برسوں سے مفرور اطالوی مافیا کا رکن یوٹیوب پر ویڈیو شیئر کرنے کے شوق میں پکڑا گیا؟

اٹلی میں سات سال سے پولیس سے مفرور مافیا کے ایک رکن کو پولیس اس وقت پکڑنے میں کامیاب ہوگئی جب ملزم نے یوٹیوب پر کھانا پکانے کی ویڈئوز شیئر کیں۔

53 سالہ مارک فیرن بیرات نے ویڈیوز میں اپنے چہرے کو بڑی احتیاط سے چھپائے رکھا مگر وہ اپنے جسم پر بنے ٹیٹوز کو چھپا نہیں سکا اور ان کی مدد سے پولیس نے ان کی نشادہی کر لی۔

مبینہ طور پر درنگھیتا گینگ کے اس رکن کو پولیس نے گذشتہ بدھ کو ڈومنیکین ریپبلک سے گرفتار کیا اور اب اسے دوبارہ اٹلی واپس لایا جا رہا ہے۔ پولیس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملزم 'بوکا چیکا ' شہر میں خاموش زندگی گزار رہا تھا۔

ملزم سنہ 2014 سے اطالوی مافیا کے لیے ہالینڈ میں کوکین بھیجنے کے جرم میں پولیس کو مطلوب تھا۔

درنگھیتا دنیا کے سب سے طاقتور منظم جرائم گروہوں میں سے ایک ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ گروپ یورپ بھیجی جانے والی کوکین کے بڑے حصے کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اٹلی کا جنوبی خطہ کالابریہ اس تنظیم کا گڑھ ہے۔

اس گروہ کا مبینہ سربراہ لیوجی مانکوسو ہے جو 'دی انکل‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ گروپ کے دوسرے ممبر بھی اپنے عرف سے پی پہچانے جاتے ہیں جیسا کہ 'دو وولف‘، ‘فیٹی‘ اور ‘بلونڈی۔‘

اس وقت یہ تمام اراکینِ مافیا عدالت میں ایک تاریخی مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں جو کہ درنگھیتا گینگ کے خلاف ایک تفصیلی تفتیش کے بعد ممکن ہو سکا ہے۔ یہ کئی دہائیوں بعد اٹلی میں مافیا کے اراکین کے خلاف سب سے بڑی کارروائی ہے۔

اس گروپ کے خلاف تحقیقات کے بعد 355 ’غنڈوں‘ اور سرکاری اہلکاروں پر بھی فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مقدمہ شروع ہونے سے قبل ہونے والی سماعت کے دوران اس مقدمے میں جتنے ملزمان ہیں، ان کا نام پڑھتے ہوئے اور الزامات کی تفصیل بتاتے ہوئے تین گھنٹے گزر گئے تھے۔ ان کے خلاف قتل، منشیات فروشی، بھتہ خوری اور منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اس مقدمہ میں 900 گواہان کی طرف سے شہادت ریکارڈ کرائے جانے کا امکان ہے۔ یہ ٹرائل جنوری میں شروع ہوا جو دو سال تک جاری رہے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *