بلاول نے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اپوزیشن امیدواروں کو ووٹ نہ دینے کا تاثر مسترد کردیا

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز ہونے والے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز کی جانب سے اپوزیشن کے امیدواروں کو ووٹ نہ دینے کے تاثر کو مسترد کردیا۔

میڈیا سے غیررسمی گفتگو کے دوران چیئرمین پیپلزپارٹی سے جب پوچھا گیا کہ اس طرح کی اطلاعات ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے امیدواروں کے لیے ووٹ نہیں دیا تو اس پر بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ 'سب نے وفا کی'۔

انہوں نے کہا کہ مجھے پتا ہے، ہم سب کو پتا ہے کہ ہم پی ڈی ایم کے متحد ہونے کی وجہ سے (سینیٹ کی نشستیں) جیتیں، مزید یہ کہ ہم اسی لیے اتنے ووٹ حاصل کرسکے کہ سب نے وفا کی سب نے ساتھ دیا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ گزشتہ سینیٹ انتخابات میں جو داغ لگا تھا اپوزیشن کے سینیٹر نے وہ داغ حالیہ انتخابات میں اپنے کردار سے دھو دیا۔‎

واضح رہے کہ 12 مارچ کو ایوان بالا میں عددی اکثریت کے باوجود اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدواروں کو چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب پر شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے ایوان بالا کے 98 اراکین نے ووٹ دیئے تھے، حکومتی اتحاد کے چیئرمین سینیٹ کے امیدوار صادق سنجرانی کو 48 ووٹ ملے تھے جبکہ ان کے مد مقابل یوسف رضا گیلانی کو 42 ووٹ ملے تھے اور ان کو ملنے والے 7 ووٹوں کو مسترد کردیا گیا جبکہ ایک ووٹ دونوں اُمیدواروں کے لیے نشان زدہ ہونے پر مسترد ہوا تھا۔

علاوہ ازیں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی نشست کے لیے حکومتی امیدوار مرزا محمد آفریدی کو 54 ووٹ ملے تھے جبکہ اپوزیشن کے عبدالغفور حیدری کو 44 ووٹ ملے تھے اور کوئی بھی ووٹ مستر نہیں ہوا تھا۔

جس پر اپوزیشن کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا اور پی ڈی ایم میں شامل بڑی جماعتوں میں سے ایک پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ ’مریم نواز و دیگر پی ڈی ایم قیادت سے مشاورت کے بعد عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے، ہمارا موقف ہے کہ ہم چیئرمین سینیٹ کا انتخاب جیت چکے ہیں اور یہ الیکشن عوام کی آنکھوں کے سامنے چوری کیا گیا، ہمیں امید ہے کہ عدالت سے انصاف ملے گا اور ہائی کورٹ ہمارے حق میں فیصلہ دے گی، عدالت سے انصاف پر مبنی فیصلہ آیا تو وہ پی ڈی ایم اور یوسف رضا گیلانی کے حق میں ہوگا'۔

وہیں پیپلزپارٹی کے رہنما رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہمارے پاس دو آپشنز موجود ہیں، یا تو ہم عدالت میں جائیں گے یا صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں گے۔

ووٹ مسترد ہونے کا تنازع

ایوان میں پریزائیڈنگ افسر مظفر حسین شاہ نے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد کہا تھا کہ یوسف رضا گیلانی کے 7 ووٹ مسترد ہوئے ہیں کیونکہ ان میں خانے کی جگہ یوسف رضا گیلانی کے نام پر مہر لگی ہوئی تھی جبکہ ایک بیلٹ پیپر پر دونوں امیدواروں کے حق میں ووٹ دیا گیا تھا جس کے باعث اسے مسترد کیا گیا، اس طرح مجموعی طور پر 8 ووٹ مسترد ہوئے۔

تاہم یوسف رضا گیلانی کے پولنگ ایجنٹ فاروق ایچ نائیک نے مسترد ہونے والے 7 ووٹوں کو چیلنج کیا تھا۔

انہوں نے پریزائیڈنگ افسر کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ میں نے کہا تھا کہ کمیٹی بنائیں لیکن آپ نے میری بات نہیں سنی، رولز میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ مہر کس جگہ لگائیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ جن ووٹوں کی بات کر رہے ہیں ان میں مہر خانے کے اندر لگی ہوئی ہے باہر نہیں۔

صادق سنجرانی کے پولنگ ایجنٹ محسن عزیز نے کہا تھا کہ رولز میں یہ نہیں لکھا کہ امیدوار کے نام کے اوپر مہر لگائی جائے، لکھا ہوا ہے نام کے سامنے خانے میں مہر لگائیں۔

بعد ازاں پریزائیڈنگ افسر نے رولنگ دیتے ہوئے ان 7 ووٹوں کو مسترد کردیا تھا اور فاروق نائیک سے کہا تھا کہ آپ ٹربیونل سے رجوع کر لیں۔