برطانیہ میں پاک۔بھارت میچ کے بعد سے ہندو مسلم کشیدگی کے دوران برطانوی وزیر کا لیسٹر کا دورہ

ایشیا کپ میں 28 اگست کو پاک ۔ بھارت میچ کے بعد مسلم اور ہندو برادریوں کے درمیان ہونے والی کشیدگی کے دوران برطانوی وزیر داخلہ نے لیسٹر میں پولیس حکام سے ملاقات کی۔

پولیس نے گزشتہ 3 ہفتوں کے دوران 47 افراد کو گرفتار کیا ہے جب کہ دونوں برادریوں کے نوجوانوں کے تقریباً ہر روز سڑکوں پر نکلنے کے باعث عوام میں خوف اور اضطراب پایا جاتا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے مطابق لندن کے میئر صادق خان نے لیسٹر میں ہونے والے واقعات کو 'بدصورت' قرار دیتے ہوئے اتحاد اور یکجہتی کے اظہار کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ برطانوی ہندوؤں اور برطانوی مسلمانوں میں کہیں زیادہ قدریں مشترک ہیں جب کہ دونوں برادریوں کے درمیان اختلافی چیزیں کم ہیں، ہمیں ان انتہا پسند قوتوں سے محتاط رہنا چاہیے جو اپنے مفادات کے لیے ہماری برادریوں کے درمیان کشیدگی کو ہوا دینا چاہتے ہیں۔

پولیس نے کہا کہ وہ آئندہ ہفتوں میں مزید لوگوں کو گرفتار کر کے ان پر مقدمات قائم کرے گی۔

اپنے ایک بیان میں پولیس ترجمان نے کہا کہ میں تصدیق کر سکتا ہوں کہ وزیر داخلہ نے آج لیسٹر کا دورہ کیا اور چیف کانسٹیبل اور دیگر سینئر افسران نے انہیں بریفنگ دی، انہوں نے مظاہرین سے نمٹنے پر پولیس کی تعریف کی۔

آن لائن زیر گردش ویڈیوز سامنے آنے کے بعد کچھ حلقوں کی جانب سے پولیس کو مظاہرین کی حمایت کرنے پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا، ویڈیو میں افسران کو ان کے ساتھ چلتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

چیف کانسٹیبل روب نکسن نے کہا کہ میں واضح کر رہا ہوں کہ پولیس نے مشرقی لیسٹر میں مظاہرے کی حمایت نہیں کی۔

میرے افسران بات کرنے اور تعاون حاصل کرنے کی کوشش کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے، ان کا سامنا 300 سے زیادہ لوگوں سے ہوا جب کہ اس وقت 8 افسران تھے۔

انہوں نے ان حالات کے دوران مزید افسران کے پہنچنے تک مناسب ترین رویہ اختیار کیا، سوشل میڈیا ویڈیوز سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے

راب نکسن نے اس ویڈیو فوٹیج کے بارے میں بھی بات کی جس میں دکھایا گیا تھا کہ مندر کے باہر سے جھنڈا اتارا گیا اور اسے آگ لگا دی گئی، انہوں نے کہا کہ پولیس اس معاملے کو دیکھ رہی ہے۔

گرفتار 3 افراد پر فرد جرم عائد

عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد تشدد میں ملوث ہونے پر 3 افراد پر فرد جرم عائد کی گئی ہے، 20 سالہ آموس نورونہا نے زخمی کرنے والا ہتھیار رکھنے کا جرم قبول کیا اور اسے 10 ماہ کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔

21 سالہ آدم یوسف نے اعتراف کیا کہ اس کے پاس تیز دھار آلہ تھا اور اسے ایک سال قید کی سزا سنائی اور 200 گھنٹے بلامعاوضہ کام کرنے کا حکم دیا گیا۔

31 سالہ لقمان پٹیل نے زخمی کرنے والا ہتھیار رکھنے اور نسلی بنیاد پر ہونے والی کشیدگی کا سبب بننے کے جرم کے ارتکاب سے انکار کیا، اس کے مقدمے کی سماعت 11 نومبر کو متوقع ہے۔

چیف کانسٹیبل نے کہا کہ سوشل میڈیا جعلی خبریں پھیلا رہا ہے۔

انہوں نے ’بی بی سی‘ کو بتایا کہ مجھے شک ہے کہ سوشل میڈیا نے خوف و ہراس پیدا کرنے، تشویش پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ لیسٹر کشیدگی میں ملوث کچھ لوگ برمنگھم اور لوٹن سے آئے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.