برٹنی اسپیئرز کے وکیل کا والد کی 'سرپرستی' فوری ختم کرنے کا مطالبہ

پاپ گلوکارہ برٹنی اسپیئرز اور ان کے نئے وکیل نے کہا ہے کہ ان کے والد جیمز اسپیئرز قانونی 'سرپرست' کے عہدے سے سبکدوش ہونے سے قبل ان سے 20 لاکھ ڈالر وصول کرنے کی کوشش کررہے ہیں لہذا ان کی سرپرستی کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔

جیمز اسپیئرز گزشتہ 13 سال سے بیٹی کے قانونی ’سرپرست‘ (conservator) ہیں اور گلوکارہ انہیں ہٹانے کی خواہاں ہیں۔

برٹنی اسپیئرز کی خواہش کے باوجود کم از کم 3 مرتبہ عدالت نے ان کے والد کو ’سرپرست‘ کے طور پر ذمہ داریاں جاری رکھنے کا حکم دیا تھا لیکن اب خود جیمز اسپیئرز نے سبکدوشی کے لیے رضامندی ظاہر کردی۔

امریکی خبررساں ادارے 'اے پی' کی رپورٹ کے مطابق وکیل میتھیو روزنگارٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ 'قانونی سرپرستی' کی آئندہ شیڈول اکاؤنٹنگ، جس سے جیمز اسپیئرز سبکدوش ہونے کے لیے رضامند ہوگئے ہیں، نے کہا ہے کہ انہیں عہدے سے سبکدوش ہونے کے عوض بھاری رقم کی ادائیگی کی جائے۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ 'برٹنی اسپیئرز سے یہ رقم زبردستی حاصل نہیں کی جاسکتی'۔

جیمز اسپیئرز گزشتہ 13 سال سے بیٹی کے قانونی ’سرپرست‘ ہیں —فائل فوٹو: انسٹاگرام
جیمز اسپیئرز گزشتہ 13 سال سے بیٹی کے قانونی ’سرپرست‘ ہیں —فائل فوٹو: انسٹاگرام

پاپ گلوکارہ کے وکیل کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ' جیمز سپیئرز اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے برٹنی سپیئرز کی اسٹیٹ سے پہلے ہی ملنے والے لاکھوں روپے کے بعد سرپرستی سے سبکدوش ہونے کے عوض لگ بھگ 20 ڈالر کی ادائیگی، سودے بازی کی ایک بے بنیاد کوشش ہے'۔

اس حوالے سے تبصرے کے لیے جب اے پی نےجیمز اسپیئرز کے نمائندے سے رابطہ کیا تو فوری طور پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

مذکورہ دستاویز برٹنی اسپیئرز کے وکیل کی جانب سے جولائی میں جیمز سپیئرز کی برطرفی اور معطلی کے لیے دائر کی گئی درخواست کے تحت جمع کرائی گئی جس پر 29 ستمبر کو سماعت ہوگی۔

علاوہ ازیں برطانوی خبررساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویز میں میتھیو روزنگارٹ نے کہا کہ بالآخر یہ تسلیم کرنے کے بعد کہ بطور سرپرست ان کا وقت ختم ہونا چاہیے، جیمز اسپیئرز بغیر کسی شرط کے اور اپنی بیٹی سے مزید کچھ حاصل کرنے کی کوشش کیے بغیر عہدہ چھوڑنے کے پابند ہیں'۔

اداکارہ نے والد کی سرپرستی ختم کرانے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے—فائل فوٹو: اے پی
اداکارہ نے والد کی سرپرستی ختم کرانے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے—فائل فوٹو: اے پی

مزید کہا گیا کہ 'درحقیقت جیمز اسپیئرز کو اب مستعفی ہونا چاہیے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو عدالت 29 ستمبر کو انہیں معطل کردے'۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ اگست میں جیمز اسپیئرز نے لاس اینجلس کی کورٹ میں جمع کرائے گئے دستاویزات میں اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کے لیے رضامندی ظاہر کی تھی لیکن دستاویزات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ کب تک ذمہ داریوں سے ہٹنے کو تیار ہیں۔

برٹنی اسپیئرز نے 27 جولائی کو لاس اینجلس کی عدالت میں چوتھی مرتبہ والد کو ہٹانے کی درخواست دائر کی تھی۔

جیمز اسپیئرز کے ہٹنے کے بعد گلوکارہ کے معاملات دیکھنے کے لیے کسی دوسرے فرد یا ادارے کو ’سرپرستی‘ کی ذمہ داریاں دیے جانے کا امکان ہے۔

برٹنی اسپیئرز کے والد جیمی اسپیئرز 2008 سے اداکارہ کے ’سرپرست‘ ہیں اور اداکارہ گزشتہ دو سال سے والد کی مذکورہ حیثیت ختم کروانے کے لیے کوشاں ہیں۔

والد 2008 سے گلوکارہ کے سرپرست ہیں—فائل فوٹو: ٹوئٹر
والد 2008 سے گلوکارہ کے سرپرست ہیں—فائل فوٹو: ٹوئٹر

برٹنی اسپیئرز کے والد کو امریکی عدالت نے 2008 میں اس وقت گلوکارہ کا ’سرپرست‘ مقرر کیا تھا جب کہ اداکارہ کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی اور وہ اپنے فیصلے بھی کرنے کی اہل نہیں تھیں۔

گزشتہ 13 سال سے والد ہی اداکارہ کے تمام معاملات دیکھ رہے ہیں اور برٹنی اسپیئرز والد کی اجازت کے بغیر کوئی کام نہیں کر سکتیں، یہاں تک کہ وہ کسی شو میں پرفارمنس یا کسی مرد سے تعلقات بھی اپنے والد کی مرضی سے استوار کرنے کی پابند ہیں۔

برٹنی اسپیئرز کچھ عرصے سے سرپرستی ختم کروانے کے لیے کوشاں ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
برٹنی اسپیئرز کچھ عرصے سے سرپرستی ختم کروانے کے لیے کوشاں ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *