بلاگر کے قتل کی سازش کیس میں استغاثہ کی ملزم پر جرح

برطانوی عدالت میں خود ساختہ جلاوطن بلاگر احمد وقاص گورایا کو مبینہ طور پر قتل کرنے کی سازش کے تحت نیدرلینڈز جانے پر 31 سالہ پاکستانی نژاد برطانوی ملزم گوہر خان سے استغاثہ نے سخت جرح کی۔

 رپورٹ کے مطابق گوہر خان کے خلاف مقدمے کی سماعت پیر کو دوسرے ہفتے میں داخل ہوئی۔

ایلیسن مورگن کیو سی کی سربراہی میں استغاثہ نے سوال کیا کہ جب گوہر خان سے کسی کو قتل کرنے کے لیے پاکستان میں مقیم مڈل مین مزمل نے رابطہ کیا تو انہوں نے پولیس کو کیوں نہیں بتایا؟ گوہر خان کیوں پوچھتے رہے کہ کیا اس معاملے یا قتل کا تعلق کسی قرض سے ہے؟ انہوں نے چاقو کیوں خریدا؟ اور انہوں نے نیدرلینڈز میں داخل ہونے کے لیے امیگریشن حکام کو دھوکا دینے کی کوششیں کیوں کیں؟

گوہر خان نے دعویٰ کیا کہ اس کا کسی کو قتل کرنے کا ارادہ کبھی نہیں تھا بلکہ وہ مزمل سے رقم نکلوانا چاہتا تھا کیونکہ مزمل کے پاس اس کی رقم واجب الادا تھی۔

ملزم نے بتایا کہ اس نے اسٹیک، پھل اور روٹی کاٹنے کے لیے چاقو خریدا تھا اور مزمل کو مزید رقم دینے کے لیے راضی کرنے کی غرض سے نیدرلینڈز کا سفر کیا۔

اس نے دعویٰ کیا کہ اس نے جو پیغامات مزمل کو اس آلے، ٹارگٹ اور قتل سے متعلق بھیجے تھے ان کا مقصد صرف اسے یہ تاثر دینا تھا کہ وہ [گوہر خان] قتل کرنے کے لیے سنجیدہ ہے لیکن حقیقت میں وہ صرف پیسہ چاہتا تھا۔

ایلیسن مورگن نے واٹس ایپ اور سگنل کے پیغامات، سی سی ٹی وی فوٹیج اور رسیدوں کے ذریعے واقعات کی ٹائم لائن کے مطابق گوہر خان سے کئی گھنٹوں تک پوچھ گچھ کی۔

انہوں نے زور ڈالتے ہوئے گوہر خان سے سوال کیا کہ اس نے 10.99 یورو میں چاقو کیوں خریدا جبکہ سستے بھی دستیاب تھے اور اس نے اسٹیک کھانے کے لیے چاقو کو استعمال کرنے کا انتظار اگلے دن تک کیوں کیا؟

انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ گوہرخان نے باقی رسیدوں کو ضائع کرنے کے باوجود صرف چاقو کی رسید ہی کیوں اپنے پاس رکھی؟ اور پوچھ گچھ ہونے تک اس نے خود پولیس کو چاقو سے متعلق کیوں نہیں بتایا؟

جس پر گوہر خان نے جواب دیا کہ وہ بھول گیا تھا کیونکہ اسے ٹھیک سے یاد نہیں رہتا۔

ایلیسن مورگن نے گوہر خان سے پوچھا کہ کیا وہ ایک دھوکے باز شخص ہیں، جس پر گوہرخان نے کہا کہ اس نے ایماندار رہنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔

اس جواب پر ایلیسن مورگن نے پوچھا کہ پھر اس نے شیپول ہوائی اڈے پر امیگریشن کو دھوکا دینے کے لیے جعلی پی سی آر ٹیسٹ اور جعلی ریفرنس لیٹر کیوں استعمال کیا؟

استغاثہ آج اپنی جرح جاری رکھے گا اور پھر جیوری کوئی فیصلہ کرنے تک دفاع اور استغاثہ کے بیانات کا جائزہ لے گی۔

گزشتہ سماعتوں میں جیوری کو بتایا گیا تھا کہ کس طرح مزمل نے مبینہ طور پر 2021 میں گوہر خان سے اس کام کے لیے 80 ہزار پاؤنڈ ادا کرنے کی پیشکش کے ساتھ رابطہ کیا تھا جبکہ اس کے ساتھ اس نے اپنے 20 ہزار پاؤنڈز کمیشن کا بھی ذکر کیا تھا۔

یہ واضح نہیں ہے کہ مزمل کس کے لیے کام کر رہا تھا لیکن یہ ثبوت عدالت کو فراہم کردیا گیا ہے کہ 5 ہزار پاؤنڈ ایک پاکستانی بینک اکاؤنٹ میں ادا کیے گئے اور لندن میں ہنڈی کے ذریعے وصول کیے گئے۔

گوہر خان کی پیدائش اور زیادہ تر پرورش برطانیہ میں ہوئی لیکن وہ 13 سال کی عمر میں اسکول جانے کے لیے لاہور چلا گیا تھا اور شریف ایجوکیشن کمپلیکس میں بورڈنگ کے طالب علم کے طور پر رہتا تھا۔

بعد ازاں وہ 2007 میں فائنل امتحان دیے بغیر لندن واپس آگیا تھا کیونکہ زیادہ تر سبق اردو میں دیے جانے کی وجہ سے دشواری کا سامنا تھا۔

گوہر خان 3 بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر ہے، اس کے والدین 70 کی دہائی میں پاکستان سے برطانیہ چلے گئے تھے، وہ لندن میں پیدا ہوا اور پلا بڑھا اور پوری زندگی اپنے فاریسٹ گیٹ والے پتے پر رہائش رکھی۔

گوہر خان شادی شدہ ہے اور اس کے 6 بچے ہیں جن کی عمریں 3 سے 11 سال تک کے درمیان ہیں۔

استغاثہ نے الزام عائد کیا کہ گوہر خان نے گزشتہ سال احمد وقاص گورایا کو قتل کرنے کی سازش کے تحت روٹرڈیم کا سفر کیا تھا، اس نے احمد وقاص گورایا کے گھر کے باہر جاسوسی کی اور اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کے لیے ایک آلہ (چاقو) بھی خریدا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.