برطانیہ میں بحث: سیکس کے بارے میں زویلا کی ویڈیوز سکولوں کے لیے مناسب نہیں

خود لذتی کے بارے میں بات کرنے کی درست عمر کیا ہے؟

اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ یہ سوال کس سے کر رہے ہیں اور اس ہفتے اس سوال نے ایک طرح کا تنازع پیدا کر دیا جس میں یوٹیوب کی مشہور شخصیت زویلا بھی شامل تھیں۔

برطانیہ میں سکول کے میڈیا سٹیڈیز کے کورس میں امتحانات کے بورڈ نے فیصلہ کیا کہ انٹرنیٹ پر موجود زویلا کے مواد کو بچوں کو نہیں دکھایا جائے گا۔ امتحانات کے بورڈ نے زویلا کی ویب سائٹ پر موجود مواد کا حوالہ دیا جو بالغوں کے لیے ہے اور جس میں سال کے بہترین سیکس ٹوائز یعنی جنسی لذت حاصل کرنے والی اشیاء کی فہرست بھی شامل ہے۔

امتحانات کے بورڈ اے کیو اے نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر اس سے متعلق گفتگو سے بورڈ کے فیصلے کے سیاق و سباق کے بارے میں غلط فہمی پیدا ہوئی ہے۔ بورڈ کے مطابق اس فیصلے کا مقصد یہ تھا کہ جی سی ایس سی میں میڈیا سٹیڈیز کے ابتدائی سال کے نسبتاً کم عمر طالب علموں کے لیے ایسا جنسی مواد ہٹا دیا جائے جو بالغوں کے لیے ہوتا ہے۔

زویلا، جن کا اصلی نام زوئی سگ ہے، کا کہنا ہے کہ ان کی ویب سائٹ 25 سال سے زیادہ کی عمر کے لوگوں کے لیے ہے لیکن انھیں اے کیو اے کی اس سوچ پر تشویش ہے کہ 16 سال کی عمر کے بچے اپنے جسم کے بارے جاننا نہیں چاہتے۔

امتحانات کے بورڈ کا کہنا ہے کہ 'سکولوں میں سیکس کی تعلیم دینا بہت اہم ہے اور ہم اس کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ سکولوں کے میڈیا سٹڈیز کے کورس میں ایسی ویب سائٹس کا مطالعہ کرنا ہمارے خیال میں مناسب نہیں ہے جن کی توجہ کا مرکز بالغوں کا طرز زندگی ہو۔'

جیریمی کلارکسن اور ان کی بیٹی ایمیلی کلارکسن
،تصویر کا کیپشنایمیلی کلارکسن چاہتی ہیں کہ سیکس ایجوکیشن پر کھل کر گفتگو ہو

اس معاملے کی وجہ سے کئی لوگ یہ بات کر رہے ہیں کہ آخر سیکس کے بارے میں ایمانداری سے گفتگو کرنے کی صحیح عمر کیا ہے۔

ٹاپ گیئر نامی مشہور پروگرام کے سابق میزبان جیریمی کلارکسن کی بیٹی ایمیلی کلارکسن کے انسٹاگرام پر ایک لاکھ اکتالیس ہزار فالوور ہیں۔ وہ سوشل میڈیا کے اس پلیٹ فارم پر جسم کے مثبت پہلووں کو اجاگر کرنے کے لیے اکثر بات کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں: 'جب میرا سکول کا زمانہ ختم ہوا تو مجھے یہ معلوم ہو چکا تھا کہ مردوں کو کونڈوم پہننے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کہ ان میں شہوت ہوتی ہے۔ لیکن میں اپنے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی تھی۔'

تاہم اس اختتامِ ہفتہ انھوں نے کہا کہ ان کی انسٹاگرام پر اپنے فالورز کے ساتھ مشت زنی کے بارے میں 'بہت صاف صاف گفتگو' ہوئی ہے۔

بی بی سی کے پروگرام نیوز بیٹ میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا 'میں نے اپنے ماضی کی طرف دیکھا کہ خود مجھے سیکس کے بارے میں کتنی تعلیم دی گئی تھی۔ سیکس کے بارے میں اس وقت کے بیانیے میں خواتین کی جنسی لذت کو کبھی شامل نہیں کیا گیا تھا۔ بائیولوجی میں اور نہ ہی سیکس ایجوکیشن میں خواتین کو ذہن میں رکھا جاتا تھا۔'

انھوں نے مزید کہا کہ انھیں صرف یہ معلوم تھا کہ ایک دن انھیں ماہواری شروع ہوگی اور شاید ان کے بچے بھی ہوں گے۔ بس یہی بنیادی سی معلومات تھیں۔

ایمیلی کلارکسن نے بتایا کہ انھیں یاد ہے کہ وہ جب 12 سال کی تھیں تو انھوں نے پہلی مرتبہ پورن دیکھی۔ 'سب والدین کو معلوم تھا کہ لڑکے پورن دیکھتے ہیں اور سب اپنی آنکھیں اور کان بند کر لیتے تھے۔'

ایمیلی کہتی ہیں 'مسئلہ یہ ہے کہ اگر لڑکیوں کو یہ نہیں سکھایا جائے گا کہ انھیں سیکس میں لذت ملے گی تو پھر جوان ہو کر وہ کس طرح کے سیکس کے لیے راضی ہوں گی۔ کیونکہ جب وہ سیکس کرنے جائیں گی تو انھیں یہ توقع نہیں ہوگی کہ انھیں اس میں لذت بھی ملے گی۔ میرے خیال میں یہ کافی پریشانی کا باعث ہوتا ہے۔'

زویلا نے اپنی ایک انسٹاگرام پوسٹ میں لکھا ہے کہ خواتین کی جنسی لذت کوئی ایسی بات نہیں ہے جس پر شرمندہ ہوا جائے۔

زوی سگ
،تصویر کا کیپشنامتحانات کے بورڈ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کا اقدام کسی بھی طرح زوئی سگ اور ان کے کام کے کے بارے میں کوئی فیصلہ صادر نہیں کرتا

امتحانات کے بورڈ اے کیو اے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 'ہمارا اقدام کسی بھی طرح زوی سگ اور ان کے کام کے بارے میں کوئی فیصلہ صادر نہیں کرتا۔ انھوں نے خود کہا ہے کہ انھیں معلوم نہیں تھا کہ بچے ہمارے کورس میں ان کے کام کا مطالعہ کر رہے ہیں۔'

اے کیو اے کے بیان میں مزید کہا گیا ہے 'یہ ہمارے لیے مناسب نہیں ہے کہ ہم 14 سال تک کے بچوں سے کہیں کہ وہ ایک ایسی ویب سائٹ کا مطالعہ کریں جس میں سیکس سے متعلق ایسا مواد ہو جو بالغوں کے لیے ہے۔ یہی خیال اساتذہ اور والدین کا بھی ہے۔'

20 برس کی گریس کہتی ہیں کہ وہ بچپن سے زویلا کا کام دیکھ رہی تھیں اور اب حال ہی میں انھوں نے زویلا کی ویڈیوز دوبارہ دیکھنا شروع کی ہیں۔

گریس مارٹن
،تصویر کا کیپشنگریس کے مطابق سکول میں سیکس کے بارے میں دی جانے والی تعلیم بہت کم تھی

'میرے خیال میں یہ بہت اچھا ہے کہ وہ ایسے موضوعات پر بات کرنے کے لیے اپنے پلیٹ فارم کو استعمال کر ہی ہیں جن پر عموماً بات نہیں ہوتی۔ لیکن یہ مشکل بھی ہے کیونکہ انھوں نے اپنے ناظرین کے ساتھ ہی عمر کی منازل طے کی ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ وہ ان باتوں کو عام کر رہی ہیں لیکن میں چاہتی ہوں کہ وہ اپنے ماضی میں جائیں اور اپنے تجربات بھی بتائیں۔'

گریس کہتی یں کہ 14 برس کی عمر میں وہ اس سے کہیں زیادہ جانتی تھیں جتنا ان کے والدین سمجھتے تھے۔ لیکن سکول میں سیکس کے بارے میں دی جانے والی تعلیم بہت کم تھی۔

انھوں نے بتایا کہ سیکس کی تعلیم کے لیے لڑکوں اور لڑکیوں کو علحیدہ کر دیا جاتا تھا۔ لڑکوں کو مشت زنی کے بارے میں بتایا جاتا تھا جبکہ لڑکیوں سے صرف ماہواری پر بات کی جاتی تھی۔

'میرے خیال میں اِسی وجہ سے مردوں کے لیے یہ سب کرنا سماجی طور پر قابلِ قبول تھا اور یہی اس مسئلے کی جڑ تھی۔'

گریس کو اس صورتحال سے ان کی عمر کی خواتین پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بھی پریشانی ہے۔

ایمیلیا جینکنسن
،تصویر کا کیپشنحالیہ لاک ڈاؤن سے پہلے ایمیلیا جو سبق پڑھایا کرتی تھیں ان میں بچوں سے چکنی مٹی سے مردوں اور خواتین کے جنسی اعضا بنوائے جاتے تھے۔

'اس کی وجہ سے لوگ پورن حب جیسے مواد کی طرف جاتے ہیں۔ یہ نسل یہی سوچ کر بڑی ہوئی ہے کہ سیکس کو اتنا ہی ہیجان انگیز ہونا چاہیے، جبکہ ایسا نہیں ہے۔'

ایمیلیا جینکنسن جنسیات کی ایجوکیشن کا سکول چلاتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں سات سال کی عمر کے بچے بھی یہ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ وائبریٹر اور ڈِلڈو کیا ہوتا ہے۔ نو عمر طالبِ علم ان سوالوں کے جوابات جاننا چاہتے ہیں۔

ایمیلیا کہتی ہیں 'یہ اہم ہے کہ ہم ان سوالوں سے گریز نے کریں اور اس بارے میں شرمندگی کا احساس پیدا نہ ہونے دیں۔'

حالیہ لاک ڈاؤن سے پہلے ایمیلیا جو سبق پڑھایا کرتی تھیں ان میں بچوں سے چکنی مٹی سے مردوں اور خواتین کے جنسی اعضا بنوائے جاتے تھے۔

وہ کہتی ہیں کہ جب بات خواتین اور لڑکیوں کی ہو تو اسے شرمندگی کا باعث اور ایک ایسا موضوع سمجھا جاتا ہے جس پر بات نہیں کی جاتی۔

'ہم اپنے طالبِ علموں کو بتاتے ہیں کہ کئی جانور خود لذتی کرتے ہیں، اونٹ ریت میں خود لذتی کرتے ہیں۔ لہذا اس میں کوئی ایسی بات نہیں جس پر شرمندہ ہوا جائے۔‘

error: