برطانیہ کافریِڈم ڈے!

سوموار 19/ جولائی کا انگلینڈ کے لوگوں کو بے صبری سے انتظار تھا۔ کیونکہ اس دن سے کورونا وبا کی وجہ سے لگی لاک ڈاؤن کا خاتمہ ہونا تھا۔ پچھلے سال مارچ سے انگلینڈ میں جو لاک ڈاؤن شروع ہوا تھا اس کے ختم ہونے کے امکان ہی نظر نہیں آرہے تھے۔

تاہم اس سال کے شروعات سے جب حکومت نے لوگوں کو کورونا ویکسن دینا شروع کیا تو اس بات کی امید جتائی گئی کہ 21جون سے لاک ڈاؤن کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔لیکن سائنسدانوں کی رائے اور ڈاکٹروں کے مشورے کے پیش نظر لاک ڈاؤن کی مزید توسیع کر کے اسے سوموار 19/ جولائی کر دیا گیا۔جوں ہی سوموار 19/جولائی کا اعلان ہوا اس کے ساتھ ہی سیاست کا بھی بازار گرم ہوگیا۔ سیاستدان کبھی ’ہاں‘ اور کبھی ’نا‘ میں الجھنے لگے اور لاک ڈاؤن سے متاثر انسان کی مایوس زندگی کو سامنے رکھتے ہوئے قدم اٹھانے سے ہچکچانے لگے۔کبھی لوگوں کی اکتاہٹ تو کبھی کاروباریوں کا رونا۔ کبھی لوگوں کی آزادی کا مسلہ تو کبھی ملک کو لاک ڈاؤن سے نکالنے کی چیخ و پکار۔گویا ان تمام باتوں میں ایک بات سے ہر کوئی اتفاق کر رہا تھا کہ اب برطانیہ کو’فرِیڈم ڈے‘ملنی چاہیے۔

آخر کار سوموار 19/ جولائی 2021کو حکومت نے فریڈم ڈے کا اعلان کر دیا۔ اس طرح عوامی زندگی پر عائد تقریباً تمام پابندیوں کو ختم کیا جارہاہے۔جب کہ کورونا وائرس کے انفیکشن بڑھنے بھی لگے ہیں۔پیر سے انڈور اجتماع پر مزید کوئی حد نہیں ہوگی۔ نائٹ کلب دوبارہ کھل دئے جائیں گے۔ ایک میٹر کی سماجی دوری کا قاعدہ ہٹا دیا جائے گا اور چہرے پر ماسک پہننا رضاکارانہ ہو گا۔حالانکہ کچھ ائیر لائنز اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے کہا ہے کہ وہ ماسک پہننے کی شرط کو برقرار رکھیں گے۔مختصراً لاک ڈاؤن کی قانونی پابندیوں کی اکثریت اب ختم کر دی گئی ہے اور ذاتی ذمہ داری پر زور دے کر اب انفرادی طور پر لوگوں پر یہ معاملات چھوڑ دئیے گیں ہیں۔وزیر اعظم بورس جونسن نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ لوگ احتیاتی تدابیر ضرور اپنائیں اور کورونا کو پھیلنے کو روکنے کے لیے اپنے اپنے طور پر حفاظتی طور اقدام کریں۔وزیراعظم بورس جونسن نے ڈاؤننگ اسٹریٹ سے اپنے بیان میں کہا کہ ’’براہ کرم لوگ محتاط رہیں۔ تمام صحیح اقدامات کے ساتھ آگے بڑھیں اور دوسروں لوگوں کا بھی احترام کریں اور جو خطرات لاحق ہیں اس سے پرہیز کریں۔‘

پچھلے سات دنوں میں اب تک 316,691کیسز رپورٹ ہونے کے ساتھ ہی کورونا کے کیسز ایک بار بڑھنے لگے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اسپتال میں داخلے کم ہیں لیکن اس کی شرح عروج پر ہے۔گزشتہ سات دنوں میں اب تک 283افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ کورونا انفیکشن کی بڑی اکثریت اس وقت چھوٹی عمر کے لوگوں میں پائی جارہی ہے۔ جنہیں ابھی تک ویکسن نہیں لگائی گئی ہے یا وہ صرف جزوی طور پر محفوظ ہیں۔ حال ہی میں ہوئے یورو2020فٹ بال چمپئن شپ جیسے واقعات سے اس بات کا اندازہ لگا یا جا رہا ہے کہ انگلینڈ کے شائقین ملک کے پبوں (شراب پینے کی خاص جگہ) میں جمع ہوئے تھے جس سے کورونا کیسز میں کافی اضافہ ہوا ہے۔اتوار کی شام برطانوی حکومت نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ کورونا کے کیسز میں اضافہ جاری ہے لیکن یہ بھی کہا گیا کہ کورونا ویکسن کی وجہ سے اسپتال میں داخلہ اور اس سے اموات میں کافی حد تک گراوٹ آئی ہے۔ حکومت نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ تمام لوگ جلد از جلد کورونا ویکسن لیں لے جس کے لئے جگہ جگہ سینٹر کھول دئیے گئے ہیں۔

وزیر اعظم بورس جونسن نے لوگوں سے اپیل کی کہ اب ہمارے پاس کوئی اور چارہ نہیں تھا کہ ہم لاک ڈاؤن کے خاتمے کا اعلان کریں۔ لیکن ہمیں محتاط رہنا ہے اور یاد رکھنا ہے کہ افسوس یہ وائرس اب بھی ہمارے درمیان موجود ہے۔ اسی لئے روز بروز ہمیں کورونا وائرس کیسز کے بڑھنے کی خبر موصول ہورہی ہے۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ وہ تمام اعداد و شمار پر نظر ثانی جاری رکھے گیں۔ جلد از جلد تمام لوگوں کے لئے کووڈ ویکسن کے دوسرے وقفے کو بارہ ہفتے ست کم کر کے آٹھ ہفتے کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ اعداد و شمار کا مستقل طور پر جائزہ لیا جائے گا اور خطرہ کے دوران اگر ضرورت پڑی تو ہنگامی اقدامات ہوں گے۔لیکن اگر ممکن ہوا تو پابندیوں سے بھی بچا جائے گا۔

برطانیہ کے لوگ بڑی بے صبری سے جہاں پیر کو فریڈم ڈے منانے کا انتظار کر رہے تھے وہیں اس خبر سے بھی لوگوں میں پھر خوف بڑھ گیا جب نئے ہیلتھ سیکریٹری (ہیلتھ وزیر) ساجد جاویدکا کورونا ٹیسٹ مثبت پایا گیا ہے۔کورونا ٹیسٹ مثبت پانے سے قبل حال ہی میں ہیلتھ سیکریٹری ساجد جاوید نے ایک ایشیائی کئیر ہوم کا دورہ کیا تھا۔ اس کے بعد وزیراعظم بورس جونس اور چانسلر رشی سونک جنہوں نے ساجد جاوید سے رابطہ رکھا تھا الگ تھلگ ہو گئے ہیں۔ہیلتھ سیکریٹری ساجد جاوید نے انکشاف کیا ہے کہ وہ کورونا وائرس مثبت ہونے کے بعد خود سے الگ تھلگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ صحت یاب محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ انہیں دونوں کووڈ ویکسن لگا ئی گئی ہیں اوران میں کورونا کی ہلکی علامات ہیں۔اس کے بعد سے ڈاؤننگ اسٹریٹ (وزیر اعظم کی رہائش گاہ) میں ’پنگڈیمک‘ (موبائل کے ذریعہ قریب ہی کورونا متاثر افراد کی اطلاع دینے کا ایک نام)کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ اندورونی ذرائع کے مطابق آدھی کابینہ ساجد جاوید کی وجہ سے الگ تھلگ ہو سکتی ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایک سال سے زیادہ کے لاک ڈاؤن نے جہاں لوگوں کے ذہنی تناؤ کو بڑھا دیاہے اور زندگی کو تبدیل کر دیا تھا اس سے لاک ڈاؤن کے خاتمے اور فریڈم ڈے کے اعلان سے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔تاہم لوگوں میں اب بھی کورونا کا خوف مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اگست کے درمیان میں ممکن ہے کورونا کی تیسری لہر عروج پر ہوسکتی ہے۔ اگر ہم سب مکمل طور پر غیر مقفل ہوجاتے ہیں اور یہ دکھاوا کرتے ہیں کہ کووڈ بالکل بھی نہیں ہے اور اپنے پرانے طرز عمل پر واپس آجاتے ہیں تو بھی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم بہت تیزی سے کورونا کی تیسری لہر کیا عروج دیکھ سکتے ہیں۔مشیرکہہ رہے ہیں کہ ہم ابھی خطرے سے باہر نہیں نکلے ہیں اور اگر ہم کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کریں تو یہ ممکن ہے کورونا کا عروج کم ہوجائے گا۔

بہت سارے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ برطانیہ میں نئے کیسز اتنے زیادہ کیوں ہیں؟ اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ بدقسمتی سے ہم میں اب بھی بہت سے ایسے لوگ ہیں جنہیں انفیکشن ہوسکتاہے۔ کچھ لوگوں کو کورونا دوبارہ ہو رہا ہے حالانکہ انہیں کورونا پہلے بھی ہوچکا ہے۔تاہم ہسپتالوں کے داخلے اور اموات سے بچانے کے لئے کورونا ویکسن بہت اچھی ہیں، جہاں وہ قدرے کم موثر ہیں اور انفیکشن کو روکتا ہے۔یہاں تک کہ لوگوں نے دونوں ویکسن لگائے ہوئے ہوں تب بھی آپ کو کورونا ہو سکتا ہے اور آپ دوسروں کو بھی کورونا دے سکتے ہیں۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک بات تو سچ ہے کہ اب ہمیں کورونا کے ساتھ رہنا ہے۔

برطانیہ کا جمہوری نظام اتنا مضبوط اور فعال ہے کہ یہاں لوگ اپنے حقوق سے لے کر ملک کی سلامتی پر بنا خوف و خطر بول سکتے ہیں۔ پچھلے کئی مہینے سے حکومت پر مسلسل دباؤ بنا ہوا تھا کہ لاک ڈاؤن کا مکمل خاتمہ کیا جائے اور لوگوں کو پوری آزادی سے جینا کا حق دیا جائے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ فریڈم ڈے کے بعد برطانیہ کس جانب جاتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *