برطانوی عدالت کے فیصلے سے حکومت کو 3 روز سے آگ لگی ہوئی ہے، شہباز شریف

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کی رپورٹ پر مجسٹریٹ کی عدالت کا جو فیصلہ آیا اس سے حکومت کو 3 روز سے آگ لگی ہوئی ہے اور قوم کو دھوکا دینے کے لیے کیا کیا جھوٹ بولے گئے ہیں۔

لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان اور ان کے حواری ساڑھے 3 برسوں سے جو الزامات لگائے جارہے ہیں مجھے بتائیں کہ ان میں سے کون سا الزام درست ثابت ہوا۔

انہوں نے کہا کہ نیب نیازی گٹھ جوڑ کے نتیجے میں ملتان میٹرو کی مکمل چھان بین کی گئی لیکن یہ پہلا منصوبہ تھا جس کی تحقیقات موجودہ چیئرمین نیب سے کروائی اور مٹی جھاڑ کر وہاں نکلے، ایک دھیلے کی کرپشن نہیں ثابت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ چین جیسے ملک پر اتنا بھونڈا الزام لگایا گیا جو ہمیشہ برے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیتا آیا ہے۔

شہباز شریف نے کہا الزام لگایا گیا کہ 2005 کے زلزلے کے بعد آنے والے فنڈز میں خورد برد کی گئی حالانکہ اس وقت میں جلا وطنی میں تھا اور میرا کوئی تعلق نہیں تھا۔

ان کے مطابق پھر کہا گیا کہ 10 سال کی وزارت عظمیٰ کے دوران میں نے اور میرے بچوں نے لاکھوں پاؤنڈز کا فائدہ اٹھایا لیکن برطانیہ کی حکومت نے ایک بیان میں واضح کیا کہ پاکستان خصوصاً پنجاب کو ملنے والی لاکھوں ڈالر کی امداد شفاف طریقے سے خرچ ہوئی جس میں کسی خرد برد کا شائبہ نہیں۔

صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) پر نیب، ایف آئی اے کی جانب سے بے پناہ الزامات لگے لیکن آج تک میرے یا نواز شریف کے خلاف ایک دھیلے کی کرپشن کا ناقابل تردید ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جولائی 2019 میں ڈیلی میل کے صحافی کو پاکستان بلا کر عمران نیازی سے ملواگیا، نیب کے قیدیوں سے ملاوات کروائی گئی اور اسٹوری چھپوائی گئی، اس کا کیا حشر ہوا وہ آپ نے دیکھ لیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ جب ان کا وہ پلان ناکام ہوگیا تو یہ لوگ بڑے دھوم دھام سے میرے اور میرے بچوں کے خلاف نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) میں گئے، ان سوا 3 برسوں کے دوران شریف خاندان اور ہماری پارٹی کے اراکین نے جیلیں کاٹیں لیکن ان کے خلاف کیا نکلا۔

انہوں نے کہا کہ این سی اے کی رپورٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں جمع کروانے کے بعد جو فیصلہ آیا اس سے انہیں 3 روز سے آگ لگی ہوئی ہے اور قوم کو دھوکا دینے کے لیے سب نے صریحاً جھوٹ بولا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ این سی اے کی جانب سے ہمارے خلاف لندن میں تحقیقات کی رپورٹ میں واضح طور پر میرے اور سلیمان شہباز کا ذکر ہے۔

انہوں نے رپورٹ پڑھ کر سنائی کہ این سی اے کو 11 دسمبر 2019 کو اثاثہ ریکوری یونٹ(اے آر یو) سے خط ملا جس میں تصدیق کی گئی کہ شہباز شریف کو نیب کی کارروائی کا سامنا ہے اور خط میں اختیارات کے جائز استعمال اور اس سے منسلک منی لانڈرنگ کا ذکر ہے جبکہ اے آر یو نے کہا کہ خط صرف اختیارات کے ناجائز استعمال پر لکھا گیا۔

انہوں نے پڑھ کر سنایا کہ 9 دسمبر 2019 کو نیب لاہور کے ڈائریکٹر شہزاد سلیم نے این سی اے کے آپریشن مینیجر سے ملاقات کی جو لندن دیگر کاموں کے لیے پہنچے تھے۔

انہوں نے مزید پڑھا کہ شہزاد سلیم نے شہباز شریف سے متعلق اور ان کے خاندان کے خلاف چلنے والی تحقیقات کے پس منظر سے آگاہ کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے ملک میں بدعنوانی، رشوت اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا سلسلہ سیاست کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔

شہباز شریف نے ایک اور پیرا پڑھ کر سنایا جس میں لکھا تھا کہ شہزاد سلیم نے کہا کہ نیب کے تفتیشی افسر بعد میں کی جانے والی کسی بھی تحقیقات میں معاونت کرنے میں خوشی محسوس کریں گے، بقول ان کے اس جملے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت تک این سی اے کا تفتیش کا کوئی دور دور تک خیال نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومتی زعما عوام کو گمراہ کررہے تھے کہ ہم نے این سی اے کو کچھ نہیں کہا بلکہ این سی اے نے ہم سے رابطہ کیا، حالانکہ جو حقائق میں نے آپ کے سامنے رکھے وہ اس کی نفی کرتے ہیں۔

صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ انہوں نے جو پلندہ برطانیہ بھجوایا اور ڈیلی میل کی اسٹوری میں ذرا برابر بھی سچائی ہوتی تو این سی اے کو 2 برسوں میں ایک پاؤنڈ یا ایک پینی تو نکال لینی چاہیے تھی ان کے پاس تو بڑے اختیارات ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ تحقیقات ختم کردی ہیں، اگر یہ فیصلہ ہمارے خلاف آتا تو ہم اسے خلاف درخواست کرتے لیکن این سی اے نے خود عدالت میں جا کر کہا کہ ہم تحقیقات ختم کرنا چاہتے ہیں۔

صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ جھوٹ کا ایک لامتناعی سلسلہ ہے، کہا گیا کہ یہ ایک یا 2 اکاؤنٹس کی بات ہے حالانکہ ابتدا میں 4 اکاؤنٹس منجمد کیے گئے، کہتے تھے کہ ساری شہباز شریف کی کرپشن تھی جس سے بچوں نے فائدہ اٹھایا اور بچے بری ہوگئے میں نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو دن رات کو خواب میں میں نظر آتا ہوں، رات کو وہ ہڑبڑا کر اٹھ پڑتے ہیں، دفتر میں کوئی ملنے جاتا ہے تو میرا ذکر ہوتا ہے، اگر میرا ذکر نہ ہو تو بات مکمل نہیں ہوتی۔

error: