Dunya Pakistan

برطانوی میں پیٹرول اور ڈیزل والی نئی گاڑیوں پر 2030 سے پابندی ہو گی

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں 2030 کے بعد نئی گاڑیاں جو کہ صرف پٹرول یا ڈیزل پر چلتی ہوں، نہیں بکیں گی۔ انھوں نے کہا کہ کچھ ہائی بریڈ کاروں کی فروخت کی اجازت ہو گی۔

یہ منصوبہ برطانوی وزیراعظم کی جانب سے موسمی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لیے ‘گرین انڈسٹریل ریولوشن‘ کا حصہ ہے۔

اس منصوبے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے لیے مختص چار ارب پاؤنڈ بہت تھوڑی رقم ہے۔ دوسری طرف نئی ہائی سپیڈ ریل کے لیے 100 ارب پاؤنڈ مختص کیے گئے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پلان ایک بڑے حکومتی پلان کا حصہ ہے جس میں 12 ارب پاونڈ مختص کیے گئے ہیں تاہم پرائیویٹ سیکٹر سے بہت زیادہ سرمایہ کاری کی امید لگائی گئی ہے۔

اس پلان میں ایک بڑے جوہری پاور پلانٹ سمیت متعدد جدید چھوٹے پیمانے کے جوہری ریئیکٹرز شامل ہیں جن سے توقع کی جا رہی ہے کہ 10000 نئی نوکریاں پیدا ہوں گی۔

حکومت کو توقع ہے کہ کل ڈھائی لاکھ نئی نوکریاں سامنے آئیں گی جن میں سے 60000 سمندر میں ونڈ پاور پلانٹس میں ہوں گی۔

شفاف توانائی کے یہ منصوبے کچھ لوگوں کے گھروں کو بھی متاثر کریں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ 2023 تک ایسے نئے گھروں پر بھی ممانت ہو گی جو کہ گیس کے ذریعے مکان کو گرم رکھتے ہیں۔

حکومت کا ہدف ہے کہ 2028 تک 600000 نئے ہیٹ پمپ لگائے جائیں جو کہ کم توانائی سے گھروں کو گرم رکھنے کے آلات ہیں۔

حکومت نے گھروں کی انسولیشن کے لیے گرین ہاؤسز گرانٹ میں بھی ایک سال کی توسیع کر دی ہے کیونکہ پہلے مرحلے میں بہت زیادہ لوگوں نے اس میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔

قدرتی گیس کی رسد میں صاف ہائیڈروجن گیس کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ اس کے جلنے سے جو اخراج پیدا ہوتا ہے وہ صاف تر ہو۔ اس کے لیے علاوہ حکومت مکمل ہائیڈروجن گیس پر گھروں کو گرم رکھنے کے منصوبے بھی زیرِ غور لانا چاہتی ہے۔

ہائیڈروجن گیس کے لیے 500 ملین پاؤنڈ کی سبسڈی کا اعلان کیا جا چکا ہے اور اسے ونڈ انرجی کے ذریعے تیار کیا جائے گا۔

حکومت کی کوشش ہے کہ جن علاقوں میں صنعتیں بند ہو گئی ہیں وہاں ونڈ انرجی اور ہائیڈروجن کی پیداوار کا کام کیا جائے۔ اس کے علاوہ چار کمپنیاں کاربن کیپچر اور سٹوریج پر بھی کام کر رہی ہیں۔ کاربن کیپچر اور سٹوریج میں گھروں کی چمنیوں سے گیس کے اخراج کو جمع کر کے زیرِ زمین دبایا جاتا ہے۔

حکومتی پلان کا ایک اور اہم جز 1.3 بلین پاؤنڈ کی الیکٹریک کاروں کے چارجنگ پوائنٹ بنانے میں سرمایہ کاری ہے۔ حکومت نے لوگوں میں الیکٹریک کاروں کی فروخت کو مقبول بنانے کے لیے 582 ملین پاؤنڈ کی گرانٹس بھی رکھی ہیں۔

اس کے علاوہ ملک میں بیٹریوں کی تعمیر کے لیے حکومتی پلان میں 500 ملین پاؤنڈ بھی مختص کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ برطانیہ وہ دوسرا ملک ہے جس نے 2025 تک صرف تیل سے چلنے والی گاڑیوں کو ختم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس سے پہلے یہ اقدام ناروے کر چکا ہے۔

برطانیہ میں کاریں بنانے والی کمپنیوں نے حکومت کو اس حوالے سے چیلنجز کے بارے میں باور کروایا ہے تاہم حکومت کا ماننا ہے کہ وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چار ارب ڈالر اگر گھروں کی انسولیشن کے لیے استعمال کیے گئے تو یہ کافی ہوں گے مگر اگر انھیں کاربن کیپچر میں زیادہ استعمال کیا گیا تو شاید یہ ناکاقی رقم ہو۔

برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ان کا دس نکاتی پلان نہ صرف لاکھوں نوکریاں پیدا کرے گا بلکہ 2050 تک مکمل طور پر نیٹ زیرو تک پہنچنے میں کافی مدد بھی کرے گا۔

یاد رہے کہ آئندہ سال وزیراعظم گلاسکو میں ایک اعلیٰ سطحی عالمی کانفرنس کی میزبانی بھی کر رہے ہیں۔ سی او پی 26 نامی اقوام متحدہ کی اس کانفرنس کو کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے ایک سال کی تاخیر ہو چکی ہے۔ اس کانفرنس کو 2015 میں پیرس معاہدے کے بعد اہم ترین کانفرنس مانا جا رہا ہے۔

برطانوی وزیراعظم کا دس نکاتی پلان

Exit mobile version