برہنہ قوم: جرمن شہری سرعام ننگے ہونا کیوں پسند کرتے ہیں؟

’عریانی کی ثقافت‘ فطرت کے ساتھ ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے۔ آج جرمن لوگ برہنہ ورزش کرتے ہیں اور یہاں تک کہ ننگے پہاڑ پر چڑھتے ہیں۔

برلن میں چار سال رہنے کے بعد، میں نے جرمنی میں عریانی کی ثقافت کو قبول کرنا سیکھا، جو مڈویسٹ سے مختلف تھی جہاں میں پلا بڑھا تھا۔

امریکی ثقافت میں عریانی کا تعلق جنسی تعلقات سے ہے جبکہ جرمنی میں روزمرہ کے کچھ حالات میں ایسا ہونا غیر معمومی بات نہیں۔

مجھے بھاپ کے غسل کے دوران برہنہ ہونے، تیراکی کے دوران بے لباس ہونے کا تجربہ تھا اور یہاں تک کہ میں ایک بار مساج کے لیے بھی گیا اور میں نے فوراً ہی اپنا تولیہ اتارا اور برہنہ ہو گیا، مساج کرنے والے نے مجھے یاد دلایا کہ عام طور پر اسے امریکیوں کو بے لباس ہونے کے لیے کہنا پڑتا ہے۔

لیکن جیسا کہ کہاوت ہے کہ عوامی مقام پر عریانی کے ساتھ پیش آنے کے پہلے تجربے کو آپ کبھی بھی فراموش نہیں کریں گے۔ میں نے اپنے پہلے تجربے میں نیو کولون کے علاقے برلن کے جنوب میں واقع ہوسنہائڈ پارک میں دوپہر کے وقت روشن سورج کے نیچے بے لباس لوگوں کا ایک گروپ دیکھا۔ اس کے فوراً بعد ہی دوستوں سے بات کرنے اور گوگل پر چھان بین کے بعد میں نے پایا کہ برلن میں پارک یا ساحل سمندر پر ننگے لوگوں کے ایسے گروہوں کو دیکھنا ایک معمول ہے۔

لیکن ننگے افراد کے جن اجتماعات کا میں نے مشاہدہ کیا اس کا شہوانی، شہوت انگیز لذتوں میں ملوث ہونے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ عریانی کی ثقافت کی ایک مثال تھی۔

برہنہ

فری باڈی کلچر یا مختصر طور پر ایف کے کے، جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک میں زندگی کا اہم حصہ ہے لیکن عوامی مشق کے طور پر نیوڈازم یا عریانی انیسویں صدی کے آخر میں اپنائی گئی۔ مثال کے طور پر سپین کے ساحل پر عریانی کے برعکس، جرمنی میں عریانی کا کلچر حوصلہ افزائی کرنے والے مقاصد کی ایک وسیع رینج کا احاطہ کرتا ہے۔ ماضی میں، فطرت میں مکمل طور پر برہنہ ہو جانا بغاوت اور دباؤ سے آزادی کا اظہار تھا۔

برلن کی فیری یونیورسٹی میں عصری تاریخ کے اسسٹنٹ پروفیسر آرینڈ بورکیمبر کا کہنا ہے کہ ’جرمنی میں عریانی ایک پرانی روایت ہے۔ بیسویں صدی کے اختتام پر نامیاتی کھانوں، جنسی آزادی، متبادل ادویات اور فطرت کے قریب ایک سادہ زندگی کو فروغ دینے والی زندگی میں اصلاحی فلسفہ مقبول ہوا۔‘

بائرکمبر کہتے ہیں ’عریانی اس وسیع تحریک کا حصہ تھی جو صنعتی جدیدیت کے ردعمل کے طور پر ابھرا اور جدید معاشرے کے خلاف تھا جو انیسویں صدی کے آخر میں نئی ​​تبدیلیوں کے ذریعہ تیار کیا گیا تھا۔‘

پوٹسڈیم میں لبنز سینٹر برائے عصری تاریخ کے ایک مورخ ہنو ہاکموت کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحی تحریک برلن جیسے بڑے شہروں میں مقبول تھی حالانکہ اس نے سادہ دیہی زندگی کی خوبیوں کو فروغ دیا۔

اور جمہوریہ ویمار کے دور میں 1918 سے 1929 تک بورژوازی اقلیت کے لوگ برہنہ جسمانی ثقافت اپنائے ساحلوں پر دکھائی دیے۔

باؤرکمبر کے مطابق اس وقت ایک آزادی کا احساس تھا جو 1878 سے 1918 تک آمریت پسند معاشرے اور جرمن سلطنت کی قدامت پسند اقدار کے بعد انھیں ملا۔

جرمنی
،تصویر کا کیپشنبرلن اور دیگر بہت سے جرمن شہروں میں پارکوں میں لوگوں کو ننگا دیکھنا عام بات ہے

1926 میں الفریڈ کوچ نے مخلوط صنف کی عریانی کے رواج کی حوصلہ افزائی کے لئے برلن میں نیوڈازم سکول کی بنیاد رکھی، اس خیال میں کہ بیرونی عریانی فطرت کے ساتھ ہم آہنگی لانے اور صحت سے متعلق فوائد لانے میں مددگار ہے۔

جبکہ نازیوں نے ابتدا میں جسمانی برہنہ ثقافت پر پابندی عائد کرتے ہوئے اسے غیر اخلاقیات اور بے حیائی سے تعبیر کیا۔ ہکوموت کا کہنا ہے کہ 1942 تک نازی جرمنی نے آہستہ آہستہ عوام میں عریانی پر پابندیوں میں نرمی کر دی لیکن یقیناً یہ رعایت یہودیوں اور کمیونسٹ جیسے مظلوم گروہوں کے لیے نہیں تھی۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی کی مشرقی اور مغربی جرمنی میں تقسیم، خاص طور پر مشرقی جرمنی میں دہائیوں تک عریانی کی ثقافت نہیں پھیلی، اگرچہ عوامی مقامات پر عریانی اب صرف بورژوا طبقے کے ممبروں تک ہی محدود نہیں تھی۔

مشرقی جرمنی کی کمیونسٹ ڈیموکریٹک جمہوریہ میں سفر، ذاتی آزادیوں اور صارفین کے سامان کی فروخت پر عائد پابندیوں کی روشنی میں برہنہ جسم کی ثقافت حفاظت کا ذریعہ بن چکی ہے یعنی ریاست کی جانب سے عائد کردہ سخت پابندیوں کی وجہ سے لوگوں کے تناؤ اور دباؤ کی روک تھام کا راستہ اور کچھ ’تحریک آزادی‘ فراہم کرنے کا ذریعہ۔

جرمنی
،تصویر کا کیپشنجرمنی میں متعدد ساحلوں اور پارکس میں عریانی مذہب کی ثقافت رائج ہے

ان برسوں میں مشرقی جرمن میں باغی پولیس کے گشتوں پر نگاہ رکھتے ہوئے ساحل پر ننگے بیٹھے رہے، جب تک کہ 1971 میں، جب ایرک ہنکر برسر اقتدار آئے، تو پھر سے سرکاری طور پر ایک بار پھر عریانی کی اجازت دی گئی۔ بیرکمپفر کے مطابق ہنکر دور کے دوران، مشرقی جرمنی نے ملکی اور خارجہ امور میں کھلی پالیسیاں اپنانے کا عمل شروع کیا، جو خود کو بیرونی دنیا کے لئے زیادہ قابل قبول بنانے کا ایک طریقہ تھا۔

مشرقی جرمنی کے باشندے ابتدائی برسوں میں جرمن پولیس اہلکاروں کی عدم موجودگی میں چپکے چپکے برہنہ غسل لیتے رہے تاہم 1971 میں ایرک ہنکر نے اقتدار سنبھالنے کے بعد باضابطہ طور پر برہنہ ہونے کی ثقافت کی اجازت دے دی۔

باؤرکمبر کا کہنا ہے کہ جمہوریہ مشرقی جرمنی نے ہنکر کے دور میں نیوڈازم کے لیے عالمی منظوری حاصل کرنے کے لیے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر کھلی پالیسیاں اپنانا شروع کیں۔

جرمنی
،تصویر کا کیپشن1970 اور 1980 کی دہائی میں مشرقی جرمنی کی سخت حکومت نے اپنے آپ کو ایک آزاد ملک کی حیثیت سے دنیا کے سامنے ظاہر کرنے کے لیے عوام کو برہنہ ہونے کی اجازت دی

باؤر کمبر کا کہنا ہے کہ ’جمہوری مشرقی جرمنی نے ایک لبرل معاشرے کی حیثیت سے اس کے لیے ایک قسم کے پروپیگنڈے کے طور پر عریانی کی حوصلہ افزائی کی۔‘

لیکن 1990 میں مشرقی اور مغربی جرمنی کے اتحاد کے بعد نیوڈازم کی ثقافت آہستہ آہستہ کم ہو گئی اور سابقہ ​​کمیونسٹ مشرقی جرمنی میں پابندیاں ختم کر دی گئیں۔ 1970 اور 1980 کی دہائی میں، کیمپ، ساحل اور پارکس سینکڑوں ننگے افراد سے بھرے ہوئے تھے۔

2019 میں جرمن ایسوسی ایشن فار فری باڈی کلچر کے مطابق ان کے ممبروں کی تعداد 30،000 کے قریب تھی اور ان میں سے بیشتر کی عمریں 50 سے 60 کے لگ بھگ تھیں۔

برہنہ جسم کی ثقافت اب بھی جرمن ثقافت کو متاثر کرتی ہے، خاص طور پر سابقہ ​​مشرقی جرمنی میں اور بعض اوقات اس کے ممبروں کی خبریں سرخیاں بن جاتی ہیں۔ اس سال اخبارات میں برلن کی ایک جھیل میں ایک برہنہ شخص کی خبر شائع ہوئی تھی، جو اپنا لیپ ٹاپ بیگ لے کر بھاگنے والے جنگلی سؤر کا پیچھا کرنے پر مجبور ہوئے۔

جرمنی

درحقیقت ایف کے کے اور جرمنی میں نیوڈازم کی طویل روایت نے ملک بھر میں برہنہ ہونے کے مقامات کے لیے رواداری پیدا کی اور عوامی مقام پر بے لباسی کو صحت کی ایک قسم قرار دیا گیا۔ میں نے دیکھا کہ ایف کے کے مقامات تلاش کرنے میں مشکل نہیں ہوتی اور انھیں صحت کے مقاصد سے وابستہ قرار دیا جاتا ہے۔

کچھ جگہوں پر جرمنی کے ایسے ساحل اور پارکوں کی ایک فہرست موجود ہے جہاں لوگ برہنہ ناچتے، سوتے اور دھوپ سینک سکتے ہیں یا جنگلات میں ننگے پہاڑ چڑھ سکتے ہیں۔ یہ لوگ برلن کے ایڈولف کوچ سپورٹس کلب میں جا سکتے ہیں اور برہنہ یوگا، والی بال، بیڈ منٹن اور ٹیبل ٹینس کا تجربہ کر سکتے ہیں۔

بہت سے طریقوں سے عریانیت کی ثقافت کی وراثت مسافروں کو ان اقدار کی بصیرت فراہم کرتی ہے جو مشرقی جرمنوں کو متحد کرتی ہیں۔

سلوا سٹرنکوف بچپن سے ہی مشرقی جرمنی میں نیوڈ ساحلوں پر لگاتار آ رہی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ انھوں نے اس ثقافت سے کچھ اقدار حاصل کیں جو وہ اپنے بچوں کو منتقل کرتی ہیں ’خاص طور پر جرمنی میں کسی بھی جسمانی کمی کے باوجود جسم کو قبول کرنے کی آمادگی۔‘

’میرے خیال میں اس ثقافت کی جڑیں مشرقی جرمنی میں میری نسل کے شعور میں موجود ہوئی ہیں۔‘

جرمنی

’میں اسے اپنے بچوں تک پہنچانے کی کوشش کرتی ہوں تاکہ وہ اپنے جسم کو قبول کریں اور اسے ظاہر کرنے یا عوامی طور پر برہنہ ہونے پر شرمندہ نہ ہوں۔‘

سٹرنکوف کا خیال ہے کہ ’ننگے جسموں کو اس طریقے سے دیکھنا جبلت یا خواہشات کو جنم نہیں دیتا بلکہ لوگوں کے اندر دیکھنے اور سیکھنے میں مدد دیتا ہے نہ کہ ظاہری شکل کو۔ اپنے کپڑے اتارنے پر، آپ کو صرف جسم ہی نہیں فرد نظر آتا ہے۔‘

’اگر آپ لوگوں کو برہنہ دیکھنے کی عادت ڈالتے ہیں تو آپ ان کی ظاہری شکل و صورت کے بارے میں کم ہی سوچیں گے۔ میرے خیال میں یہ ثقافت مشرقی جرمنی میں مزید پھیل گئی ہے۔ ہم لوگوں کو ان کی ظاہری شکل سے نہیں پرکھتے بلکہ ہم ہمیشہ اندر دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.

error: