بلوچستان کی کابینہ میں خواتین کی عدم شمولیت پر خواتین اراکین برہم

بلوچستان کی نئی کابینہ کو حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والی دو خواتین اراکین اسمبلی نے نہ صرف طنزیہ مبارکباد دی ہے بلکہ یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا وہ خواتین کو نمائندگی نہ دینے پر بلوچستان کی حکومت کو ’طالبان کی حکومت کہیں‘ اور کیا خواتین صرف ’مردوں کے لیے تالیاں بجانے کے لیے‘ اسمبلیوں میں لائی جاتی ہیں؟

طنزیہ مبارکباد دینے اور یہ سوالات اٹھانے والی اراکین بلوچستان اسمبلی بشریٰ رند اور مہ جبین شیران ہیں جنھوں نے نہ صرف بلوچستان کابینہ کے وزرا کی تقریب حلف برداری میں شرکت نہیں کی بلکہ بشریٰ رند نے بلوچستان عوامی پارٹی کی خواتین ونگ کی آرگنائزر کے عہدے سے احتجاجاً استعفیٰ بھی دے دیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو کابینہ میں اس لیے نمائندگی نہیں دی گئی تاکہ مرد اراکین ناراض نہ ہوں۔

تاہم بلوچستان عوامی پارٹی کے ترجمان اور صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران نے خواتین کو نظر انداز کرنے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو پارلیمانی سیکریٹریز کے طور پر حکومت میں نمائندگی دی جا رہی ہے۔

ٹویٹ

آئین کے لحاظ سے بلوچستان میں کتنے اراکین کو کابینہ میں لیا جاسکتا ہے؟

بلوچستان اسمبلی کی کل نشستوں کی تعداد 65 ہے جن میں خواتین کی 11 اور اقلیتوں کے لیے تین نشستیں مخصوص ہیں۔

اٹھارویں آئینی ترمیم سے قبل کابینہ کے اراکین کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں تھی جس کے باعث ماضی میں وزرا اعلیٰ اراکین کی ناراضگی سے بچنے کے لیے ان کی ایک بڑی تعداد کو کابینہ میں شامل کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے۔

لیکن 18ویں آئینی ترمیم کے بعد کابینہ میں 19 اراکین سے زیادہ نہیں رکھے جا سکتے جن میں 14 وزیر اور پانچ مشیر شامل ہوں گے۔

تاہم دیکھنے میں آیا ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد سے بلوچستان میں بننے والی صوبائی حکومتوں میں خواتین کو تاحال کابینہ میں نمائندگی نہیں ملی۔

سنہ 2018 کے عام انتخابات کے بعد جب جام کمال کی حکومت بنی تو انھوں نے بھی کسی خاتون کو کابینہ میں شامل نہیں کیا جبکہ موجودہ حکومت کی کابینہ میں بھی کسی خاتون رکن کو نہیں لیا گیا جس پر نہ صرف خواتین اراکین ناراض ہیں بلکہ مخلوط حکومت میں شامل سب سے بڑی جماعت سے تعلق رکھنے والی بعض خواتین نے اس کا برملا اظہار بھی کیا ہے۔

ٹویٹ

حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والی خواتین کا کیا کہنا ہے؟

19 رکنی کابینہ کی حلف برداری کے فوراً بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مہ جبین شیران اور بشریٰ رند کی طنزیہ ٹویٹس سامنے آئیں۔

مہہ جبین شیران نے کہا کہ 'مردوں کے غلبے پر مبنی کابینہ کو مبارکباد۔ 14 وزرا اور 5 مشیروں میں ایک خاتون بھی نہیں۔ یہ اس بات کی عکاسی ہے کہ پدرشاہی زندہ اور توانا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خواتین کی عوامی اور سیاسی معاملات میں شرکت وقت کا تقاضا ہے۔'

بشریٰ رند نے کہا کہ 'پاکستان کی سب سے بڑی مردانہ کابینہ کو مبارک۔ یہ مرد خواتین کو بااختیار بنانے کی صرف بات کرتے ہیں جبکہ یہ سال پوری دنیا میں خواتین کو بااخیتار بنانے کا سال تھا۔ بلوچستان مردوں کی بالادستی والے معاشرے میں خوب ترقی کرے گا۔'

بشریٰ رند نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کا ہر لحاظ سے حق بنتا ہے کہ ان کو کابینہ میں نمائندگی دی جائے لیکن کابینہ میں ان کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ جام کمال کی حکومت کے خاتمے میں خواتین بھی مرد اراکین اسمبلی سے پیچھے نہیں تھیں تاہم جب کابینہ کی بات آئی تو مرد حضرات نے اس میں صرف اپنے آپ کو جگہ دی۔ 'خواتین کی نمائندگی طالبان کی کابینہ میں نہیں ہے۔ کیا ہم بلوچستان کی حکومت کو بھی طالبان کی حکومت کہیں گے؟‘

جام کمال

ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی آبادی پچاس فیصد سے زائد ہے لیکن جب کابینہ میں ان کی نمائندگی ہی نہیں ہوگی تو ان کے مسائل کو کون کابینہ میں سنجیدگی سے اٹھائے گا؟

انھوں نے پوچھا کہ کیا کہ خواتین مردوں کو ہر معاملے میں صرف ووٹ دینے کے لیے پچاس فیصد ہیں؟

مہ جبین شیران نے کہا کہ کابینہ میں نمائندگی نہ دینے پر خواتین اراکین اسمبلی ناراض ہیں۔

'ناراضگی کی وجہ سے ہم وزرا کی تقریب حلف برداری میں نہیں گئے۔ کیا ہم صرف مرد اراکین کے لیے تالیاں بجانے کے لیے اور ان کو ووٹ دینے کے لیے اسمبلیوں میں آئی ہیں؟‘

انھوں نے کہا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد حکومت پریشر میں ہے اور وزرا اور مشیروں کی تعداد کو نہیں بڑھا سکتی لیکن ’ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے پریشر ہے تو یہ صرف خواتین کے لیے کیوں ہے؟‘

انھوں نے کہا کہ اگر کابینہ میں ’خواتین کو بہت زیادہ نمائندگی نہیں دیتے تو کم از کم ایک خاتون کو وزیر اور ایک کو مشیر ہی رکھ لیا جاتا تو ہم اسی پر خوش ہو جاتے۔ لیکن یہاں تو کسی ایک کو بھی نہیں لیا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’فیصلہ سازی کا اصل فورم کابینہ ہی ہے اور جب اس میں نصف سے زائد آبادی کی نمائندگی ہی نہیں ہوگی تو ان کے مسائل پر کون بات کرے گا؟‘

حکومت کا کیا کہنا ہے؟

بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شامل سب سے بڑی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے ترجمان سردارعبدالرحمان کھیتران نے اس تاثر کو سختی سے مسترد کیا ہے کہ خواتین کی کابینہ میں نمائندگی نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کی وجہ سے کابینہ میں بہت زیادہ وزیر اور مشیر لینے کی گنجائش نہیں ہے تاہم خواتین کو پارلیمانی سیکریٹریز کے طور منتخب کیا جارہا ہے اور ان کا عہدہ وزیر اور مشیر کے برابر ہوگا۔

سردار عبد الرحمان نے بتایا کہ مجموعی طور پر 8 پارلیمانی سیکریٹریز میں سے تین خواتین ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ پارلیمانی سیکریٹریز کے طور پر خواتین کو حکومتی امور سرانجام دینے اور فیصلہ سازی میں بھرپور موقع دیا جائے گا۔

بلوچستان میں حکومتی فورمز میں خواتین کی مناسب نمائندگی کیوں نہیں ہے؟

بشریٰ رند کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں فیصلہ سازی کے حکومتی فورمز سمیت دیگر اداروں میں خواتین کی نمائندگی اس لیے نہیں ہے کہ ’یہاں مردوں کی بالادستی والا معاشرہ ہے‘۔

مہ جبین شیران نے کہا کہ خواتین لیاقت اور قابلیت میں مردوں سے کسی طرح کم نہیں ہیں لیکن یہاں بالادستی کی وجہ سے ’مرد خواتین کے مقابلے میں اپنے آپ کو زیادہ لائق فائق سمجھتے ہیں‘۔

بلوچستان اسمبلی کی سابق سپیکر اور سابق وزیر راحیلہ درانی نے کہا کہ وہ اس پہلو کی طرف نہیں جائیں گی کہ خواتین کی ہر فورم پر نمائندگی کیوں نہیں ہے لیکن خواتین کو کابینہ سمیت ہر فورم پر مناسب نمائندگی ملنی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ یہاں جتنی بھی حکومتیں آئیں ان میں ’نواب رئیسانی کی حکومت نے خواتین کے حوالے سے زیادہ دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین چار خواتین کو وزیر بناکر مکمل محکمے ان کے حوالے کیے‘۔

راحیلہ درانی کا کہنا تھا کہ کم ازکم خواتین کی ترقی کا محکمہ اور محکمہ تعلیم کو تو خواتین کے حوالے کیا جانا چاہیے۔

'مرد وزرا کے پاس ان کے حلقوں کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہر وقت موجود ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ محکموں میں بہتری کی جانب زیادہ توجہ نہیں دے سکتے جبکہ خواتین مخصوص نشستوں پر آئی ہیں اگر ان کے حوالے چند محکمے کیے جائیں تو وہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتی ہیں۔'

سینیئر تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار نے کہا کہ خواتین کی نمائندگی کی راہ میں بلوچستان کا قبائلی معاشرہ بھی آڑے آتا ہے حالانکہ جہاں قبائلی سماج نہیں وہاں پھر بھی خواتین کو کسی نہ کسی حد تک اہمیت دی جاتی ہے۔

'یہاں خواتین ہوں یا دیگر پسے ہوئے طبقات سب کو یہاں کے نظام کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے اور یہی انھیں ان کے جائز مقام، حیثیت کے علاوہ انھیں اختیار دینے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔'

وفاق اور باقی صوبوں میں کیا صورتحال ہے؟

سینیئر تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہر جگہ خواتین کی آبادی کی مناسبت سے کابینہ اور فیصلہ سازی کے دیگر حکومتی فورمز پر نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے تاہم وفاق اور دو صوبوں میں ان کی نمائندگی نام کی حد تک کابینہ میں موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے علاوہ جن دیگر صوبوں میں نام کی حد تک خواتین کی نمائندگی ہے ان میں سندھ اور پنجاب شامل ہیں۔

پارلیمانی سیکریٹریز کی حد تک تو خیبرپختونخوا میں خواتین کو نمائندگی حاصل ہے لیکن جہاں تک وزیر اور مشیر کی حیثیت سے کابینہ میں نمائندگی کی بات ہے تو بلوچستان کی طرح وہاں بھی خواتین کو کابینہ میں نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔