہ پاکستانی حدودمیں غلطی سے میزائل فائرکرنے کی پاداش میں بھارتی فضائیہ کے تین افسران کوبرطرف کردیاگیاہے۔نیزتحقیقاتی کمیشن کی کاروائی مکمل ہونے کے بعد23اگست سے یہ فوجی افسران مبینہ طورپرنکالے گئے ہیں۔برطرف ہونے والے بھارتی فضائیہ کے افسران کے نام توصیغہئ رازمیں رکھے گئے ہیں مگران کے عہدے یوں بیان کئے گئے ہیں،ایک اسکوارڈن لیڈر،ایک ونگ کمانڈراورایک گروپ کیپٹن اس میں شامل ہیں۔بھارتی فضائی میں نشرہونے والی رپورٹ کے مطابق مذکورہ میزائل مشرقی پنجاب کے شہرانبالہ کے ائیرپورٹ سے بھیجاگیاتھا۔کورٹ آف انکوائری کے مطابق تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مبینہ طورپربرطرف افسران نے قوائدوضوابط سے انحراف کیاتھاجس کے نتیجے میں 9مارچ کویہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔یہاں یہ تذکرہ بے محل نہ ہوگاکہ میں نے اس مقام کابذات خوددورہ کیاہے جہاں یہ براہموس میزائل گراتھا۔گرچہ دفاعی اداروں نے ابھی تک اس مقام کے گرد باڑلگارکھی ہے مگرشکستہ دیواریں اب بھی ساراواقعہ بیان کررہی ہیں۔یہ جگہ برلب سڑک ہے،بخشومکھن ہوٹل کے بالکل پاس اورمیرے گھرسے چندمنٹ کی دوری پرواقع ہے۔میاں چنوں کے لوگوں کومذکورہ شب زورداردھماکے کی آوازابھی تک یادہے اوربہت سارے سوالات ابھی تک ہمارے ذہنوں میں کلبلارہے ہیں۔
اس جانب پاکستان کی وزارت خارجہ نے ان تحقیقات اوران کے نتیجے میں بھارتی اقدامات کویکسرمستردکردیاہے۔اگرچہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہواچونکہ کروزمیزائل پروارہیڈجسے آپ بارودکہہ سکتے ہیں،نصب نہیں کیاگیاتھا،اوراگرتھابھی تووہ فعال نہیں تھا۔ہماری خارجہ امورکی وزارت کی طرف سے جاری کئے گئے بیان میں کہاگیاہے کہ انہیں پہلے بھی یہی توقع تھی،گویاکسی خوش فہمی کاشکارنہیں تھے۔ہندوستان کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات اورکورٹ آف انکوائری کے نتائج اوراس کی طرف سے دی گئی سزائیں مکمل طورپرغیرتسلی بخش،ناقص اورناکافی ہیں۔یہ شکوہ بھی کیاگیاہے کہ دونوں ملکوں کے مشترکہ تحقیقاتی کمیشن کے قیام سے متعلق پاکستانی مطالبے کونظراندازکیاگیاہے،اس موقع پردوبارہ پاکستان نے اپنے مطالبے کودہرایاہے۔مزیدبرآں ہندوستان نے اس معاملے کو بظاہرسردخانے میں ڈال دیاہے۔اس بابت راج ناتھ سنگھ کے بیانات محض لفاظی اورزبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ بھی قرارنہیں دیے جاسکتے۔
یادرہے کہ براہموس اس وقت دنیاکارفتارکے اعتبارسے تیزترین کروزمیزائل ہے۔اس سپرسانک میزائل کوروس اوربھارت نے مشترکہ طورپرتیارکیاہے اوراس کانام ہندوستانی دریابرہماپترااورروسی دریاموسکواکامخفف ہے۔گرچہ اس کی بنیادروس کابحری جہازشکن نظام P800اونکس ہے مگرمیڈیم رینج کے سٹیلتھ میزائل کوآبدوزاوربحری جہازکے علاوہ لڑاکاطیارے اورزمین سے بھی فائرکیاجاسکتاہے۔اٹھائیس فٹ لمبا،دوفٹ چوڑا،دوسوسے تین سوکلوگرام بارودلے جانے کی صلاحیت کا حامل ہوتاہے، صرف ایک میزائل کی قیمت 5ملین امریکی ڈالریاایک ارب روپے سے کہیں زیادہ ہے۔اسی تناظرمیں یہ سوال ذہن میں اٹھتاہے کہ یہ حادثہ واقعی SOPسے انحراف کانتیجہ تھایاپھرسوچی سمجھی سازش کے تحت ہمیں پیغام دیاگیاہے؟اس واقعے سے مجھے اپنے کالج کے دنوں کاایک وقوعہ بارباریادآتاہے۔جب طالب علموں سے بھرے ہمارے لاہورمیں واقعے گورنمنٹ ہوسٹل کے ایک کمرے میں،طلباء تنظیم اسلامی جمعیت طلباء کے کالج ناظم کی شلوارکے نیفے سے اڑساہوا غلطی سے پستول پھسل کرفرش پرگرپڑاتھا۔ناظم صاحب کے نیفے سے پستول پھسل کرگرنااورمیاں چنوں میں ہندوستانی میزائل کاگرنامجھے اتفاقیہ اوربے سبب نہیں لگتے ہیں۔میری توہم پرستی یاسوئے ظن کہہ لیجئے کہ مجھے ان میں ایک پیغام دکھائی دیتا ہے۔ہندوستان کی جانب سے قائم کردہ کورٹ آف انکوائری اوراس کی رپورٹ فقط آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ہے۔ہٹ دھرم مودی سرکارنے توپہلے میزائل گرنے کے واقعے کاہی انکارکردیاتھا،بعدازاں بوجوہ اقرارکرناپڑا۔عالمی برادری کے سامنے سوال یہ ہے کہ ہندوستان جیسے غیرذمہ دارملک کے پاس وسیع پیمانے پرتباہی پھیلانے والے ایسے ہتھیارہوناچاہیئیں؟بھارتی ہاتھوں میں ایسے خطرناک ہتھیارصرف ہمارے شہروں کے لئے ہی خطرہ نہیں ہیں بلکہ عالمی امن کے لئے بھی خطرے کی گھنٹی ہیں۔
بے حدافسوس اوردکھی دل کے ساتھ یہ کہناپڑتا ہے کہ عمران خان حکومت نے عالمی سطح پر اس مسئلے کواس طرح اجاگرنہیں کیاجتنی زیادہ اہمیت کاحامل یہ معاملہ تھا۔اقوام متحدہ اوردیگردستیاب عالمی امن کے لئے قائم کردہ کسی فورم کواستعمال کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔یہ ثابت کرنے میں ذرابھی سنجیدگی نہیں دکھائی کہ بھارت ایک غیر ذمہ داراورناقابل بھروسہ ملک ہے جس کے پاس وسیع پیمانے پرتباہی پھیلانے والے ہتھیارغیرمحفوظ اورعالمی امن کے لئے ایک مستقل خطرہ ہیں۔ذاتی تشہیرکے لئے جس طرح قومی اوربین الاقوامی میڈیاکواستعمال کیاجاتاہے،دھرتی سے جڑے اس قومی مسئلے کی اس طرح تشہیرنہیں کی گئی۔اگر یہ سوچی سمجھی غلطی نہیں تھی توتب بھی اس واقعے کوگزشتہ حکومت کی کمزوری کے طورپرضروریادرکھاجائے گا۔قومی تاریخ میں اس سانحے پرہمارے ردعمل کو اچھے لفظوں میں تحریرنہیں کیاجائے گا۔