برما‘ افغانستان اور پاکستان

جس سماج میں دانش ہی الجھی ہوئی ہو، وہاں، نشاطِ فکر تو دور کی بات، ابہام ہی ختم نہیں ہوتے۔
انبیا کی دعوت کا پہلا مرحلہ' فکری یکسوئی‘ ہے۔ ایک تصورِ حیات پر اتفاق، پھر تربیت اور پھر متفقین کی گروہ بندی۔ دیگر مراحل اس کے بعد۔ الہامی کتب بتاتی ہیں کہ پہلا مرحلہ طے نہ ہو تو پیغمبر اگلے مرحلے میں قدم نہیں رکھتا۔ اللہ کے کتنے نبی ہیں جودعوت ہی کے مرحلے میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔ عجلت، کاتا اور لے دوڑی، یہ دنیاداروں کے کمالات ہیں۔ دنیا دار بھی وہ جن کیلئے حکمت ارزاں نہیں ہوئی۔
پھر یورپ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ سب سے پہلے دانش تھی جو یکسو ہوئی۔ پھر عوام نے ایک نظامِ فکر، ایک تصورِ حیات پر اتفاق کرلیا۔ جب یہ مرحلہ طے ہوگیا تو پھر اس نظامِ فکر کی روشنی میں ادارہ سازی مشکل نہ رہی۔ جب جمہوریت پر اتفاق ہوا تو پھر سیاسی ادارے اسی کی بنیاد پر قائم ہوئے۔ سیکولرازم کو بطور قدر قبول کرلیا گیا توکلیسا اور اہلِ کلیسا کا کردار بھی متعین ہوگیا۔ اب لاکھ فکری طوفان آئیں، سماج میں وہ قوت آچکی کہ وہ ان کو سہار لیتا ہے۔
ہم یہ فکری یکسوئی پیدا نہ کر سکے۔ کہنے کو سب مراحل طے ہو چکے۔ یہاں تک کہ ہم ایٹمی قوت بن گئے مگر فکری پراگندگی ہے کہ آسیب کی طرح لپٹی ہوئی ہے۔ دنیا جب اس کے مظاہر دیکھتی ہے تو سوال اٹھاتی ہے‘ کیا ہم اتنے ذمہ دار ہیں کہ اپنے تزویراتی اثاثوں کی نگہبانی کر سکیں؟ جس سماج کے دانشور یہ خواہش کریں کہ وہ بم بن جائیں اور دشمن پر گر پڑیں، اس کے بارے میں سوال تواٹھیں گے۔
فکری ابہام ہی ہے جس کے شجر پر عدم استحکام کاپھل آتا ہے۔ برما کا مسئلہ کیا ہے؟ افغانستان میں کیوں فساد برپا ہے؟ فکری اعتبار سے یہ دنیا سے بچھڑے ہوئے معاشرے ہیں۔ اکیسویں صدی میں ایسے نظام ہائے سیاست کو باقی رکھنا چاہتے ہیں جو متروک ہو چکے۔ ایک آمریت کو برقرار رکھنا چاہتاہے اور دوسرا پاپائیت لانا چاہتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ دنیا سے بے نیاز ہو کر زندہ رہاجا سکتا ہے۔ آدمی زندہ تورہ لیتا ہے مگر پھر زندگی کی نئی تعریف کرنا پڑتی ہے۔
پاکستان کا مسئلہ بھی یہی ہے۔ برما اور افغانستان سے بہتر مگر ترقی یافتہ دنیا سے کہتر۔ حیرت درحیرت ہے کہ ہماری دانش ابھی تک جمہوریت کے معاملے میں یکسو نہیں۔ یہ دانش اب بھی غیرجمہوری نظاموں کے حق میں نئے دلائل تراشتی ہے۔ اس کی بے مائیگی کا یہ عالم ہے کہ جمہوریت اور کرپشن کو لازم و ملزوم سمجھتی، درآں حالیکہ آمریت اور کرپشن میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔
احتساب عدالتی ہی نہیں، ایک سماجی عمل بھی ہے۔ عدالت موجود شواہد کی بنیادپر فیصلہ کرتی ہے۔ اس کے فیصلوں کا انحصار اُس ایف آئی آر پر ہوتا ہے جو پہلے مرحلے میں تھانے میں کاٹی جاتی ہے۔ پھر عدالتوں سے لوگوں کو کچھ اور شکایتیں بھی ہوتی ہیں۔ عوامی احتساب مگر ایسے شواہد کا پابند نہیں ہوتا۔ عوام کا فیصلہ ان کے سیاسی شعور اور مردم شناسی کااظہار ہوتا ہے۔ اجتماعی دانش میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ غلط کو مسترد کر سکتی ہے۔
جہاں جمہوریت درست نتائج نہیں دے سکی، وہاں عوامی شعورکو بہتر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تعلیم اور آگہی کو عام کیا جاتا ہے۔ پھر عوام کے پاس موقع ہوتا ہے کہ چند سال کے بعد چاہیں تو اپنے فیصلے پر نظرثانی کر لیں۔ اس سے بہتر احتساب کا کوئی نظام وضع نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے معاشرے کسی اضطراب اور بے امنی میں
مبتلا ہوئے بغیر نتھرتے چلے جاتے ہیں۔
پاکستان کا دانشور یہ نہیں جان سکا کہ سیاستدانوں اور حکمرانوں پر تنقید کا مقصد کیا ہے؟ کئی اہلِ دانش سیاستدانوں پر تنقید کرتے کرتے یہ نتیجہ برآمد کرتے ہیں کہ سیاستدان اور جمہوریت اصلاً برائی کی جڑ ہیں‘ لہٰذا ثابت ہوا کہ قوم اور ملک کی سیاسی قیادت کیلئے کسی دوسرے طبقے سے لوگ سامنے لائے جائیں۔
ایک دوسرا دانشور سیاستدانوں پر تنقید کرتا اور اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ سیاسی عمل کو بہتر ہونا چاہیے اور برے سیاستدانوں کو اچھے سیاستدانوں سے بدل دینا چاہیے۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ تبدیلی کا یہ کام کوئی ریاستی ادارہ یا غیرریاستی مسلح گروہ نہیں، ملک کے عوام کریں گے۔ دونوں طرح کی تنقیدات میں فرق ہے اور اہل دانش کو یہ بات سمجھنی ہے کہ وہ قوم کوکس نتیجے تک پہنچانا چاہتے ہیں۔
میرا احساس ہے کہ تنقید کے جوش میں خود اہلِ دانش اس فرق کا لحاظ نہیں رکھتے۔ کچھ تو دانستہ ایسا کرتے ہیں کہ جمہوریت ہی کو غلط سمجھتے ہیں۔ ان کو داد ملنی چاہیے کہ اپنی بات دیانتداری سے کہہ رہے ہیں۔ جو جمہوریت کو درست سمجھتے ہیں وہ اتنے سادہ لوح ہیں کہ اپنی بات کے اثرات سے غافل ہیں۔ یہ دونوں صورتیں فکری پراگندگی کا باعث بنتی ہیں۔ پہلی صورت فکری اور دوسری ابلاغی افلاس کی علامت ہے۔
فکری انتشار اصلاً دانش کی کمزوری کا اظہار ہے۔ یہ بات کسی المیے سے کم نہیں کہ ہم سات دہائیوں میں قوم کو اس پر متفق نہیں کر سکے کہ جمہوریت کے سوا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں۔ اگر ہم یہ اتفاق رائے پیدا کر لیتے تو پھر بحث کا دائرہ سمٹ کراس نکتے پر مرتکز ہو جاتا کہ برے سیاستدانوں کو کیسے اچھے سیاستدانوں سے بدلا جا سکتا ہے؟ سیاسی عمل کو کیسے شفاف بنایا جا سکتا ہے۔ پھر یہ سوال خارج از بحث ہوتاکہ اقتدار پر قابض ہونے کی کوئی دوسری صورت بھی ہو سکتی ہے۔
جمہوریت کا مقدمہ نواز شریف یا آصف زرداری کی حکمرانی کا مقدمہ نہیں ہے۔ یہ مقدمہ عوام کے حقِ حکمرانی کا ہے۔ بحث اس پر ہونی چاہیے کہ عوام کی رائے کو دیانتداری سے جاننے کا کیا طریقہ ہو سکتا ہے؟ نظامِ انتخابات کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے؟ ہمارے ہاں ان سوالات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے بحث کو دانستہ سیاستدانوں کی مبینہ کرپشن کے گرد گھمایا جاتا ہے اور بطور نتیجہ غیرجمہوری قوتوں کے حقِ اقتدار سازی کیلئے جواز پیدا کیا جاتا ہے۔
اگر آج پاکستان کی دانش اس پر متفق ہو جائے کہ حکمرانوں کا انتخاب صرف اور صرف عوام کا حق ہے تو اس کے بعد فکری انتشار بڑی حد تک ختم ہوجائے گا۔ پھر کوئی ریاستی ادارہ عوامی تنقید کا نشانہ نہیں بنے گا۔ پھر اختلاف اہل سیاست میں سمٹ جائے گا۔ عوام کے حقِ اقتدار کیلئے رائے عامہ کی آزادی ناگزیر ہے۔ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ جو لوگ ان کی قیادت کے دعویدار ہیں، وہ کس حد تک قابلِ بھروسہ ہیں۔ اس کیلئے فکری آزادی ضروری ہے۔ لوگوں کو سیاستدانوں پر تنقید کا حق ہو اور انہیں اپنی صفائی پیش کرنے کا۔
پاکستان میں بارہا جمہوریت پر اتفاق پیدا ہوا مگر پھر مارشل لا نے اس کو سبوتاژ کر دیا۔ 1973ء کا آئین اس قومی اجماع کا اظہار تھاکہ ملک کا نظام ایک سماجی معاہدے کے تحت چلایا جائے گا اور چلانے کی یہ ذمہ داری عوام کے منتخب نمائندوں کی ہے۔ 1977ء میں اس پیشرفت کو برباد کر دیا گیا۔ اس کے بعد ہمیں چین نصیب نہ ہو سکا۔ سرکاری سرپرستی میں ایسی دانش کو فروغ ملا جس نے بتایا کہ سیاسی جماعتیں غیر اسلامی ہیں۔ انتخابات غیر جماعتی ہونے چاہئیں اور حقِ اقتدار عوام کے ساتھ خاص نہیں ہے۔
آج کسی کو ممکن ہے نوازشریف یا مریم نواز پسند نہ ہوں‘ بلاول بھٹو اچھے نہ لگتے ہوں۔ اس کو یہ حق ہے کہ عوام کو ان سے دور رکھنے کیلئے دلائل دے لیکن فیصلہ عوام پر چھوڑ دے۔ ووٹ کو عزت دینے کا یہی مطلب ہے۔ کرپشن کے نام پر عوام کے حقِ اقتدار کو ختم کرنے والے برما اور افغانستان کے حالات پر ضرور نظر ڈال لیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: