بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی گئی، رائے شماری 25 کو ہوگی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال کے خلاف بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں باقاعدہ تحریک عدم اعتماد پیش کردی گئی ہے جس پر رائے شماری 25 اکتوبر کو ہوگی۔

اگرچہ وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور ناکامی کا انحصار 25 اکتوبر کورائے شماری پر ہے لیکن اس سلسلے میں اسمبلی کے پہلے روز کے اجلاس میں جو اراکین شریک ہوئے ان میں تحریک عدم اعتماد کے حامی اراکین کی تعداد زیادہ تھی۔

تحریک عدم اعتماد کے حامی اراکین نے الزام عائد کیا کہ ان کے چار اراکین کو حراست میں لیا گیا ہے اور اجلاس کے بعد اس کے خلاف انھوں نے اسمبلی کے مرکزی دروازے پر بطور احتجاج دھرنا دیا جو کہ رات گئے تک جاری رہا۔

تحریک عدم اعتماد کے حامی اراکین کا کہنا تھا کہ تحریک پر رائے شماری سے پہلے ہی یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کو ایوان کی اکثریت حاصل نہیں ہے۔ ان میں سے بعض اراکین نے وزیر اعلیٰ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔

تاہم وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مستعفی ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کا مقابلہ کریں گے۔

وزیر اعلیٰ اور ان کے حامیوں نے تحریک عدم اعتماد کو حزب اختلاف کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ناکامی سے دوچار ہوگی۔

اجلاس کے پہلے روز تحریک عدم اعتماد کے حامی اور مخالفین کی تعداد کیا تھی۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے خلاف تحریک حکومتی اتحاد میں شامل وزیر اعلیٰ سے ناراض 14 اراکین نے جمع کرائی تھی۔

تحریک پیش کرنے کے لیے جب بدھ کی شام اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو تلاوت قران کے بعد حکومت میں شامل ناراض رکن سردارعبدالرحمان کھیتران نے وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو پیش کرنے سے متعلق قرارداد کی تحریک پیش کی۔

تحریک پیش کرنے کے بعد سردار عبد الرحمان کھیتران نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے حامی تین خواتین سمیت پانچ اراکین کو مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان اراکین میں بشریٰ رند، مہ جبین شیران، لیلیٰ ترین، حاجی اکبر آسکانی اور لالہ رشید بلوچ شامل ہیں۔

تحریک پیش ہونے کے بعد سپیکر میر عبد القدوس بزنجو نے کہا کہ جو اراکین تحریک عدم اعتماد کو پیش کرنے کی قرارداد سے متعلق تحریک کو پیش کرنے کے حامی ہیں وہ کھڑے ہوجائیں تو ایوان میں موجود اراکین میں سے اس کی حمایت میں 33 اراکین کھڑے ہوگئے۔

تاہم تحریک پیش ہونے کے بعد تحریک عدم اعتماد کے ایک اور حامی رکن لالہ رشید بلوچ ایوان میں آئے جس کے باعث ان کی تعداد 34ہوگئی۔

جبکہ اس تحریک کی مخالفت کرنے والوں میں وزیر اعلیٰ سمیت 19 اراکین شامل تھے۔

چونکہ تحریک کو پیش کرنے کے لیے مطلوبہ سے زیادہ اراکین کی حمایت حاصل تھی اس لیے سپیکر نے اسے منظور کیا جس پر تحریک عدم اعتماد پر بحث کا آغاز ہوگیا۔

ناراض اراکین اور حزب اختلاف کے اراکین کا جام کمال سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی تعداد 65 ہے۔

وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 33 اراکین کی حمایت درکار ہے۔

تحریک عدم اعتماد کے حامی اراکین کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعلیٰ کے خلاف اس تحریک کو اسمبلی کے 38 سے 40 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔

تحریک عدم اعتماد کے حامی حکومتی اراکین کے علاوہ حزب اختلاف کے اراکین نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے جام کمال کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

انھوں نے کہا کہ جام کمال کی حکومت لوگوں کے مسائل کے حل میں بری طرح سے ناکام رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری سے پہلے ہی اسمبلی میں آج صورتحال واضح ہوگئی ہے کہ جام کمال کے پاس اسمبلی کی اکثریت نہیں۔

بعض اراکین نے وزیر اعلیٰ سے فوری طور مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

وزیر اعلیٰ جام کمال کا مستعفی ہونے سے انکار

وزیر اعلیٰ کے حامی اراکین نے بھی بحث میں حصہ لیا۔ انھوں نے تحریک عدم اعتماد کو حزب اختلاف کی سازش قراردیتے ہوئے کہا یہ ناکامی سے دوچار ہوگی۔

حکومتی اتحاد میں شامل عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی رہنما اصغر خان اچکزئی نے استفسار کیا کہ جب وفاق میں کوئی ہلچل ہوتی ہے تو اس سے قبل بلوچستان میں سیاسی حوالے سے عدم استحکام کیوں پیدا کیا جاتا ہے۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے اپنے خلاف الزامات کو مسترد کیا۔

انھوں نے کہا کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے بلکہ اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ اگر رائے شماری پر ان کو ایوان کی اکثریت حاصل نہیں رہی تو وہ وزارت اعلیٰ چھوڑ دیں گے۔

بحث مباحثے کے بعد سپکر نے اجلاس کی کارروائی 25 اکتوبر تک ملتوی کی۔

25 اکتوبر کو جب صبح 11 بجے اجلاس شروع ہوگا تو تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری ہوگی۔

پاکستان

اجلاس کے بعد تحریک عدم اعتماد کے حامی اراکین کا اسمبلی کے مرکزی دروازے پر دھرنا

اجلاس کے ملتوی ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ سے ناراض حکومتی اراکین کے علاوہ حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی کے مرکزی دروازے پردھرنا دیا۔

اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے مخالف حکومتی رکن میر ظہور بلیدی نے کہا کہ جام کمال کی اقلیتی حکومت نے تحریک عدم اعتماد کے حامی چار اراکین کو لاپتہ کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ان اراکین پر تشدد کرکے ان پر یہ دباﺅ ڈالا جارہا ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد کی حمایت ترک کریں۔

سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ ان چاروں اراکین کی رہائی تک وہ اسمبلی کے اندر بیٹھے رہیں گے اور یہاں سے باہر نہیں جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ باہر جانے کی صورت میں دیگر اراکین کو حراست میں لیے جانے کا خطرہ ہے۔

بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ملک اسکندر ایڈووکیٹ نے کہا کہ وہ اپنے چار ساتھیوں کی رہائی تک احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے ۔

انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہر سطح پر احتجاج کے علاوہ وہ ان کی رہائی کے لیے اسمبلی سے بھی رجوع کریں گے۔

تحریک عدم اعتماد کے حامی بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی رہنما اسد بلوچ نے کہا کہ خواتین کو حراست میں لینا کہاں کی روایت ہے۔

تحریک عدم اعتماد کے حامی اراکین نے جن چار اراکین کو حراست میں لینے کا الزام عائد کیا ان سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔

تاہم ان میں سے بشریٰ رند نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ان کی طبیعت خراب ہے اور وہ علاج کی غرض سے اسلام آباد میں ہیں۔

بشریٰ رند نے کہا ہے کہ ان کی صحت یابی کے لیے دعا کی جائے۔

تاہم وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کسی بھی رکن کو لاپتہ کرنے کے الزام کو مسترد کیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا جو اراکین اجلاس میں نہیں آئے وہ اپنی مرضی سے نہیں آئے۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ جو اراکین نہیں آئے ان کا تعلق پی ڈی ایم سے نہیں تھا بلکہ ہماری اپنی جماعت سے تھا اور ان کی طرح ان کے بہت سارے دیگر حامی اراکین بھی آج اجلاس میں نہیں آئے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان اور ان کے حامی پراعتماد دکھائی دے رہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنائیں گے۔

ایوان سے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے جام کمال کے حامی بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر نوابزادہ طارق مگسی نے کہا کہ جب تحریک پر رائے شماری کا وقت آئے گا تو اس وقت اس کے حامیوں کو اکثریت ثابت کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد ناکامی سے دوچار ہوگی۔

تاہم بعض سیاسی مبصرین کی یہ رائے ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ سے ناراض اراکین کی موجودہ تعداد برقرار رہی تو حزب اختلاف کے تعاون سے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں ۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے پارلیمانی رہنما کو تبدیل کرنے کے لیے بھی درخواست دائر

بلوچستان کی مخلوط حکومت میں بلوچستان عوامی پارٹی سب سے بڑی جماعت ہے۔

بدھ کی شب پارٹی سے پارٹی میں وزیر اعلیٰ سے ناراض اراکین نے سپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو کو پارلیمانی رہنما کو تبدیل کرنے کی درخواست دی ہے۔

سپیکر کو جو درخواست دی گئی ہے اس میں یہ کہا گیا تھا کہ میر ظہور بلیدی کو پارٹی کا نیا پارلیمانی رکن مقرر کیا جائے۔

اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سردار عبد الرحمان کھیتران نے کہا کہ پارٹی کے اراکین کی تعداد 24 ہے۔

انھوں نے کہا کہ سپیکر کو اگر نکالا جائے تو پارٹی کے 23 اراکین میں سے 12 وزیراعلیٰ کے خلاف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ پارٹی میں وزیر اعلیٰ جام کمال کے مخالف اراکین اکثریت میں ہیں اس لیے انھوں نے ان کی جگہ پر میرظہور بلیدی کو پارٹی کا نیا پارلیمانی رہنما بنانے کی درخواست اسپیکر کو دی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: