برطانیہ 47 سال بعد یورپی یونین سے علیحدہ ہوگیا

یورپی یونین کی پارلیمنٹ کی جانب سے برطانیہ کو اتحاد سے علیحدہ کرنے کی حتمی منظوری کے بعد برطانیہ تقریباً نصف صدی بعد یورپی یونین سے الگ ہوگیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ اس اتحاد سے مقامی وقت کے مطابق رات 11 بجے الگ ہوا جبکہ اس موقع پر خواتین اور بچوں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد پارلیمنٹ اسکوائر کے سامنے موجود تھی۔

دوسری جانب برطانوی وزیراعظم کی رہائش گاہ پر روشن کی گئی گھڑی نے بھی یورپی یونین سے علیحدگی کا اعلان کیا۔

اس اعلان کے ساتھ ہی برطانیہ میں اہم عمارتیں برطانوی پرچم کے رنگ میں رنگ گئیں، بیلجیم میں برطانوی سفارتخانے سے یورپی یونین کا پرچم اتار دیا گیا جبکہ برسلز سے یونین جیک بھی ہٹادیا گیا۔

ادھر بریگزٹ پر عمل سے کچھ گھنٹے پہلے برطانوی کابینہ کا علامتی اجلاس ہوا۔

اس دوران برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بریگزٹ کو زندگی کی سب سے بڑی خوشی اور حقیقی قومی تبدیلی قرار دیا۔

جہاں برطانیہ کی علیحدگی ایک تاریخی لمحہ ہے وہیں بریگزٹ کے پہلے مرحلے کے اختتام پر برطانوی عوام کو زیادہ تبدیلیاں نظر نہیں آئیں گی کیونکہ برطانیہ اور یورپی یونین نے اہم معاملات مکمل کرنے کے لیے 11 ماہ کا وقت دیا ہے اور دسمبر 2020 تک برطانیہ میں یورپی یونین کے قوانین ہی لاگو ہوں گے۔

دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بریگزٹ کو تاریخی انتباہ قرار دیا اور کہا کہ یورپی اتحاد کو اب خود کو بہتر بنانا چاہیے۔

ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'یہ مایوس کن دن ہے، اپنے غم کو چھپانا نہیں چاہتے تاہم یہ وہی دن ہے جس سے اب ہم مختلف کام کر سکیں گے'۔

انہوں نے کہا کہ متحد یورپ کی یورپی شہریوں کو پہلے سے زیادہ ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے مفادات کا دفاع کرسکیں۔

واضح رہے کہ دو روز قبل بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں یورپی پارلیمنٹ میں مباحثے کے بعد بریگزٹ معاہدے کی منظوری کے لیے ووٹنگ ہوئی جس کے حق میں 621 اور مخالفت میں صرف 49 اراکین نے ووٹ دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کی 27 رکن ریاستوں نے گزشتہ برس اکتوبر میں ووٹ دے دیا تھا۔

بریگزٹ معاہدے کی ووٹنگ کے دوران 13 اراکین پارلیمنٹ نے ووٹ نہیں دیا اور ووٹنگ کے عمل کے بعد برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 73 اراکین کے لیے الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا جہاں روایتی گیت بھی گائے گئے تھے۔

بریگزٹ: کب کیا ہوا؟

یاد رہے کہ برطانوی دارالعوام نے 10 جنوری کو بریگزٹ معاہدے کی منظوری دی تھی جس کے تحت برطانیہ 31 جنوری کو یورپی یونین سے الگ ہونے کے امکانات واضح ہوگئے تھے۔

دارالعوام میں رائے شماری کے دوران بریگزٹ معاہدے کی حمایت میں 330 اور مخالفت میں 231 ووٹ ڈالے گئے۔

بعد ازاں دارالامرا سے 23 جنوری کو بل منظور ہوا تھا اور اسی روز ملکہ ایلزبیتھ نے بل پر دستخط کردیے تھے جو قانون بن گیا تھا جس کے بعد برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی میں حائل تمام رکاوٹیں ختم ہوگئی تھیں۔

واضح رہے کہ 26 جون 2016 کو برطانوی عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ ڈال کر بریگزٹ کو کامیاب بنایا تھا تاہم یورپی یونین سے کس طرح نکلا جائے اس پر تقسیم اس قدر بڑھ گئی تھی کہ بغیر معاہدے، یونین کو چھوڑنے کا ڈر خوف برطانوی عوام اور سیاستدانوں کو ستانے لگا تھا۔

بریگزٹ کا معاملہ کئی برس سے زیر بحث تھا اور بریگزٹ کی منظوری میں ناکامی پر برطانوی وزیر اعظم کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔

جولائی 2016 میں وزیر اعظم بننے والی تھریسامے نے بریگزٹ معاہدے پر عوامی فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن شدید مخالفت کے بعد سے انہیں مشکلات کا سامنا تھا اور وہ اراکین پارلیمنٹ کو منانے کی کوشش کرتی رہیں کہ وہ اخراج کے معاہدے کو قبول کرلیں۔

مستقل ناکامی کے بعد تھریسا مے نے گزشتہ برس 24 مئی 2019 کو انتہائی جذباتی انداز میں اعلان کیا تھا کہ وہ 7 جون کو وزیراعظم اور حکمراں جماعت کنزرویٹو اور یونینسٹ پارٹی کی رہنما کے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گی اور 7 جون کو انہوں نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

اسی سال 23 جولائی کو برطانیہ کی یورپین یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) کے حامی بورس جانسن اگلے وزیر اعظم کے لیے ہونے والی ووٹنگ کے آخری مرحلے میں کنزریٹو پارٹی کے قائد اور برطانیہ کے اگلے وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔

بورس جانسن کو بھی لیبر پارٹی کے اکثریتی ایوان میں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور بریگزٹ کے حق میں قانون منظور نہ کروا سکے تھے جس کے بعد انہوں نے نئے انتخابات کی تجویز پیش کی جس کو اپوزیشن جماعت نے تسلیم کیا اور یوں دسمبر 2019 میں برطانیہ میں پھر انتخابات ہوئے۔

انتخابات میں بورس جانسن کو اکثریت حاصل ہوئی اور جنوری میں ہی معاملہ پارلیمنٹ میں آیا جہاں سے باآسانی بل منظور ہوا اور ملکہ ایلزبیتھ کے دستخط کے بعد بریگزٹ کا بل باقاعدہ طور پر قانون بن گیا۔

یاد رہے کہ برطانیہ نے 1973 میں یورپین اکنامک کمیونٹی میں شمولیت اختیار کی تھی تاہم برطانیہ میں بعض حلقے مسلسل اس بات کی شکایات کرتے رہے ہیں کہ آزادانہ تجارت کے لیے قائم ہونے والی کمیونٹی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے رکن ممالک کی ملکی خودمختاری کو نقصان پہنچتا ہے۔

بریگزٹ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد ابتداء میں معاشی مشکلات ضرور پیدا ہوں گی تاہم مستقبل میں اس کا فائدہ حاصل ہوگا کیوں کہ برطانیہ یورپی یونین کی قید سے آزاد ہوچکا ہوگا اور یورپی یونین کے بجٹ میں دیا جانے والا حصہ ملک میں خرچ ہوسکے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *