برہمن آباد: ’چار دروازوں والے شہر‘ کے نیچے اسلامی تہذیب سے کئی صدیوں قبل کے آثار برآمد

سندھ کے وسط میں موجود برہمن آباد کے کھنڈرات سے عرب سپہ سالار محمد بن قاسم کی آمد سے قبل کے آثار برآمد ہوئے ہیں۔ تاریخی حوالوں میں تو اس کا ذکر ملتا تھا لیکن شاہ عبدالطیف یونیورسٹی کے شعبہ آرکیالوجی نے حالیہ سائنسی تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ یہاں تیسری صدی عیسوی کی آبادی کے آثار موجود ہیں۔

برہمن آباد کہاں ہے؟

اگر آپ بذریعہ ٹرین کراچی سے لاہور کی طرف جا رہے ہیں تو ٹنڈوآدم ریلوے سٹیشن کے بعد شہدادپور سٹیشن آتا ہے، اس سے کوئی 18 کلومیٹر دور برہمن آباد یا منصورہ کے قدیم شہر کے آثار موجود ہیں۔

یہاں ایک سٹوپا بھی موجود ہے جس کو بعض مؤرخ بدھ سٹوپا یا عبادت گاہ قرار دیتے ہیں جبکہ آس پاس سرخ اینٹوں کی ڈھیریاں لگی ہوئی ہیں اور یہ چار کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔

محکمہ آثار قدیمہ اور نوادرات کا کہنا ہے کہ برصغیر میں یہ مسلمانوں کا پہلا مضبوط مرکز تھا، جو دریا میں جزیرہ نما شہر تھا۔

آثار قدیمہ

برہمن آباد کی کھدائی کب ہوئی؟

بیلاسس اور رچرڈسن نے سنہ 1854 میں پہلی بار ان آثار قدیمہ کی کھدائی کی اس کے بعد ہینری کیزنز نے اس کو آگے بڑھایا۔ قیام پاکستان کے بعد قومی وزارت آثار قدیمہ کی جانب سے سنہ 1962 میں کھدائی کی گئی جس کی ابتدائی رپورٹ تو شائع ہوئی لیکن جامع رپورٹ آج تک شائع نہیں کی گئی۔

اس رپورٹ میں ڈاکٹر ایف اے خان نے قرار دیا کہ یہ منصورہ شہر کے آثار ہیں اور یہاں سے مسجد کے آثار ملے ہیں جبکہ اسلام سے قبل کے آثار نہیں دستیاب۔

شاہ عبدالطیف یونیورسٹی کے شعبہ آرکیالوجی سے منسلک ڈاکٹر غلام محی الدین ویسر کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں عمارتوں کی سطح، یا ادوار پر کوئی بات نہیں کی گئی۔

آثار قدیمہ

حالیہ تحقیق کا مقصد کیا ہے؟

شاہ عبدالطیف یونیورسٹی کے شعبے آرکیالوجی کے سربراہ ڈاکٹر غلام محی الدین ویسر کی سربراہی میں اساتذہ اور طالب علموں پر مشتمل 20 افراد کا گروپ حالیہ دنوں برہمن آباد کے آثار کی تحقیق کر رہا ہے، ابتدائی طور پر چھ مقامات پر یہ تحقیق جاری ہے جسے اگلے مرحلے میں وسیع کیا جائے گا۔

ڈاکٹر غلام محی الدین ویسر کا کہنا ہے کہ ’ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ جو مفروضہ ہے کہ جب محمد بن قاسم آیا تھا اس وقت یہ آبادی بنی تھی یہ درست ہے کہ نہیں، یہاں عمارتوں کی سطح کیا ہے، کس قسم کے مٹی کے برتن مل رہے ہیں اور وہ کس صدی اور ادوار کی عکاسی کرتے ہیں۔‘

یاد رہے کہ محمد بن قاسم نے بغداد کے حکمران حجاج بن یوسف کے حکم پر 712 ہجری میں سندھ پر حملہ کیا تھا، اس وقت یہاں یہاں راجہ داہر کی حکومت تھی۔

آثار قدیمہ

مسجد کے نیچے قدیم آبادی کے نشانات

ڈاکٹر غلام محی الدین ویسر کا کہنا ہے کہ پہلے کی تحقیق میں ایک جامع مسجد کا ذکر ملتا ہے اس لیے انھوں نے چار گڑھے، مسجد ایریا میں لگائے ہیں جو 15 فٹ نیچے تک گئے ہیں جس سے یہ معلوم ہوا ہے کہ جو موجودہ شہر ہے اس سے پہلے بھی ایک آبادی تھی۔

ان کے مطابق یہاں جو عمارتوں کی سطح مل رہی ہے یا مٹی کے برتن مل رہے ہیں اس میں بھی فرق نظر آ رہا ہے اور اس میں اسلامی دور کی نشانیاں بھی ہیں اور قبل از اسلامی ادوار بھی شامل ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’یہاں سے ملنے والے مٹی کے برتن تیسری صدی عیسوی سے مشہابت رکھتے ہیں جو ساسانی دور (اسلام سے قبل ایران کا آخری بادشاہی دور) سے تعلق رکھتے ہیں اسی نوعیت کے برتن بھنبور کے آثار قدیمہ سے بھی مل چکے ہیں۔

’اس بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے یہ شہر تیسری صدی سے آباد تھا، اس کا پھیلاؤ دیکھتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ محمد بن قاسم جب یہاں آئے تو انھوں نے اس کو فتح کیا لیکن لوگ یہاں پہلے سےآباد تھے۔‘

آثار قدیمہ

قیمتی پتھر اور زیورات

برہمن آباد پر کی گئی تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ شہر معاشی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہو گا۔

اس سے پہلے کی گئی تحقیق میں یہاں سے سکے اور دیگر نوادرات ملے تھے جو قیام پاکستان سے قبل برٹش میوزیم اور بمبئی منتقل کر دیے گئے تھے۔

آثار قدیمہ

ڈاکٹر ویسر کا کہنا ہے کہ حالیہ تحقیق میں مٹی کے برتنوں کے علاوہ قیمتی پتھر، نیلم، روبی، زمرد بھی پائے گئے ہیں اس کے علاوہ ان کی پالش کرنے کے آلات اور سانچے بھی برآمد ہوئے ہیں۔

’جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی یہاں صنعت موجود تھی۔ اس کے علاوہ ہاتھی دانت کے زیورات، شیل اور سکے بھی ملے ہیں اور سکوں کی صفائی کے بعد یہ معلوم ہو گا کہ یہ کس دور کے ہیں۔‘

آثار قدیمہ

زیر زمین پانی کے حصول کا نظام

موئن جو دڑو اور بھنبھور کی طرح برہمن آباد سے بھی پینے کے پانی کے کنویں ملے ہیں لیکن یہ اُن سے منفرد ہیں۔

ڈاکٹر غلام محی الدین بتاتے ہیں کہ مٹی کے برتنوں کی طرح بھٹی میں بنی ہوئِے پائپ کے رنگ کی ایک لائن پندرہ فٹ سے بھی نیچے جا رہی ہے ان رنگوں کو آپس میں ملا کر یہ لائن بنائی گئی۔ زیر زمین پانی کے حصول کے لیے یہ لائن عمودی چل رہی ہے، یہ اپنی طرز کی منفرد ٹیکنالوجی ہے، اس سے پہلے کی تحقیق میں اس لائن کو نکاسی آب کی لائن قرار دیا گیا تھا۔

آثار قدیمہ

چار دروازوں والا شہر

برہمن آباد پر عربی، فارسی سمیت مختلف زبانوں میں تاریخی مواد شامل ہے، جن سے اس شہر کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے۔

سندھی زبان کے تاریخ اور ڈرامہ نویس مرزا قلیچ بیگ ’قدیم سندھ‘ میں لکھتے ہیں کہ ہندو راجاؤں کے زمانے میں برہمن آباد سات بڑے قلعوں والے شہروں میں شامل تھا۔

برہمن راجہ چچ کی حکومت میں اگھم لوہانہ یہاں کا حاکم تھا، لاکھا، سما اور سھتا برداری اس کے زیر اثر تھیں۔ اس کا حکم سمندر تک یعنی دیبل بندر گاہ تک چلتا تھا۔ چچ نے اگھم سے لڑائی کر کے اس کو شکست دی اور شہر پر کنٹرول کر کے اگھم کی بیوہ سے شادی کر لی۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ چچ کا بیٹا راجہ داہر جب حکمران ہوا تو اس نے اپنے بھائی داہر سیئن کو یہاں کا حاکم مقرر کیا اور اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹے کو حکمرانی دی گئی۔

آثار قدیمہ

مولائی شیدائی ’جنت السندھ‘ میں لکھتے ہیں کہ یہاں بدھ مت کا ایک بڑا عبادت خانہ تھا اور علم جوتش کے ماہر یہاں موجود تھے۔ چچ نے سخت گیر برہمن ہونے کے باوجود بدھوں کی عبادت گاہ برقرار رکھی تھی۔

ڈاکٹر ویسر کہتے ہیں کہ پہلے تحقیق میں یہ کہا گیا کہ یہاں بدھمت کا سٹوپا بھی ہے لیکن اس کی خصوصیات یا علامات کا متعلقہ مواد دستیاب نہیں کیونکہ بدھ سٹوپا کی الگ خصوصیات ہوتی ہیں، اس قدر کے بدھا کا کوئی مجمسہ یا مورت بھی نہیں ملتی۔

آثار قدیمہ

محمد بن قاسم کی آمد

’جنت السندھ‘ میں مولائی شیدائی لکھتے ہیں کہ راجہ داہر کے قتل کے بعد ان کے بیٹے جیسئین کے پاس محمد علافی (محمد علافی نے عمان میں خلیفہ کے خلاف بغاوت کی تھی اور ناکامی پر راجہ داہر نے اس کو پناہ دی تھی) سمیت 15 ہزار کا لشکر تھا۔ دونوں کو وزیر سیاسگر نے برہمن آباد کی طرف جانے کا مشورہ دیا، جہاں بے شمار خزانہ دفن تھا۔

برہمن آباد کے قلعے کے چار دروازے تھے جر بیڑی (کشتی) ساہتیا، منھڑو اور سالباہ۔ جن پر جئسین نے چار سپہ سالار فوجوں سمیت مقرر کیے تھے، بقول ان کے محمد بن قاسم سے سندھیوں کی یہ آخری جنگ تھی۔

ماہ رجب میں عرب لشکر برہمن آباد کے قریب پہنچا، محمد بن قاسم کے حکم پر خندقیں کھودی گئیں، جئسین نے گوریلا جنگ شروع کر دی اور سارے علاقے کو ویران کر دیا تاکہ اسلامی لشکر کو سامان کی رسد اور جانوروں کو گھاس نہ ملے، چھ ماہ کے گھیراؤ کے بعد شکست ہوئی اور شہریوں نے قلعے کے دروازے کھول دیے۔ محمد بن قاسم نے ان پر جزیہ مقرر کیا، یہ فتح محرم سنہ 94 ہجری میں ہوئی۔

آثار قدیمہ

ایرانی بادشاہ کا شہر

برہمن آباد کے بارے میں بعض محققین کا خیال ہے کہ یہ شہر ایرانی بادشاہ نے آباد کیا تھا، سندھ کے تعلیم دان اور تاریخ دان غلام علی الانا مہران میگزین میں اپنے مضمون ’منصورہ پر اسماعیلی حکومت‘ میں لکھتے ہیں کہ ساسانی گھرانے کے حکمران گشتسپ نے وادی سندھ کی حکومت اپنے پوتے بہمن کے حوالے کی تھی، جو ایران کی تاریخ میں ’ہمن اردشیر دراز دست‘ سے مشہور ہے۔

بھمن نے سندھ میں بھمنو نام سے شہر آباد کیا جو پھر ’برہم آباد‘ کے نام سے مشہور ہوا، عرب سیاحوں میں سے کچھ نے برہم آباد اور منصورہ کو ایک ہی شہر بیان کیا۔ وہ یاقوت لحومی، حمزہ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں المنصورہ، برہمن آباد کا دوسرا نام ہے۔ عرب سیاح البیرونی کی رائے کے مطابق برہمن آباد کا نام بھمنوا ہے، مسلمانوں کی حکومت سے قبل اس شہر کو برہم آْباد پکارا جاتا تھا۔

سندھ کے محقق اور تاریخ نویس ڈاکٹر نبی بخش بلوچ بھی ڈاکٹر الانا کی رائے کی تائید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برہمن آباد بہمن اردشیر کے حکم سے تعمیر ہوا اور غالبا کافی عرصے کے بعد جب سندھ میں برہمنوں کا اثر و رسوخ بڑھا تو بھمن آباد کے نام کو برہمن آباد پکارا جانے لگا۔ یہ تبدیلی برہمنوں کے تسلط یا پھر سندھی زبان کی مقامی ادائیگی کی وجہ سے وجود میں آئی۔

آثار قدیمہ

برہمن آباد یا منصورہ

محققین کا خیال ہے کہ عسکری اور سیاسی ضروریات کے پیش نظر سندھ میں عربوں کو اپنے شہر آباد کرنے پڑے جن میں محفوظہ، بیضا اور منصورہ مشہور ہوئے۔

ایلیئٹ بلاذری کے حوالے سے لکھتا ہے کہ برھم آباد منصورہ سے دور تھا، اس کے ساتھ ان کی یہ رائے بھی ہے کہ برھم آباد کا کافی حصہ منصورہ میں شامل ہو گیا تھا اور محفوظہ اس کے برابر میں آباد کیا گیا۔

سندھ کے تاریخ نویس ایم ایچ پنہور لکھتے ہیں کہ تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے برہمن آباد اور منصورہ ایک ہی شہر کے دو نام ہیں، یزید ال قلبی کے زمانے میں سندھ کا دارالحکومت الور سے منصورہ منتقل کیا گیا۔

بشاری المقدسی جس نے 961 عسیوی میں سندھ کا دورہ کیا نے اپنی کتاب ’احسان التقسیم معارف الکلیم‘ میں لکھا کہ منصورہ ایک کلومیٹر طویل اور دو کلومیٹر چوڑا شہر ہے جس کے چاروں اطراف میں دریا ہے اور چار دروازے ہیں۔

بقول اس کے منصورہ اپنی اراضی میں دمشق کے برابر ہے۔ مکانات مٹی اور لکڑی کے ہیں لیکن جامع مسجد پتھروں اور اینٹوں سے بنی ہوئی ہے اور اچھی ِخاصی بڑی عمارت ہے جو وسط شہر میں ہے۔

Mahmud of Ghazni attacking the Jats on the Chenab River, Northern India in 1026. Yam?n-ud-Dawla Abul-Q??im Ma?m?d ibn Sebükteg?n, aka Mahmud of Ghazni or Mahm?d-i Z?bul?, 971 – 1030. Prominent ruler of the Ghaznavid Empire. From Hutchinson's History of the Nations, published 1915.
،تصویر کا کیپشنمحمود غزنوی کی جانب سے سنہ 1026 میں شمالی ہندوستان پر کیے جانے والے ایک حملے کا خیالی منظر

محمود غزنوی کا حملہ؟

برہمن آباد پر محمود غزنوی نے بھی حملہ کیا تھا۔ ایم ایچ پنہور لکھتے ہیں کہ سومنات مندر پر حملے کے بعد محمود غزنوی نے منصورہ پر حملہ کیا، یہاں خفیف سومرو کی حکومت تھی جو حملے سے پہلے فرار ہو گیا، یہاں بڑے پیمانے پر قتل و غارت ہوئی اور شہر کے کچھ حصے کو نذر آتش کیا گیا۔

پنہور لکھتے ہیں محمود غزنوی کے درباری شاعر فرخی نے اپنے دس سطروں کے قصیدے میں خفیف کے کھجور کے باغوں میں فرار ہونے، زندگی بچانے کے لیے دریا میں کھود کر جانیں گنوانے والے لوگوں اور قتل عام کا ذکر کیا ہے۔

ہینری کینز کا حوالہ دیتے ہوئے پنہور لکھتے ہیں کہ جس طرح گلیوں میں سے سکے پڑے ملے ہیں اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں سے لوٹ مار کی گئی ہے۔

بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ محمود غزنوی موجودہ انڈین گجرات میں سومنات پر حملے کے بعد واپسی پر منصورہ آیا اور یہاں حملے کے بعد ملتن پر حملہ آور ہوا۔ تاہم ایم ایچ پنہور اس سے اتفاق نہیں کرتے ہیں۔

ڈاکٹر غلام علی الانا لکھتے ہیں کہ شیعہ تحریک کے علمبردار مبلغ الاشتر سب سے پہلے منصورہ میں وارد ہوئے اور اس وقت ابو جعفر منصور عباسی کی خلافت کا زمانہ اور عمر بن حفص والی منصورہ تھے۔ وہ سادات کے طرفدار تھا اور انھوں نے اس کو دعوت دی، جس نے شہر کے بااثر افراد کو طلب کیا اور کسی جمعرات کو بیعت لینے کا فیصلہ کیا لیکن یہ خبر بغداد تک پہنچ گئی اور الاشتر کو فرار ہونا پڑا۔

برہمن آباد یا منصورہ کا زوال کیسے آیا؟

بیلاسس اور رچرڈسن جنھوں نے یہاں پہلے کھدائی کی تھی کا خیال ہے کہ زلزلے کی وجہ سے شہر اجڑ گیا تھا۔

شاہ عبدالطیف یونیورسٹی کے شعبے آرکیالوجی کے سربراہ غلام محی الدین زلزلے کی تھیوری تو مسترد کرتے ہیں کیونکہ ’دیواریں سلامت ہیں اور کہیں بھی جھکی ہوئی نہیں ہیں۔‘ وہ اس مؤقف سے بھی اتفاق نہیں کرتے کہ شہر پر حملہ کر کے نذر آتش کیا گیا ہو، بقول ان کے ’آگ کے نشانات یا جلی ہوئی لکڑیاں وغیرہ برآمد نہیں ہوئی ہیں۔‘

ایم ایچ پنہور کا خیال ہے کہ تاریخی ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ ہاکڑا دریا سوکھ گیا اور دریائے سندھ نے بھی اپنا رُخ تبدیل کیا، یہ تبدیلیاں اس خطے میں 10 صدی عیسوی میں آئیں۔

ڈاکٹر ویسر کا بھی خیال ہے کہ یہ ہو سکتا ہے کہ دریائے سندھ نے اپنا رخ تبدیل کیا ہو، جس کے مواصلات اورسہولیات متاثر ہوئی ہوں۔

ان کے مطابق بعد میں ملنے والا عمارتی ڈھانچہ اتنا اچھا نہیں جو اس سے پہلے والوں کا مل رہا ہے جنھوں نے بعد میں گھر بنائے ہیں ان میں اینٹوں کا دوبارہ استعمال ہوا ہے جیسے موئن جو دڑو میں کیا گیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *