بلاول نے 'پی ڈی ایم' کا شوکاز نوٹس پھاڑ دیا

اپوزیشن کی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی قسمت ڈانواں ڈول ہوگئی ہے کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اتحاد کی جانب سے پارٹی کو جاری کردہ اظہار وجوہ کا نوٹس پھاڑ دیا۔

یہ پی ڈی ایم کے لیے واضح پیغام ہے کہ مستقبل سراسر باہمی احترام پر منحصر ہے۔

 رپورٹ کے مطابق پی ڈی ایم کو ایک دھچکا گزشتہ ہفتے لگا تھا جب عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے اسے 'کچھ پارٹیوں کے ہائی جیک کرنے کی وجہ' سے خیرباد کہہ دیا تھا۔

پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کا اہم اجلاس گزشتہ روز مغرب تک اختتام پذیر ہوجانا تھا لیکن بلاول ہاؤس کی بیٹھک میں متعدد مسائل پر گفت و شنید طویل ہوگئی۔

ملک بھر سے اجلاس میں شرکت کرنے والے پارٹی کے 50 رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سیشن پیر (آج) کو بھی جاری رہے۔

میڈیا کو فراہم کردہ ایجنڈے میں موجود متعدد نکات پر بات چیت ہوئی لیکن سب سے اہم مرحلہ اس وقت آیا جب رہنماؤں کو پی ڈی ایم کی جانب سے جماعت کی حالیہ پالیسیوں پر جاری اظہار وجوہ کے نوٹس کا جواب دینے کے لیے کہا گیا۔

اجلاس میں شریک ایک رہنما نے بتایا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی نے پارٹی رہنماؤں کا مؤقف سننے کے بعد اور اپنا خیال پیش کرنے سے پہلے ہی وہ کاغذ (پی ڈی ایم کا نوٹس) پھاڑ دیا۔

وہ اس حوالے سے کلیئر تھے کہ اپوزیشن جماعتوں کے لیے باہمی احترام ہونا چاہیے اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ کسی آزاد پارٹی کا اس کی پالیسی، نظریات اور حکمت عملی کے لیے احتساب کرے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ناقابلِ برداشت ہے، پی ڈی ایم کے نوٹس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

حالانکہ کئی پارٹی رہنماؤں نے پی ڈی ایم کی حالیہ پالیسیوں اور اقدامات سے اتفاق نہیں کیا، تاہم پیپلز پارٹی نے حتمی فیصلہ لینے سے قبل اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں۔

سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا حتمی فیصلہ اجلاس کے اختتام پر سامنے آئے گا، کچھ پارٹی رہنماؤں کو یقین ہے کہ پی پی پی شاید اے این پی کی طرح فیصلہ نہ کرے۔

قبل ازیں اے این پی نے پی ڈی ایم سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اپوزیشن اتحاد کو اس کے کچھ اراکین نے اپنے مفادات کے لیے ہائی جیک کرلیا ہے۔

اے این پی رہنماؤں نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پی ڈی ایم کے جنرل سیکریٹری شاہد خاقان عباسی کی جانب سے اپنی پارٹی کو جاری کردہ اظہار وجوہ کے نوٹس پر بھی سخت تنقید کی تھی۔

جو سینیٹ میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر منتخب کروانے میں معاونت پر بھیجا گیا تھا۔

error: