بلاول ، مخدوم کی ’’وہ دن‘‘ یاد دلانے کی کوشش

شاہ محمود قریشی صاحب کے لئے ہرگز ضروری نہیں کہ قومی اسمبلی میں اگر سپیکر اسد قیصر کی غیر جانب داری کی بابت سوال اٹھیں تو وہ سینہ تان کر انہیں ’’دشمنوں سے بچانے‘‘ کھڑے ہوجائیں۔

 ملتان کی ایک طاقت ور ترین روحانی گدی پر فائز مخدوم صاحب کو مگر یہ غلط فہمی لاحق ہے کہ وہ مائیک سنبھالیں تو اپوزیشن کی صفوں میں کھلبلی مچ جاتی ہے۔ کئی اقتدار پرست سیاست دانوں کی طرح موصوف نے اپنے کیرئیر کا آغاز نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ سے کیا تھا۔ نواز شریف کی پہلی حکومت اپنی آئینی مدت مکمل نہ کرپائی تو 1993میں قبل از وقت انتخاب ہوئے۔محترمہ بے نظیر بھٹو کا وزارت عظمیٰ کے منصب پر لوٹنا مذکورہ انتخاب کے نتیجے میں دیوار پر لکھا نظر آرہا تھا۔مخدوم صاحب لہٰذا پیپلزپارٹی میں چلے گئے۔وہاں کئی برس گزارنے کے بعد بالآخر نذرِ تحریک انصاف ہوئے۔ سیاسی جماعتوں کے حوالے سے گویا انہوں نے ہر گھاٹ کا پانی پی رکھا ہے۔

اسی باعث اس گماںمیں بھی مبتلا رہتے ہیں کہ تحریک انصاف کی مخالف جماعتوں کی ’’اصل اوقات‘‘ سے وہ بخوبی واقف ہیں۔ انہوں نے زبان کھولی تو ان جماعتوں کے رہ نما کسی کو منہ دکھانے جوگے نہیں رہیں گے۔ مذکورہ گماں سے مغلوب ہوئے بدھ کی صبح شاہ محمود قریشی صاحب نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر بلاول بھٹو زرداری کا ’’مکو ٹھپنے‘‘کا فیصلہ کیا۔ چال مگر الٹی پڑگئی۔

پیپلز پارٹی کے جواں سال چیئرمین کو طیش دلاکر وزیر خارجہ نے بلاول بھٹو زرداری کو بلکہ ایسا لہجہ اور زبان استعمال کرنے کو مجبور کردیا جس کی مجھے توقع نہیں تھی۔محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے اکلوتے فرزند کو مادرانہ شفقت سے بگاڑا نہیں بلکہ حیران کن حد تک خلیق،مہذب اور مؤدب بنانے کی کوشش کی ہے۔سیاست مگر بہت ظالم شے ہے۔ نفاست اس کھیل میں کمزوری شمار ہوتی ہے۔مجھے شبہ ہے کہ گزشتہ چند مہینوں سے بلاول بھٹو زرداری بھی ہر صورت نفاست برقرار رکھنے سے اُکتا چکے ہیں۔

بدھ کی صبح انہوں نے جارحانہ انداز میں شاہ محمود قریشی کو ’’وہ دن‘‘ یاد دلانے کی کوشش کی جب وہ پیپلز پارٹی میں متحرک ہوا کرتے تھے۔ ملتان ہی کے یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ان کی دیرینہ عداوت کا بھی ذکر ہوا۔اس کا ذکر کرتے ہوئے بلاول نے ’’پرخلوص‘‘ انداز میں عمران خان صاحب کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے وزیر خارجہ کے ٹیلی فون پر کڑی نگاہ رکھنے کو یقینی بنائیں۔مبینہ طورپر اپنی عادت کے عین مطابق قریشی صاحب موجودہ وزیر اعظم کی جگہ لینے کی سازشوں میں مصروف ہوں گے۔عمران صاحب کو بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے دیامشورہ مخدوم صاحب کے دل پر نشتر کی طرح لگا۔تلملاکر ایک بار پھر مائیک سنبھال لیا اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین کو ’’وہ دن ‘‘ یاد دلانے کی کوشش کی جب وہ اپنی والدہ کے لاڈلے طفل تھے اور بقول شاہ صاحب ’’پیزا کھانے ‘‘کی ضد میں مبتلا رہتے تھے۔

’’وہ دن‘‘ یاد دلاتے ہوئے شاہ محمود قریشی صاحب نے بلاول بھٹو زرداری کو یہ مشورہ دینے کی کوشش کی کہ اپنی عمر کے مطابق عمل کریں۔سیاست میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے طویل تجربہ درکار ہوتا ہے۔بلاول کو سرجھکائے تجربے کی بھٹی سے کئی برس تک گزرنا ہوگا۔شاہ صاحب کی ’’بزرگانہ رعونت‘‘نے پیپلز پارٹی کے کئی اراکین اسمبلی کو اشتعال دلادیا۔وہ اپنی نشستیں چھوڑنے کے بعد وزیر خارجہ کی نشست کے سامنے کھڑے ہوکر ان کے خلاف نعرہ بازی کو بے تاب نظر آئے۔بلاول بھٹو زرداری نے مگر انہیںحکومتی بنچوں کی جانب بڑھنے سے روک دیا۔ مشتعل اراکین فقط اپنے ’’علاقے‘‘ تک محدود ہوئے شاہ صاحب پر فقرے کستے رہے۔ ان کی جانب سے مچائے شور کی وجہ سے پریس گیلری میں بیٹھے ہوئے مجھے مخدوم صاحب کا کہا ایک فقرہ بھی سنائی نہیں دیا۔ حکومتی بنچوں نے بھی ’’مشکل‘‘ کی اس گھڑی میں وزیر خارجہ کوتقریباََ تنہا ہی دکھایا۔ ان کے چہرے پر بے بسی اور شرمندگی نمایاں رہی۔ مجھے یہ دیکھتے ہوئے ترس نہیں آیا۔لاہور کی گلیوں میں سیکھا ’’ہور چوپو‘‘ یاد آتا رہا۔

بلاول بھٹو زرداری اور شاہ محمودقریشی کے مابین توتکار ختم ہوئی تو پریس لائونج میں بیٹھ گیا۔وہاں ایک صوفے پر اکیلے بیٹھے مجھے بھی ’’ایک دن‘‘ شدت سے یاد آنا شروع ہوگیا۔سوچ رکھا تھا کہ اگر ملکی سیاست اور اس کے اہم کرداروں کے بارے میں کوئی کتاب لکھی تو اس میں بیان کروں گا۔ عمر مگر اب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔آنکھوں کی تکلیف قابو میں تو آچکی ہے مگر لکھنے پڑھنے میں طوالت تھکادیتی ہے۔ کتاب لکھنے کے لئے جو یکسوئی درکار ہے وہ مجھ ایسے ذات کے رپورٹر کو ویسے بھی میسر نہیں رہی۔ میرا خیال ہے کہ اس کالم میں ’’الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال‘‘ وقتاََ فوقتاََ بیان کرتے ہوئے دل ودما غ میں جمع ہوئی یادوں سے نجات حاصل کرلوں۔

ہوا یہ تھا کہ صدر منتخب ہوجانے کے بعد آصف علی زرداری جس صبح ایوان صدر پہنچ کر اپنا دفتر سنبھالنے والے تھے تو مجھے اپنے ساتھ لے جانے کا فیصلہ کیا۔ آصف صاحب کی خواہش نے مجھے حیران کردیا۔ایوان صدر میں دفترسنبھالنے کا دن میری دانست میں ان کے سیاسی کیرئیر کا اہم ترین دن تھا۔ اس دن فقط مجھے اپنے ہمراہ لے جاکر صدر پاکستان کے دفتر میں پہلی بار داخل ہونا میرے لئے بہت اعزاز کا باعث تھا۔اس دن ملی عزت کو مرتے دم تک فراموش نہیں کرسکتا۔

بہرحال جب آصف علی زرداری صدر پاکستان کی کرسی پر براجمان ہوگئے تو مجھ سے پرخلوص مبارکباد وصول کرنے کے بعد اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں ان کا ترجمان بن جائوں۔ میرے پائوں تلے زمین کھسک گئی۔ روایتی اقدار کے حوالے سے یہ میرے لئے مشکل ترین لمحہ تھا۔ اس شخص سے انکار کا اظہار کرنے کو مناسب لفظ نہیں مل رہے تھے جو اپنے سیاسی کیرئیر کے اہم ترین دن مجھے اپنے ہمراہ لے کر صدر پاکستان کے دفتر میں پہلی بار داخل ہوا تھا۔

ربّ کا صد شکر۔ تھوڑی دیر بعد میرے اندر موجود ڈھٹائی انگڑائی لے کر بیدار ہوگئی۔ میں نے بہت احترام سے صدر پاکستان کو بتایا کہ میں نے تاحیات صحافی رہنے کا فیصلہ کررکھا ہے۔ اپنے دوسرے دور حکومت میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی خواہش تھی کہ میں پی ٹی وی کا ایم ڈی بن جائوں۔میں نے صحافت کی محبت میں انکار کردیا تھا۔ آصف صاحب کو بہت احترام سے بالآخر بتایا کہ میں نے محترمہ کی خواہش کا بھی سرکاری ملازمت کے حوالے سے احترام نہیں کیا تھا۔ وہ یہ توقع نہ رکھیں کہ ان کی شہادت کے بعد میں صدر زرداری کی دی ہوئی نوکری قبول کرلوں گا۔ آصف صاحب کے پاس یہ بات سن کر کوئی دلیل باقی نہ رہی۔

وہ میری بات سمجھ گئے تو میں نے نہایت سوچ بچار کے بعد انہیں بتایا کہ اپنے دور صدارت میں انہیں افغانستان کی وجہ سے پاکستان پر مسلط دہشت گردی کو نمایاں رکھنے کے لئے عالمی میڈیا سے بھرپور رابطہ رکھنا ہوگا۔ اس لئے ان کا ترجمان وزارتِ خارجہ سے آیا کوئی ذہین اور محنتی افسر ہونا چاہیے۔ انہیں میرامشورہ پسند آیا۔ استفار کیا کہ میرے ذہن میں کسی افسر کا نام ہے۔ میں نے لاعلمی کا اظہار کرنے کے بعد ان سے درخواست کی کہ وہ سیکرٹری خارجہ سے ممکنہ ترجمان تعین کرنے کیلئے اس وزارت کے افسروں کی فہرست طلب کرسکتے ہیں۔آصف صاحب نے ترنت گرین فون اٹھاکر اپنے پرنسپل سیکرٹری کو حکم دیا کہ فارن سیکرٹری سے بات کروائی جائے یہ حکم صادر کرنے کے چند ہی لمحوں بعد انہوں نے دوبارہ فون اٹھا کر پرنسپل سیکرٹری کو ’’رہنے دو‘‘ کہتے ہوئے فون بند کردیا۔

میں حیران ہوگیا۔ بے تکلفی سے پوچھا کہ یہ کیا انداز ہے۔ آصف علی زرداری فوراََ بولے ’’تمہیں یاد نہیں آج کل ہمارا وزیر خارجہ کون ہے؟‘‘ میں نے شاہ محمود قریشی کا نام لیا تو مسکرادئیے۔ ’’مجھے خبر ہے‘‘ انہوں نے مختصر جواب دیا اور تھوڑے وقفے کے بعد بتانے لگے کہ ’’وہ (قریشی)عجیب آدمی ہے۔ نجانے ہر وقت کیوں اس فکر میں مبتلا رہتا ہے کہ اس کی وزارت میں مداخلت ہوتی ہے۔ میں وزارتِ خارجہ سے اپنا ترجمان لے کر اس کی پریشانی میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔‘‘

ایوان صدر سے اپنے گھر تک لوٹتے ہوئے یہ فقرہ میرے ذ ہن میں گونجتا رہا۔ اپنے گھر کے دروازے تک پہنچنے سے تھوڑی دیر قبل ہی مگر طے کرلیا کہ شاہ محمود قریشی پیپلز پارٹی کی حکومت میں طویل عرصہ گزارنہیں پائیں گے۔ بالآخر ریمنڈ ڈیوس ہوگیا اور میرا اندازہ درست ثابت ہوا۔